”سیلاب نے ہمیں درس دیا ہے کہ ماضی میں دریاﺅں اورندی نالوں پر جو تعمیر ات کی گئیں ،ان کوتاہیوں کو سیلاب کے ساتھ ڈبو دیں “

”سیلاب نے ہمیں درس دیا ہے کہ ماضی میں دریاﺅں اورندی نالوں پر جو تعمیر ات کی ...
”سیلاب نے ہمیں درس دیا ہے کہ ماضی میں دریاﺅں اورندی نالوں پر جو تعمیر ات کی گئیں ،ان کوتاہیوں کو سیلاب کے ساتھ ڈبو دیں “

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ یہ سیلاب ہمیں یہ بھی درس دے گیا ہے ، ہم نے جو ندیوں اور دریاﺅں میں تعمیرات کی ہیں ، ماضی میں کی گئی کوتاہیاں اس سیلاب کے ساتھ ہی ڈبو دیں ، آئندہ جب تعمیر کریں تو ان ندی نالوں کو پانی کی گزر گاہوں کیلئے چھوڑ دیں تاکہ سیلاب آئے تو وہ تیزی کے ساتھ ڈسچارج ہو کر نکل جائے اور اس پیمانے پر نقصان نہ کرے ۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ملک کے بیشتر علاقوں میں آنے والے سیلاب کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہاہے کہ جاپان میں سونامی آیا تو جاپان کی ساری ترقی اور وسائل قدرتی آفت کے سامنے بے بس نظر آئے ، اسی طرح پاکستان میں بھی اس کا سائز حکومت ، سرکاری اور وسائل کے مقابلے میں بہت بڑا ہے ، لیکن ہمارا عزم بھی بڑا ہے ، اس سے پہلے 2005 میں زلزلہ آیا ، 2010 میں سیلاب آئے ، ہماری قوم نے ثابت کیا کہ وہ اس کا مقابلہ کرنے کیلئے اپنے جذبے پست نہیں ہونے دیتی ، ہم نے مل کر مقابلہ کیا ، اگر ہم اس حادثے کو یہ سمجھیں کہ حکومت تنہا مقابلہ کر لے گی ، مسلح افواج یا صوبائی حکومت تنہا مقابلہ کر لے گی تو یہ ممکن نہیں ، اگر قوم کمر بستہ ہو جائے تو ہم اس پر قابو پا لیں گے ۔ 
کچھ علاقوں میں بارش 1500 ملی میٹر ہوئی ، اوسط بارش 40 ملی میٹر تک ہو تی تھی ، یہ وہ علاقے ہیں جن کا شمار پاکستان کے صوبے سندھ اور بلوچستان میں ہوتا ہے، اس طرح وہاں پر بہت زیادہ اثر پڑا، جنوبی پنجاب ، ڈیرہ غازی خان ڈویژن ، ڈیر ہ اسماعیل خان ، کے پی کے ، نوشہرہ ، چار سدہ ان علاقوں میں بھی سیلاب نے بری طرح متاثر کیا ہے ۔ایک ملین سے زیادہ گھر متاثر ہوئے ہیں، پانچ ہزار کلومیٹر کے قریب سڑکیں متاثر ہیں، صوبہ بلوچستان میں بھی رابطے منقطع ہوئے ہیں، آج سے 15 دن پہلے 14 شاہراہیں جو ملک کے اہم راستے ہیں، جن پر ہماری تجارت ہوتی ہے ، ہمارے ملک کی معیشت میں اہم کردار ہے ، رابطے منقطع ہوئے تھے ، آج ان 14 میں سے ہماری فوج کے انجینئر اور صوبائی انتظامیہ نے مل کر 11 کو بحال کر دیاہے ، 3 اہم ہائی ویز کو بحال کرنے کیلئے دن رات کام جاری ہے اور امید ہے چند دنوں میں بحال ہو جائے گی ۔
ہزاروں ایکڑ اراضی ہے جو سمندر کا نظارہ پیش کررہی ہے ، وہاں مسلح افواج اور انتظامی ادارے کام کر رہے ہیں ، جلد بحالی ہو جائے گی ،پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائڈز آئیں، انہیں بھی تیزی سے ساتھ بحال کیا جارہاہے ۔ڈیزہ غازی خان کو سیلاب اور بارشوں نے بری طرح متاثر کیا ، 54 ہلاکتیں ہوئیں ، لائیو سٹاک اور فصلوں کو نقصان ہوا، بحالی کا کام جاری ہے ،آج سے پندرہ دن پہلے 81 گرڈ سٹیشن خراب ہوئے تھے ان میں سے 69 بحال کر دیئے گئے ہیں، 12 پر دن رات کام ہو رہاہے وہ بھی جلد بحال ہو جائیں گے ۔ 881 فیڈر متاثر ہوئے ، ڈوب گئے ، جس کے باعث بجلی کی ترسیل متاثر ہوئی ، ان میں سے 758 فیڈر بحال کر دیئے گئے ہیں، 123 فیڈرز پر کام جاری ہے ۔
9 ٹرانسمیشن لائنز کے ٹاورز گرے ، جس کے باعث بجلی کی ترسیل کو نقصان ہوا، صوبہ بلوچستان میں بجلی کی ترسیل متاثر ہوئی ، 6 ٹرانسمیشن لائن بحال کر دی گئیں ہیں، 3 ٹرانسمیشن لائنز پر کام جاری ہے ۔
ٹیلی کمیونیکشن کا نظام بھی بری طرح متاثر ہوا، اس کے ٹاور ز بھی ڈوب گئے ، پاور سپلائی متاثر ہوئی ، ساڑھے تین ہزار ٹیلی کمیونیکشن ٹاورز متاثر ہوئے ، جن میں سے صرف 600 ٹاور رہ گئے ہیں جبکہ باقی بحال کر دیئے گئے ہیں ۔موبائل سروس بحال ہونا شروع ہو گئی ہے ، وزیراعظم نے انہیں 48 گھنٹوں میں بحال کرنے کی ہدایت دی ہے ۔
آج وہ لمحہ ہے جب ہم سب کو مل کر اپنے حصے کا فلڈ ریلیف کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کرنا ہے ، ہمارے لیے موقع ہے کہ ایک قوم بن کر اس مشکل سے نکلیں بلکہ پاکستان کی تعمیر نو کی مہم شروع کریں، بستیوں کو دوبارہ بسانے کیلئے نئی تحریک شروع کریں ۔یہ سیلاب ہمیں یہ بھی درس دے گیا ہے ، ہم نے جو ندیوں اور دریاﺅں میں تعمیرات کی ہیں ، ماضی میں کی گئی کوتاہیاں اس سیلاب کے ساتھ ہی ڈبو دیں ، آئندہ جب تعمیر کریں تو ان ندی نالوں کو پانی کی گزر گاہوں کیلئے چھوڑ دیں تاکہ سیلاب آئے تو وہ تیزی کے ساتھ ڈسچارج ہو کر نکل جائے اور اس پیمانے پر نقصان نہ کرے ۔

مزید :

قومی -