جب نور الدین بامے زئی کو قندھار سے پنجاب کو سزا دینے کےلئے بھیجا گیا 

جب نور الدین بامے زئی کو قندھار سے پنجاب کو سزا دینے کےلئے بھیجا گیا 
جب نور الدین بامے زئی کو قندھار سے پنجاب کو سزا دینے کےلئے بھیجا گیا 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 مصنف: پروفیسر عزیز الدین احمد
قسط:33 
1759ءمیں ابدالی نے پنجاب پر پانچواں حملہ کیا۔ اس مرتبہ اس کا مقابلہ پنجاب کے سکھوں کے ساتھ ہوا۔ لاہور سے باہر لڑی جانے والی اس جنگ میں سکھوں نے2ہزار افغانیوں کو قتل کیا اور جہانے کو بھی زخمی کر دیا لیکن اس کے باوجود میدان ابدالی کے ہاتھ میں رہا اور اس نے ایک مرتبہ پھر لاہور پر قبضہ کر لیا۔اس کے بعد وہ کریم داد خان کو لاہور کا گورنر مقرر کر کے خود مرہٹوں کےخلاف جنگ لڑنے کےلیے پانی پت کی طرف روانہ ہوا۔ 
اس دوران پنجاب میں سکھ مضبوط ہو گئے لاہور کے گورنر کےلئے ان کا مقابلہ کرنا دشوار ہو گیا۔ اسی وجہ سے یکے بعد دیگرے کئی افغان امیروں نے لاہور کی گورنری سے استعفیٰ دیا۔ سکھ سرداروں نے لاہور پر قبضہ کر لیا۔ لیکن یہ اقتدار صرف11 دنوں تک قائم رہا۔افغانستان میں بغاوت کی خبریں سن کر 1761ءمیں احمد شاہ کابل واپس ہوا۔ اٹک تک سارے راستے سکھ اس کی فوج پر چھوٹے چھوٹے گروہوں کی شکل میں حملے کرتے رہے۔ 
1762ءمیں ابدالی نے پنجاب پر پھر حملہ کیا پچھلے ایک سال کے عرصے میں سکھوں نے ابدالی کے مقرر کیے ہوئے صوبیداروں کے خلاف ہر طرف بغاوت کی آگ بھڑکائے رکھی تھی۔ جب سکھ فوج احمد شاہ کو اٹک تک پہنچا کر پلٹی تو اس نے ابدالی کے 4 محل کے گورنر خواجہ مرزا جان کو شکست دے کر ہلاک کر دیا۔ 
اس عرصہ میں ایک اور افغان جرنیل بھی پنجابیوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس کا نام نور الدین بامے زئی تھا۔ اسے پنجاب کو سزا دینے کے لیے قندھار سے بھیجا گیا تھا اور اس نے آتے ہی بھیرہ، میانی اور چک سانو کے قصبوں پر حملہ کر کے انہیں آگ لگا دی تھی۔ نور الدین بامے زئی جب آگے بڑھا تو گوجرانوالہ کے قریب اس کا آمنا سامنا سردار چڑھت سنگھ سکر چکیہ سے ہوا۔ نور الدین کو شکست ہوئی اور وہ میدان جنگ سے فرار ہو کر سیالکوٹ میں قلعہ بند ہو گیا۔ اردگرد کی آبادی نے اس کا دانا پانی بند کر دیا۔ افغان محصور فوج اور ان کے گھوڑے جب بھوکے مرنے لگے تو نور الدین رات کی تاریکی میں جموں کی طرف فرار ہو گیا۔ افغان فوج نے سکرچکیہ سردار کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔ اس نے افغان فوجیوں کو پٹھانوں کی ریت کے برعکس امن و امان کے ساتھ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ جانے کی اجازت دے دی۔ 
ابدالی کی جانب سے مقرر کیے گئے لاہور کے گورنر خواجہ عبید اللہ خان کو جب یہ اطلاعات پہنچیں تو اس نے گوجرانوالہ پر چڑھائی کر دی۔ افغان فوج کے مقابلے میں سکھ سردار اکٹھے ہو گئے۔ جساسنگھ اہلووالیہ، ہری سنگھ بھنگی، جے سنگھ کانہیا، لہنا سنگھ، سوبھا سنگھ اور گوجر سنگھ متحد ہو گئے۔ خواجہ عبید اللہ خان کے لشکر میں شامل مقامی لوگ بھی باغی ہو کر اس کا ساتھ چھوڑ گئے۔ افغان گورنر پریشانی کے عالم میں توپ خانہ چھوڑ کر میدان جنگ سے بھاگ نکلا اور لاہور میں قلعہ بند ہو گیا۔ سکھ سرداروں نے لاہور پر قبضہ کر کے جساسنگھ اہلووالیا کے حاکم ہونے کا اعلان کر دیا اور اس کے نام کا سکہ جاری ہوگیا۔ اس کام سے فارغ ہو کر انہوں نے جالندھر دوآب سے افغان صوبیدار اور فوجداروں کو نکال کر سارے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح اٹک سے لے کر ستلج کے کنارے تک پنجاب کا سارا علاقہ سکھوں کے قبضے میں آ گیا۔ ابدالیوں کے قبضے میں اکا دکا قصبے رہ گئے۔ ان میں سے ایک قصبہ جنڈیالہ تھا جو امرتسر کے قریب واقع ہے۔ عاقل داس ہندو ابدالی کی جانب سے یہیں حاکم مقرر تھا۔ جب سکھ فوج نے عاقل داس کی سرکوبی کا ارادہ کیا تو اس نے ابدالی سے مدد کےلیے درخواست کی۔ ( جاری ہے ) 
نوٹ : یہ کتاب ” بُک ہوم“ نے شائع کی ہے ۔ ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔(جملہ حقوق محفوظ ہیں )۔

مزید :

ادب وثقافت -