وہ اس کے سینے پر سر رکھے یوں سمٹی ہوئی تھی جیسے چھپنا چاہتی ہو

 وہ اس کے سینے پر سر رکھے یوں سمٹی ہوئی تھی جیسے چھپنا چاہتی ہو
 وہ اس کے سینے پر سر رکھے یوں سمٹی ہوئی تھی جیسے چھپنا چاہتی ہو

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

مصنف : اپٹون سنکلئیر
ترجمہ :عمران الحق چوہان 
 قسط:5
لوگوں نے فوراً جوڑ ے بنا لیے اور پورا کمرہ حرکت میں آ گیا۔کسی کو نہیں پتا تھا کہ والز کیسے ناچا جاتا ہے لیکن اس بات کی کوئی اہمیت نہیں تھی۔ موسیقی تھی اور جیسے ان کا دل چاہ رہا تھا، وہ ناچ رہے تھے،جس طرح کچھ دیر پہلے وہ گا رہے تھے۔ نوجوان جدید رقص کر رہے تھے جب کہ بوڑھے اپنے دیس کا روایتی رقص کر رہے تھے۔ بعض کو ناچنا آتا ہی نہیں تھا، وہ بس ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے اپنے قدموںپر کھڑے ہل ہل کر مسرت کا اظہار کر رہے تھے۔ انہی میں یعقوبس شویلاس اور اس کی بیوی لوسیا بھی تھے جو کھانے کی دکان چلا تے تھے۔ ان کی اپنی خوراک دکان کی مجموعی فروخت کے برابر تھی۔ وہ اتنے موٹے تھے کہ ناچنا تو در کنار ان کےلئے ہلنا بھی مشکل تھا لیکن پھر بھی وہ سب کے درمیان ایک دوسرے کو بانہوں میں تھامے، بے دانت کے چہروں پر مشقت کا تاثر لیے جھول رہے تھے۔
بزرگوں میں سے بہت سوں نے ایسے کپڑے پہنے ہوئے تھے جن میں اپنے وطن کی جھلک نظر آتی تھی۔کڑھی ہوئی واسکٹیں،شوخ رنگوں کے رومال، یا بڑے کفوں والے اور خوشنما بٹنوں والے کوٹ۔نوجوانوں نے ان سب چیزوں سے ارادتاً احتراز کیا تھا۔ ان میں اکثر انگریزی بولنا اور نئے فیشن کا استعمال سیکھ چکے تھے۔ لڑکیوں نے سلے سلائے کپڑے پہن رکھے تھے اور ان میں سے بعض پیاری بھی لگ رہی تھیں۔کچھ نوجوان تو دیکھنے میں بالکل امریکی لگ رہے تھے،مقامی کلرکوں جیسے۔ فرق صرف یہ تھا کہ اِنھوں نے کمرے میں ہیٹ اوڑھے ہوئے تھے۔ ان نوجوان جوڑوں کا ناچنے کا بھی اپنا ہی انداز تھا۔کچھ نے ایک دوسرے کو مضبوطی سے پکڑا ہوا تھا، کچھ کے انداز میں جھجک تھی، کچھ نے بازو پھیلا رکھے تھے اور کچھ نے لٹکا رکھے تھے، کچھ اچھل رہے تھے تو کچھ دھیرے دھیرے ڈولتے تھے، کچھ کی حرکات میں وقار تھا۔ کچھ جوڑے بہت پر جوش تھے اور سارے کمرے میں دھکم پیل کرتے ہوئے اودھم مچا رہے تھے۔جو جوڑا بن گیا تھا وہ مستقل ہوگیا تھا پھر ان میں کوئی ردّوبدل نہیں ہوا تھا۔مثلاً الینا ساری رات یوزاس کے ساتھ ہی ناچتی رہی جس کے ساتھ اس کی نسبت طے ہو چکی تھی۔ الینا سب سے زیادہ خوب صورت لگ رہی تھی، اگر وہ مغرور نہ ہوتی تو واقعی حسین تھی۔ اس نے سفید سوٹ پہن رکھا تھا جو آدھا ہفتہ ڈبے پینٹ کرنے کی مشقت کا ثبوت تھا۔وہ اپنی سکرٹ اٹھائے شہزادیوں کی طرح بڑے وقار اور مہارت کے ساتھ ناچ رہی تھی۔یوزاس خود بھی ڈرہم کے علاقے میں ویگن چلا تاتھا اور کافی کما لیتا تھا۔وہ ساری رات ہیٹ کو سر پر ترچھا جمائے اورسگریٹ ہونٹوں میں دبائے خود کو اکھڑ ثابت کرنے میں جُٹا رہا۔ پھر یادویگا تھی جو خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ نرم خو بھی تھی۔ وہ بھی ٹین کے ڈبے (cans) پینٹ کرتی تھی۔ گھر میں معذور ماں اور تین چھوٹی بہنوں کی ذمہ داری بھی اسی پر تھی اس لیے وہ نئے کپڑوں پر پیسے خرچ نہیں کر سکتی تھی۔ وہ کالی آنکھوں اور کالے بالوں والی دبلی اور نازک سی لڑکی تھی۔اس نے بالوں کو گرہ لگا کر سمیٹا ہوا تھا اور اپنے ہاتھ کا سلا ہوا سفید جوڑا پہن رکھا تھا جسے وہ پچھلے 5 سال سے تقریبات میں پہن رہی تھی۔یہ لباس اب کچھ چھوٹا ہو چلا تھا لیکن یادویگا کو اس کی پروا نہیں تھی۔ وہ اپنے میکولاس کے ساتھ ناچ رہی تھی۔جتنی وہ چھوٹی اور نازک سی تھا وہ اتنا ہی قوی ہیکل اور سخت جان تھا۔وہ اس کے سینے پر سر رکھے یوں سمٹی ہوئی تھی جیسے چھپنا چاہتی ہو اور اس کے جواب میں اس نے اسے بازوؤں میں یوں جکڑ رکھا تھا جسے اسے اٹھا کر کہیں دور لے جانا چاہتا ہو۔وہ ایک کیف میں ڈوبے ناچ رہے تھے اور ساری رات بلکہ شاید ساری زندگی اسی طرح ناچتے رہنا چاہتے تھے۔انھیں دیکھ کر آپ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آ سکتی تھی لیکن اگر آپ کو ان کی کہانی پتا چل جائے تو شاید پھر آپ نہیں مسکرائیں گے۔دونوں کی منگنی کو 5سال ہو چکے تھے اور اب میکولاس کا دل بجھا بجھا رہتا تھا۔اگر میکولاس کا باپ شرابی نہ ہوتا تو ان کی شادی شروع ہی میں ہو گئی ہوتی لیکن اس بڑے خاندان میں کمانے والا میکولاس کے علاوہ اور کوئی مرد نہیں تھا۔ لیکن شاید پھر بھی معاملات سنبھالے جا سکتے تھے ( کیونکہ میکولاس ایک ہنر مند آدمی تھا) لیکن بے رحم حادثات نے اس کا دل توڑ دیا تھا۔ اس کام بڑے گوشت سے ہڈیوں کو الگ کرنا تھا۔یہ ایک خطرناک کام تھا بالخصوص اس صورت میں جب آپ کو اجرت فی ٹکڑا ملتی ہو اور آپ شادی کی کوشش بھی کر رہے ہوں۔آپ کے ہاتھ چکنے ہوں، آپ کی چھری چکنی ہو اور پاگلوں کی طرح کام میں جٹے ہوں، کوئی اچانک آپ کو مخاطب کرے، تو جہ ہٹنے سے آپ کی چھری ہڈی سے ٹکرائے اور آپ کا ہاتھ پھسل جائے۔ خون کا فوارہ چھوٹ جائے لیکن اس میں کوئی ڈر کی بات نہیں ہے سوائے اس ڈر کے کہ سارے جسم میں زہر نہ پھیل جائے۔زخم بھر جاتا ہے لیکن آپ یقین سے نہیں کَہ سکتے کہ آپ ٹھیک ہو گئے ہیں یا نہیں۔ پچھلے 3 برسوں میں میکولاس دو بار خون میں زہر پھیلنے سے گھر پڑا رہا تھا، ایک بار تقریبا ً 3 مہینے کےلئے اور ایک بار 7 مہینے کےلئے۔پچھلی دفعہ بھی اس کی نوکری جاتی رہی تھی، جس کا مطلب تھا چھے ہفتے تک کڑکڑاتی سردیوں میں صبح کے 6 بجے، برستی برف میں پیکنگ ہاؤسز کے دروازوں پر ایک ایک فٹ برف کے اندر کھڑے رہنا۔ایسے بہت سے پڑھے لکھے لوگ ہوں گے جو اعداد وشمار سے آپ کو بتائیں گے کہ بڑے گوشت سے ہڈی الگ کر نے والے فی گھنٹہ 40سینٹ کماتے ہیں لیکن شاید ان لوگوں نے کبھی ان مزدوروں کے ہاتھ نہیں دیکھے ہوں گے۔ ( جاری ہے ) 
نوٹ: یہ کتاب ”بُک ہوم “ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوط ہیں )ادارے کا مصنف کی آراءسے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

ادب وثقافت -