کیا واقعی!

کیا واقعی!
کیا واقعی!

  

انتخابات سے زیادہ عوام کی دلچسپی کا محور اب یہ چیز بن رہی ہے کہ جعلی ڈگری، دہری شہریت رکھنے والے اور بجلی، ٹیلی فون، گیس کے بل اور اپنی آمدنی پر کسی قسم کا ٹیکس ادا نہ کرنے والے ایسے دولت مند بااثر لوگوں کو، جن کے لئے سیاست ایک منفعت بخش کاروبار رہا ہے، ہمیشہ کے لئے نشان عبرت بنادیا جائے۔ پہلی بار عوام کو اُمید کی کرن نظر آرہی ہے کہ اب شاید ایسا ہوجائے۔ وگرنہ ضیاءالحق سے جنرل پرویز مشرف تک کس نے صفائی کی بات نہیں کی؟ ....اللہ بخشے جنرل ایوب خان اور جنرل یحییٰ خان کا نزول بھی اسی صفائی کے لئے ہوا تھا، مگر وقت نے بتایا کہ وہ اور ان کے جانشین سب سڑکیںاور نالیاں صاف کرنے اور اپنی مرضی کی بساط بچھانے میں اتنے مگن ہوئے کہ بہت سی غلاظت خود ان کی وجہ سے پھیلی۔ اگر خدانخواستہ موجودہ زمانے میں ماضی کے چار جرنیلوں کا جانشین کوئی پانچواں جرنیل ہوتا تو سڑکیں اور نالیاں صاف کر کے قوم کو مطمئن کیا جاتا کہ صفائی ہو گئی ہے، مگر یہ کام تاریخ نے اب عدلیہ اور الیکشن کمیشن کے سپرد کر دیا ہے ، لہٰذا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ صفائی کرنے والوں کا اپنا ایجنڈا ہے۔ وہ حکمرانی کے لئے ایسا کر رہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

ماضی کے تجربات کے سبب قوم ایسی صفائی کے تعلق سے نہ فوج پر بھروسہ کرنے کو تیار ہوتی اور نہ کسی سیاست دان یا بیوروکریٹ کی حکومت غیرجانبداری سے یہ کام کرسکتی تھی۔ بلاشبہ سپریم کورٹ پر پاکستان کے عوام کی اکثریت بھروسہ کرتی ہے اور اس نے بھی یہ کام اچانک شروع نہیں کیا،بلکہ نہایت صبروتحمل سے حکومت کی مدت پوری ہونے ،انتخابات کا مرحلہ آنے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے ضوابط اور قاعدے قوانین کے ساتھ انتخابات کی ذمہ داری سنبھالنے کاانتظار کیا۔ اب کوئی خاص سیاسی گروہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسے ہدف بنایا جارہا ہے، چنانچہ یہ ہے وہ مخصوص اور منفرد صورت، جس نے برسوں کی بے اعتباری ختم کردی ہے اور عوام کو توقع ہوئی ہے، اُمید بندھی ہے کہ شاید اب کچھ ہوجائے اور برسوں کی وہ غلاظت صاف ہوسکے، جس نے قوم کو غلاظت میں رہنے اور اس کے ساتھ جینے کا خوگر بنادیا تھا۔

اب ایسا لگ رہا ہے کہ وہ افراد، جنہیں انتخابات کے ذریعے پیر تسمہ پا، بلکہ جنجال اور آسیب کی طرح عوام کی گردنوں پر سوار ہونے کا فن آتا ہے ، شاید منقار زیر پر آجائیں۔ گزشتہ پانچ یا پندرہ سال کی نہیں 1977ءسے پھیلی مایوسی کے بادل چھٹ رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ سپریم کورٹ کے کمر ہمت کس لینے اور الیکشن کمیشن کی جانب سے ضوابط اور قاعدے قوانین کے اطلاق سے 2013ءکے انتخابات یادگار بن جائیں اور سیاسی قیادت اور سیاسی رہزنی کے درمیان واضح لکیر کھینچ دی جائے۔ برسوں سے عوام مایوس تھے، مگر اُن کی آس برقرار تھی کہ یہ ملک لاکھوں شہیدوں کی امانت ہے اور اللہ رب العزت ایک دن ضرور کسی ایسے مسیحا کو بھیجے گا جو نوید سحر دے گا اور ہمیشہ کے لئے فیصلہ ہوجائے گا کہ جمہوریت اور انتخابات کا قطعی مطلب یہ نہیں کہ دہشت گرد، ٹارگٹ کلر ، بھتہ خور، ٹیکس نادہندہ، بینکوں کے قرضے ہڑپ کرنے کے عادی مجرم، جعلی ڈگری اور دہری شہریت پر شرمندہ ہونے کے بجائے دھونس اور اکڑ دکھانے والے، بجلی ،ٹیلی فون، گیس کے بل ادا نہ کرنے والے ،سیاسی مجرے کرانے اور اسلحہ کی نمائش کرکے نہتے لوگوں کو دہشت زدہ کرنے والے، سرکاری ونجی زمینوں پر قبضہ کرنے والے، سرکاری ملازمتیں بیچنے والے، کرائے کے بجلی گھروں سے مختلف ٹھیکوں تک قوم کی دولت لوٹنے والے، اسمبلیوں کو گالم گلوچ، چیخ ، پکار اور نازیبا حرکات سے مچھلی مارکیٹ بنادینے والے سیاسی رہزن صرف اس لئے سیاسی قیادت کے حق دار ہوسکتے ہیں کہ انہوں نے عوام کی رائے جانچنے کے ناقص انتظام کے تحت ووٹوں سے ڈبے بھر کر دکھا دیئے ہیں۔

پہلے خادم پکڑے جاتے تھے، مگر اب مخدوموں کے پکڑے جانے کا زمانہ آچکا ہے اور الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کی اس طاقت سے، جس کے پیچھے کروڑوں پاکستانیوں کی طاقت موجود ہے، جھوٹے خداﺅں کے بت گرانے کا آغاز کردیا ہے۔ یہ باد بہاری 2013ءکے انتخابات کا وہ نقد منافع ہے، جس سے قوم کے محفوظ سفر کا راستہ کھل سکتا ہے۔ کاش الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کے پاس جھوٹی خدائی کے تمام بتوں کو گرانے اورپاش پاش کرنے کے لئے چند ہفتوں کے بجائے چندماہ ہوتے، مگر چونکہ وقت کی قلت کے باوجود نہایت حوصلہ افزا آغاز ہوگیا ہے، لہٰذا عوام حیرت و استعجاب کے ساتھ اور بے پایاں مسرت کو کسی مناسب وقت پر اظہار کے لئے چھپاتے ہوئے ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ کیا واقعی پروسیس شرو ع ہوگیا ہے؟ انتخابات کے بہانے یا اس کے نام پر شروع ہونے والا یہ پروسیس یا فطری عمل ایک مجبور، بے بس اور ستم رسیدہ قوم کی چیخ بن کر کہاں تک جائے گا اور سیلاب بلا کی طرح ایسے کتنے محل گرائے گا جو عوام کے خون اور پسینے سے تعمیر کئے گئے ہیں اور نشان بدی کی حیثیت رکھتے ہیں، اس کا اندازہ کرنا شاید عوام کے بس میں نہیں ہے۔

میرے ایک انگریزی دان صحافی دوست اکثر انقلاب فرانس کے تعلق سے ”ہیگ دیم“ (انہیں ٹکڑے ٹکڑے کردو) کا جملہ دہرایا کرتے ہیں۔ اگر الیکشن کمیشن، جسے اپنے ناتواں ہونے کا احساس رہا ہے اور سپریم کورٹ جس نے نشان بدی کی حیثیت سے پہچانے جانے والے محلات سے مسلسل گولہ باری اور ”ڈرون حملوں“ کے باوجود سخت جان ہونے کا مظاہرہ کیا ہے، اگر انقلاب فرانس کے ”آرڈر آف دی ڈے“ کو اپنا مطمح نظر بنا لیا تو ایک مجبور، بے بس ، ستم رسیدہ اور پژمردہ قوم پھر سے جی اُٹھے گی اور بہت ممکن ہے کہ ایک دو عشرے کے لئے نہیں،چوتھائی اور نصف صدی کے لئے سفر آسان ہوجائے۔

کچھ روز پہلے تک عوام کو انتخابات سے قطعی دلچسپی نہیں تھی اور ان کی لاتعلقی کو مختلف سیاسی حلقوں میں محسوس بھی کیاجارہا تھا، مگر کسی میں یہ ہمت نہیں تھی کہ عوام کی اس عدم دلچسپی اور لاتعلقی کو موضوع بحث بناکر اس کی وجوہ تلاش کرے، تاہم اب وہ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کے ان اقدامات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں، جن کے سبب سیاسی قیادت اور سیاسی رہزنی میں حد فاصل قائم ہونے کی اُمید پیدا ہو چلی ہے۔ اگر گیلپ سروے جیسا کوئی سروے ملک گیر سطح پر اس پروسیس کے حوالے سے کرایا جائے اور چند سو یا چند ہزار نہیں، بلکہ لاکھوں افراد کی رائے جانچنے کا بندوبست کرلیا جائے تو عوام کے نزدیک انتخابات کی حیثیت ثانوی ٹھہرے گی اور فطری احتسابی عمل کے حق میں 90فیصد لوگ رائے دیں گے۔ ابھی عام لوگ ”کیاواقعی“ کے استعجابی دائرے سے باہر نہیں نکلے، مگر توقع یہ ہے کہ اپریل کے وسط تک جب فطری احتسابی عمل کسی حد تک پیش قدمی کرچکا ہوگا، وہ واضح موقف کے ساتھ الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ کے پشت پناہ بن جائیں گے۔    ٭

مزید :

کالم -