ذوالفقار علی بھٹو:جمہوری و آئینی مشعل ِراہ

ذوالفقار علی بھٹو:جمہوری و آئینی مشعل ِراہ
Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: sort_order

Filename: frontend/news_detail_media_view.php

Line Number: 329

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: sort_order

Filename: frontend/news_detail_media_view.php

Line Number: 329

  

عظیم اور سچے رہنما ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔شہید ذوالفقار علی بھٹو حقیقی معنوں میں عصر حاضر کے عظیم با بصیرت رہنماو¿ں میں سے ایک تھے جن کا سیاسی فلسفہ اور جمہوری آئینی پالیسیاں آنے والے تمام وقتوں کے لیے رہنما اصول وضع کرنے کی منطقی بنیادیں مہیا کرتی ہیں۔شہید بھٹو نے اپنی مدبرانہ صلاحیتوں کی بدولت انتہائی مشکل اور نامساعد حالات میںقوم کو امن، ترقی اور استحکام کی منزل سے ہمکنار کیا۔انہوں نے ملک کی بقا کو لاحق تمام خطرات کو دور کرنے کے لیے قوم کو فکر اور قیادت مہیا کی۔

مشرقی پاکستان کے سانحے کے بعد سال 1971میں اپنے تاریخی خطاب کے دوران پاکستان کے مستقبل کے بارے میں اپنا ویژن پیش کرتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان کی خاطر لڑنے والے میرے عزیز ہم وطنو، میرے عزیزدوستو، میرے عزیز طلبہ، محنت کشو، کسانو، ہم پاکستان کی تاریخ کے بدترین بحران سے دوچار ہیں، یہ ایک سنگین بحران ہے۔ہمیں ریزہ ریزہ مجتمع کرنا ہے، یہاں تک کہ چھوٹے سے چھوٹا ریزہ بھی ، مگر ہم ایک نیا پاکستان بنائیں گے۔ایک خوشحال اور آگے بڑھتا ہوا پاکستان ، استحصال سے پاک پاکستان ، ایسا پاکستان جس کا خواب قائد اعظم نے دیکھا تھا©©۔“

شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملکی سلامتی کو لاحق تمام بیرونی خطرات کا تدارک کیا اور پاکستان کے اندر عام آدمی کی تقدیر بدلنے کے لیے وسیع پیمانے پر سیاسی، معاشی، سماجی اورصنعتی کے علاوہ محنت، تعلیم اور انتظامی شعبوں میں وسیع پیمانے پر پالیسیاں متعارف کرائیں۔ان کی منتخب جمہوری حکومت کے دوران شہید ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے کی جانے والی کاوشوں اور اپنائی گئی پالیسیوںسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عوامی رہنما کے طور پر پاکستان کے عوام کی خدمت اور پاکستان کے لیے کارہائے نمایاں سر انجام دینے کے لیے پیدا ہوئے تھے۔یہ ان کی اہل قیادت ہی تھی جس نے لوگوںمیں نیا جذبہ پیدا کیا اور نتیجے میںلوگوں کو بدترین حالات میں پھر سے اٹھ کھڑے ہونے کا حوصلہ دیا۔

قومی تعمیر کے عمل کے دوران شہید ذاولفقار علی بھٹو نے معاشرے کے غریب اور محروم طبقات کی زندگیوںمیں بہتری لانے پر خصوصی توجہ دی۔ساتھ ہی انہوں نے بین الاقوامی سفارت کاری میں اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے اقوام عالم میں پاکستان کے وقار میں اضافہ کیا۔بھارت سے مذاکرات کے ذریعے 90ہزار قیدیوں کو واپس لانا اور 5ہزار مربع میل مقبوضہ علاقہ واگزار کرانا شہید قائد عوام کی صلاحیتوں کا شاندار مظہر تھا۔

جمہوری عمل معاشرے کے تمام طبقات کو ریلیف بہم پہچائے بغیر مکمل نہیںہو سکتا۔پاکستان کے عوام کو حقوق دینے کے ضمن میںمعاشرے کے محروم طبقات کی خدمت کے ساتھ وابستگی اور جذبہ ان کی ذات کو ایک علامت بنا کر پیش کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ قوتیں جو عوام کو با اختیار ہوتے نہیں دیکھنا چاہتی تھیں نے شہید قائد عوام کو اپنے ان مخصوص مفادات کو لاحق بڑے خطرے سے تعبیر کیا جو ملک کے عام آدمی کے حقوق کی پامالی پر استوار تھے۔

اپنے ایک اور تاریخی خطاب کے دوران شہید قائد عوام نے اپنے اس ویژن کو واضح الفاظ میںکچھ اس طرح پیش کیا۔ ” وہ تمام لوگ جو عصر حاضر میں روا بدترین غیر انسانی استحصال کا شکار رہے ہیں کے لیے یہ نا قابل برداشت معاملات اب ختم ہو جانے چاہئیں۔یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ پاکستان کے عوام کو غربت کی دلدل سے نجات دلائیں۔ہم عدم مساوات کے خاتمے، دولت کی منصفانہ تقسیم اور ایک فلاحی معاشرے کے قیام کو ریاست کے بنیاد فرائض کار سمجھتے ہیں۔“

عام آدمی کو با اختیار بنانے کے نتائج سے پوری طرح آگاہ ہونے کے باوجود شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رجعت پسند عناصر سے سودے بازی کی بجائے تاریخ میںزندہ رہنے کا فیصلہ کیا۔نتیجے میں نڈر عوامی رہنما نے لوگوں کو با اختیار بنانے اور پاکستان کو جدید ترقی پسند جمہوریت بنانے کے کیے اپنی جان قربان کر دی۔قائد عوام کے مخالفین در اصل مستحکم جدید پاکستان کے دشمن تھے۔ یہ عوام دشمن عناصر عوام کی طاقت سے خائف تھے اور محسوس کر رہے تھے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی طرف سے شروع کیا گیا تعمیرو ترقی کا دور معاشرے سے ہر طرح کے جبر اور استحصال کو ختم کرنے کا موجب بن جائے گا۔

شہید ذالفقار علی بھٹو کی حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات خصوصاً سماجی شعبے میں پیشرفت کا تجزیہ کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ ان کا معاشی و سماجی ایجنڈا پاکستان کے عوام کی فلاح تھا۔اس معاشی و سماجی ایجنڈے کو ’روٹی، کپڑا اور مکان‘ کے نعرے میں بخوبی سمویا گیا اور یہ نہ صرف آج بلکہ مستقبل میںبھی اتنا ہی اہم ایجنڈا رہے گا۔شہید قائد عوام نے انتہائی نا مساعد حالات میں لوگوں میں امید کی کرن جگائی اور قوم کو مختلف اندرونی و بیرونی خطرات سے نجات دلائی۔انہوںنے مضبوط وفاق کے حصول کے لیے وسیع تر قومی ہم آہنگی پیدا کی اور ہر پاکستانی کے حقوق کے تحفظ کی خاطر قوم کو متفقہ آئین کا تحفہ پیش کیا۔

شہید ذوالفقار علی بھٹو کی جمہوری حکومت نے معاشرے کے محروم طبقات کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی کے لیے کئی اقدامات کیے۔تعلیم کی اہمیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہوں نے طلبہ کے لیے نئے وظائف کا اجراءکیا تاکہ غربت سے نبرد آزما ہونے کے مو¿ثر ہتھیار کے طور پر تعلیمی انقلاب بپا کیا جا سکے۔آج بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے پلیٹ فارم سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سماجی و معاشی ویژن کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔یہ اقدام عوام کو درپیش معاشی مشکلات اور تکالیف میں کمی لانے کی غرض سے اٹھایا گیا۔میرے لیے یہ امر انتہائی اطمینان اور مسرت کا باعث ہے کہ قائد عوام کے متعین کردہ رہنما اصولوں کے تحت اور ان کی عظیم بیٹی شہید بے نظیر بھٹو کے ویژن کی مطابقت سے مطلوبہ مقاصد بطریق احسن حاصل کیے جا رہے ہیں۔

بی آئی ایس پی پاکستان میں متعارف کرایا جانے والا سماجی تحفظ کا پہلا جامع پروگرام ہے جسے موقر بین الاقوامی اداروں کی طرف سے تسلیم کی گیا۔پروگرام میں مستحق خاندانوں کو نئی سہولتیں جن میں ہیلتھ اور لائف انشورنس ،چھوٹے قرضے، فنی تربیت اور اس سے بھی بڑھ کر رجسٹرڈ خاندانوں کے بچوں کو تعلیم دلوانا شامل ہے کے ذریعے اپنی خدمات میں مسلسل توسیع لا رہا ہے۔انشاءاللہ بی آئی ایس پی شہید قائد عوام کا ویژن آگے بڑھاتا رہے گا۔

آج شہید ذوالفقار علی بھٹو کا 34واں یوم شہادت مناتے ہوئے جمہوریت پر یقین رکھنے والا ہر پاکستانی آنے والی نسلوں کے لیے شہید قائد عوام کی طرف سے پیش کی گئی عظیم قربانی کو خراج عقیدت پیش کرتا دکھائی دیتا ہے۔4اپریل 1979کو ہمیشہ ایک سیاہ دن کے طور پر یاد رکھا جائے گا کیونکہ اس روز ایک آمر کے ایما پر ہمارے عظیم قائد کا عدالتی قتل کیا گیا۔اللہ کی تائید و رضا سے، پاکستان شہید ذوالفقار علی بھٹو کے جمہوری اور آئینی ویژن کی روشنی میں ااپنے مقاصد جن میں خود مختاری، فلاح و بہبود، خوشحالی اور کامیابی شامل ہیں کی تکمیل کرے گا۔    ٭

مزید :

کالم -