جسٹس عیسیٰ کا انتظار

 جسٹس عیسیٰ کا انتظار
 جسٹس عیسیٰ کا انتظار

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


 ساری دنیا حضرت عیسیٰ کا اور پاکستانی جسٹس عیسیٰ کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی ہو سکے، عوام کے بنیادی حقوق واجب ٹھہریںاور عدلیہ کی غیر جانبداری مسلمہ ہو ، ادارہ متحد ہوجائے اور منتشر معاشرہ توازن پا سکے۔
حالات یہ ہیں کہ پریشر ککر کی سیٹیاں مدھم پڑ چکی ہیں ، صرف تیز ی سے خارج ہوتی ہوا ہے جس نے خوامخواہ کا شور مچایا ہوا ہے اور ماحول گرمایا ہوا ہے ، چڑیوں کا چہچہانا اور کوﺅں کا چیخنا چلانا بند ہے، بحثیں دم توڑ چکی ہیں اور موقف بے جان دکھائی پڑتے ہیں ، امیدوں کے دیﺅں کی لو مدھم ہے بلکہ کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے ، مستقبل کی تاریکی حال کو گھمبیر بنائے جا رہی ہے ، بس ایک موہوم سی آس ہے کہ الیکشن ہو جائیں تو کچھ کر دکھائیں !
مگر دوسری جانب مخالف بھی گھاگ ہیں ، ایک ایک کر کے سارے سوراخ بند کرتے جا رہے ہیں ، سانس بند ہے اور صرف نبض چل رہی ہے ، لوگ ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا کی بجائے دل میں گالیاں نکالنے لگے ہیں ، سوشل میڈیا خاموش ہے ، اسے زباں بندی کہیں یا سوشل بندی ، یا پھر واشل بندی؟ اب جرنیلوں کے خلاف اور ججوں کے حق میں ٹرینڈ نہیں بن رہے ہیں ، عمران خان کا ذکر زبانوں پر نہیں ہے، جبکہ نواز شریف دماغوں پہ چھایا ہوا ہے بلکہ یوں کہئے کہ بددماغوں کے دماغوں پر حاوی ہے اور حالات بالکل وہی ہیں کہ 
منظر بدل گئے ، پس منظر بدل گئے
حالات میرے شہر کے یکسر بدل گئے
9مئی کو90دن کب کے ہو چکے ، اب تو 120دن ہونے والے ہیں ، پی ٹی آئی کے اکثروبیشتر لوگ پکڑے جا چکے ہیں ، خود عمران خان پکڑے جا چکے ہیں لیکن ابھی وہ رہتا ہے جو کہا کرتا تھا ”عمران خان آئے گی ، دو سو ارب ڈالر لائے گی ، سو ارب آئی ایم ایف کے منہ پر مارے گی اور باقی سو ارب پاکستانیوں پر خرچے گی“۔
9مئی کے 90دنوں کے اندر عمران خان کو پکڑ لیا گیا ، اگلے 90دنوں میں وہ باہر آجائیں تو بڑی بات ہوگی وگرنہ اگلا انتخاب ہو جائے گا اور وہ ابھی آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت سزائے موت یا عمر قید میں سے ایک سزا کے خلاف اپیلیں بھگتتے پائے جائیں گے ۔ عمران خان گریبان سے پکڑے گئے ہیں ، اسے بغیر پھٹے چھڑوانا ہی اب ان کی سیاسی دانش کا امتحان ہوگا۔ اگلے 90دنوں میں ان کا باہر آنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی لگ رہا ہے ۔
اگر عمران خان 90دنوں سے پہلے رہا ہو جاتے ہیں تو ان کے ووٹروں سپورٹروںمیں خوشی کی لہر دوڑ جائے گی، وہ امید اور جوش و ولولہ سے لبریز ہو جائیں گے اور الیکشن سے پہلے الیکشن کا ماحول بنالیں گے۔ گلی گلی عمران خان کے خطابات ، تقاریر اور جلسے جلوس سجائے جائیں گے ، ٹکٹوں کے داعی کھمبوں پر چڑھ کر ٹکٹ مانگتے پائے جائیں گے ، پنجاب میں پیپلز پارٹی کا بالکل صفایا ہو جائے گا،بلکہ پی ٹی آئی کے حامی حلقوں کے مطابق نون لیگ کا بھی بھرکس نکل جائے گا۔
اگر عمران خان اگلے 90دنوں میں جیل سے باہر نہیں آتے تو ان کے چاہنے والوں میں مایوسی، ناامیدی اور خوف کا عالم طاری رہے گا، وہ بے زاری کی تصویر بنے رہیں گے ، اپنے دلوں میں حالات کو کوستے رہیں گے اور بیرون ملک بیٹھے قادیانی، یہودی اور پاکستان مخالف حلقے سوشل میڈیا پر آن رہیں گے، جبکہ اندرون ملک والے آف رہیں گے۔ یہ صورتحال اسٹیبلشمنٹ کو خوب بھاتی ہے جبکہ پی ٹی آئی کو اس سے اوپر والی صورت حال سُوٹ کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کیا کرے ؟ جواب یہ ہے کہ جب جنگل میں شیر کا سامنا ہو جائے تو بندے نے کچھ نہیں کرنا ہوتا، جو کرنا ہوتاہے شیر نے کرنا ہوتا ہے!
بقول شہباز شریف کے عمران خان کو ڈانگ پھر رہی ہے، جبکہ عمران خان کے حمائتیوں کو پیغام دیا جا رہا ہے کہ وہ باز آجائیں، اپنی روش ترک کر دیں ، اب کوئی سروے شائع نہیں ہو گا، جبر کا ماحول طاری رہے گا، کیونکہ عمران خان نے اپنی مقبولیت سے بڑا جرم کر لیا ہے،وہ وقت آنے والا ہے جب عمران خان کا نام لینا جرم ٹھہرے گا، بلکہ سچ پوچھئے تو جس طرح پرویز الٰہی کو رہائی کے بعد گرفتار کیا گیا اس سے تو لگتا ہے کہ وہ وقت آ چکا ہے ۔ پہلے ہر وقت عمران عمران ہوتی تھی ، اب عمران پر کوئی بات نہیں ہوتی ، ان کے حمائتی خاموش ہیں ، کوئی بوڑھا ہو یا بچہ....جو بھی عمران خان کا نام لے گا ، گاڑی میں سے گھسیٹ کر نکال لیا جائے گا،جبکہ کئی خود چپکے سے گاڑی سے اتر کر رفوچکر ہو تے پائے جائیں گے!
مرد بیمار، مرد لاچار پرویز الٰہی رہا ہوئے تو لگ رہا تھا کہ جاتے ہی مونس الٰہی کو عاق کردیں گے کہ جس کے سبب انہیں بڑھاپے میں جیل کی ہوا کھانا پڑی ،انہوں نے ڈنڈا لے کر چودھری شجاعت کو نہیں،مونس الٰہی کو ڈھونڈنا تھا، لیکن اس کا موقع ہی نہیں آیا اور عمران خان کا ساتھ دینے کا جملہ کہنا ان پر بھاری پڑگیا۔ ان کی گرفتاری پر چودھری شجاعت خاموش، پیپلز پارٹی خاموش، بار خاموش، عوام خاموش، عدلیہ خاموش، نون لیگ خاموش ، حتیٰ کہ خود پی ٹی آئی خاموش ہے، حالانکہ وہ پی ٹی آئی کے صدر ہیں ۔ ان کا اور صدر عارف علوی کا حال ایک سا ہے ، پاکستان میں شخصیت پرستی کی سیاست عمران خان بھی ختم نہ کر سکے ، پی ٹی آئی ان سے شروع ہو کر انہی پر ختم ہو جاتی ہے ، ان کے سوا نہ کوئی صدر ہے ، نہ صدرِ مملکت بلکہ سچ پوچھئے تو ان کے سوا کوئی پارٹی ورکر بھی نہیں ہے۔ اس لئے ایک عمران خان بند کرکے اسٹیبلشمنٹ نے پوری پی ٹی آئی بند کردی ہے! 

مزید :

رائے -کالم -