عدالت نے 7 سال بعد پی ٹی وی جنسی ہراسانی کیس کا فیصلہ جاری کردیا

عدالت نے 7 سال بعد پی ٹی وی جنسی ہراسانی کیس کا فیصلہ جاری کردیا
عدالت نے 7 سال بعد پی ٹی وی جنسی ہراسانی کیس کا فیصلہ جاری کردیا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ آف پاکستان نے سات سال بعد پی ٹی وی جنسی ہراسگی کیس کا فیصلہ جاری کر دیا۔نیوز ویب سائٹ’پروپاکستانی‘ کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ کی طرف سے لکھے گئے اس 8صفحات پر مشتمل فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس مقدمے میں تمام ملزم کے خلاف ہیں لہٰذا اس کا جرم ثابت ہونے پر اسے تمام متاثرہ خواتین کو فی کس 5لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنا ہو گا۔
رپورٹ کے مطابق 2016ءمیں پی ٹی وی نیوز کی پانچ خواتین کی طرف سے کنٹرولر اطہر فاروق بٹر پر جنسی طور پر ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ ان خواتین نے سپریم کورٹ میں درج کرائی گئی شکایت میں الزام عائد کیا تھا کہ اطہر فارق بٹر نے انہیں نوکری کا جھانسہ دے کر جنسی ہراسگی کا نشانہ بنایا۔ 
تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے ’ورک پلیس ہراسمنٹ تحفظ بل2022ء‘ کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ اس بل میں ہر جنس کو ہراسگی پر شکایت کا حق دینا قابل تعریف ہے۔ امید ہے کہ اس بل میں جو ترامیم کی گئی ہیں ان پر عمل بھی ہو گا اور مستقبل میں خواتین کو کام کی جگہوں پر جنسی ہراسگی سے پاک ماحول ملے گا جو ان کا آئینی حق ہے۔ واضح رہے کہ اطہر فاروق بٹر، جن کے خلاف یہ فیصلہ سنایا گیا ہے، وہ ریٹائرمنٹ کے بعد آج کل کینیڈا میں مقیم ہیں۔