کھل جا سمِ سمِ

کھل جا سمِ سمِ
کھل جا سمِ سمِ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ پانچ سالہ پُر تعیّش جلاوطنی بھی سابقہ فوجی آمر، جس نے ایک نابغہ ¿ روزگار لیڈر کا من پسند روپ دھارتے ہوئے اپنے عقربی وعسکری کندھوںپر پاکستان کو مشکلات کی مہیب وادی سے نکال کربچانے کا بیڑا اٹھایا، کی خود پسندی اور غرور میںکمی لانے میں ناکام رہی ہے اور نہ ہی عالم ِ شہود میں ایسا ہونے کے امکانات پائے جاتے ہیں۔جب جسم وجان کے سانچے میں ڈھلی آمریت پاکستان بچانے کی بات کرتی ہے تو اسے کہنا چاہیے تھا کہ ” پاکستان کو مجھ سے بچاﺅ“.... تاہم اس کے لئے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے اور آمروں کا دامن اس ظرف سے تہی ہوتا ہے۔ آمریت کے اُن شاہانہ دنوں میں ایک اور نعرے”سب سے پہلے پاکستان“ کی گونج سنائی دی، تاہم اس نعرے کی عملی تشریح اس اداکاری کے سوا کچھ نہیں تھی کہ ایک پرچم سینے پر سجائے، ایک ہاتھ دل کے عین اوپر رکھ کر قومی ترانہ پڑھتے ہوئے نہایت مودب دکھائی دیں،کم از کم تصاویر میںاس کے سوا اور کچھ نہیں۔
ہو سکتا ہے پرویز مشرف کے خطابات اپنے دودرجن سے کچھ زائد ہامیوں کی کثیر تعداد کے لئے بہت اہم ہوں ، لیکن جس انداز سے اُن کا کراچی ائیر پورٹ پر استقبال ہوا ہے، اس کے لئے اردو میں کوئی مناسب الفاظ نہیںہیں۔ ایک مرتبہ بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان نے کہا تھا ”شہر میں مضمون نہ پھیلا اور جوتا چل گیا“.... بہرحال ہم شاعر نہیں، چنانچہ رعایت ِ لفظی کی سہولت سے محروم ہیں.... پھر جوتا جوتا ہی ہوتا ہے، محاورے میں چلے یا حقیقت میں۔ تاہم، جیسا کہ ایک اور محاورے میں کہا جاتا ہے کہ ایک آدھ ٹانگ ٹوٹنے سے ہزار پا لنگڑا نہیں ہوجاتا، چنانچہ وہ ملک و قوم کو بچانے کے لئے بیانات پر بیانات دیئے چلے جارہے ہیں۔ یقینا خود ستائی خود شناسی کو منزل نہیں بناتی۔ وطن واپسی کے بعد پرویز مشرف نے کراچی ائیر پورٹ پر زیادہ وقت وی آئی پی لاﺅنج میں گزارہ، کیونکہ باہر اُن کے چاہنے والوں کی کثیر تعداد، ہو سکتا ہے کہ چند سو سے کچھ زیادہ، موجود تھی اور وہ اس وقت خلوت پسندی کے موڈ میں تھے۔جب وہ محافظوں میں گھرے، اپنے چاہنے والوںسے مخاطب ہوئے تو شنیدہے کہ ساﺅنڈ سسٹم نے وفا نہ کی، چنانچہ اُن کے دل خوش کن التباسات سامعین کے کانوں کو زحمت دیئے بغیر عالم ِ بالا کی طرف سدھارے۔ اس واقعہ سے ان کی تنظیمی صلاحیتیں بھی ابھر کے سامنے آئیں اور یہ بھی علم ہوا ہے کہ ان کی جماعت میں شامل سادہ اور درویش صفت افراد دنیا کی آلودگی سے اس قدر دور رہتے ہیں کہ انہوںنے ابھی تک میگا فون جیسی ”جدید ایجاد“ کے بارے میں نہیں سنا۔
بہرحال چونکہ قوم کے مسیحا کی آمد آمد تھی، اس لئے باقی سب انتظاما ت مکمل تھے۔ ڈھول کی تھاپ پر والہانہ طور پر رقص کناں عوام کا ”اہتمام “ کیا گیا تھا، لیکن لگتا ہے کہ کسی سازش کے تحت وہ کہیں کھسک گئے تھے۔ پونے دو کروڑ کی آبادی کے شہر ، جس میں اگر جلاﺅ ، گھیراﺅ، پتھراﺅ، لوٹ مار اور ہدفی قتل کی شبانہ روز سرگرمیوں سے کچھ خلل پڑے تو چشم زدن میں ہزاروں افراد کسی بھی موقع پر جمع ہو جاتے ہیں ۔ اس شہر میں جنرل (ر) پرویز مشرف کے استقبال کے لئے آنے والوں کی تعداد پندرہ سو بیان کی جاتی ہے، کچھ حاسد تعداد اس سے بھی نصف بیان کرتے ہیں۔ہم یہی کہہ سکتے ہیں درویش صفت لوگ ہجوم پسند نہیںہوتے ہیں اور نہ ہی جاہ طلبی ان کی سرشت میں ہوتی ہے۔
اس کے بعد ہمارے سابقہ کمانڈوز خطابت کے جوہر ضرور دکھا رہے ہیں، لیکن مخاطب اپنی ذات ِ گرامی ہی ہے۔ ان کے بیانات کا خلاصہ یہی ہے کہ پاکستان کو ان کی ضرورت ہے اور صرف وہی پاکستان کو مشکلات سے نجات دلا سکتے ہیں، وغیرہ ۔ آمدکے ساتھ ہی انہوںنے اُن سیاسی ناقدین کا منہ بند کر دیا ہے جو کہہ رہے تھے کہ اب پرویزمشرف پاکستان کبھی نہیں آئیںگے۔ ”اب وہ ناقدین کہاں ہیں“؟....پرویز مشرف نے گرجتے ہوئے پوچھا۔ یقینا وہ ان کے سامنے نہیںہیں کیونکہ ان کے پاس کرنے کو اس سے کہیں بہتر کام موجود ہے، جیسا کہ اپنا رکشہ دھلوانا، جوتی پالش کرنا ، یا کاٹن کے سوٹ پر کلف لگانا۔ اب تو ”مَیں پاکستان آرہا ہوں “ ایس ایم ایس پر ہٹ لطیفہ بن چکا ہے اور اس سے بہت سی بیہودہ باتیں منسوب ہیں۔
کچھ دانش مندانہ تجزیہ نگاروں کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف اُسی وقت واپسی کا قصد کریںگے جب اُن کے لئے فضا سازگار ہو گی، کیونکہ ہو سکتا ہے ،جیسا کہ سابقہ جنرل کا دعویٰ ہے، وہ پاکستان سے بے انتہا محبت کرتے ہیں، لیکن اس کے لئے اپنی جان نہیں دینا چاہیںگے۔ اب جبکہ وہ پاکستان آچکے ہیں، اُن کی خوش قسمتی ہے کہ مقامی حکومت نے سیکیورٹی کی بنا پر اُن کو مزار ِ قائد تک ریلی کی صورت جانے اور خطاب کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس کا مطلب ہے کہ ابھی بھی قسمت کے ستارے اُن پر مہربان ہیں، ورنہ اگر خطاب کی نوبت آجاتی تو سامعین کا رد ِ عمل مزید بدمزگی پیدا کر دیتا۔ ویسے کیا پرویزمشرف اپنے اور بانی ِ پاکستان کے درمیان کوئی براہ ِ راست تعلق پیدا کرنا چاہتے تھے؟اس سے پہلے جب پرویز مشرف ائیر پورٹ پر پریس کانفرنس کے دوران میڈیا پرسنز سے مخاطب تھے تو اُن کے مٹھی بھر پیروکار ٹوئٹر پیغامات میں کہہ رہے تھے کہ اس وقت کراچی کی سڑکوں پر لاکھوں افراد کا اژدھام ہے جو اپنے محبوب رہنما کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بے قرار ہیں۔ اس طرح دروغ گوئی کی نئی داستانیں رقم ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ یہ تماشاگر کچھ عرصہ پہلے غائب ہو گئے تھے ، لیکن اب پھر قومی افق پر ابھر آئے ہیں۔
ایک منتخب وزیر ِ اعظم کا تختہ الٹنا آرٹیکل چھ کے تحت غداری کے زمرے میں آتا ہے ،چنانچہ اگر پرویز مشرف پاکستان بچانا چاہتے ہیں اور آئین و قانون کی حکمرانی کی خواہش رکھتے ہیں تو اُنہیں کچھ جواب طلبی کے لئے تیار بھی رہنا چاہیے۔ کارگل کی حماقت، جس میں سینکڑوں پاکستانی فوجی شہید ہوئے، کا بڑا حصہ آج بھی ایک صیغہ ِ راز ہے۔ اس پر بہت دبیز پردے چڑھا دیئے گئے ہیں، چنانچہ ہو سکتا ہے کہ ہم اس کی حقیقت کے بارے میں کبھی نہ جان پائیں ،کیونکہ اس سے پاکستا ن کے مفاد کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ کچھ راز جو گاہے بگاہے افشا ہوتے رہتے ہیں، انہی سے ہی واقعے کی سنگینی کا علم ہوتا ہے۔
اس کے بعد معمر بلوچ قوم پرست رہنما اکبر بگتی کا ماورائے عدالت قتل اور بلوچستان کے مسائل کے ”حل “ کے لئے اٹھائے جانے والے مشکوک اقدامات کی وجہ سے ہزاروں افراد کا خون بہہ چکا ہے ۔ اب تک اس ستم رسیدہ صوبے میں حالات معمول پر آنے کے امکانات پیدا نہیںہوئے ۔ اسی طرح اسلام آباد کی لال مسجد کے سانحے میں بھی بے شمار طلبہ و طالبات اور ان کے اساتذہ ہلاک ہو گئے تھے ، لیکن اس سانحے پر بھی مٹی ڈال دی گئی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل پر بہت سے افراد ، بشمول محترمہ کے صاحبزادے مسٹر بلاول، نے صدر پرویزمشرف کو مورد ِ الزام ٹھہرایا تھا، لیکن اس الزام کی کبھی تفتیش نہیں ہو سکی، اگر اور کچھ نہیں تو موبائل فون بندکرنے اور کھولنے کے ماہر رحمان ملک ، جو سیکیورٹی پر مامورتھے، نے بھی کوئی تردد نہیں کیا کہ واقعہ کے چند گھنٹوں کے اندر اندر جائے وقوعہ کس نے کس کے حکم پر دھوڈالی۔
حال ہی میں مشہور انگریز ی اخبار ” نیویارک ٹائمز “ نے لکھا کہ پاکستان کو اس وقت پرویز مشرف کی ضرورت نہیںہے۔ اخبار ٹھیک کہتا ہے، کیونکہ ان کے دوست ہوا میں تحلیل ہو چکے ہیں....(تھرپارکر کا شوکا آج کہاں ہے؟) اور اگر قسمت نے کچھ ساتھ دیا تو ہو سکتا ہے کہ وہ چترال یا کے ٹو کے مقام سے قومی اسمبلی کی کوئی نشست جیت جائیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ انتخابات بہت ہنگامہ خیز ہوںگے۔ کبھی ہم بھی ڈیوڈ فراسٹ کی زبان میں کہا کرتے تھے” جنرل الیکشن ہوں گے اور ہم کسی جنرل کو منتخب کر لیںگے“۔ تاہم اس وقت عوامی موڈ یہی کہتا ہے کہ وہ سویلین کے ہاتھ میں زمام ِ اختیار دینا چاہتے ہیں، کہ یہی جمہوریت ہے۔ اس عمل کے نتیجے میں چاہے کتنے ہی نااہل افراد سامنے آئیں، ایک تبدیلی کا راستہ کھلا رہتا ہے، اور یہی غنیمت ہے۔ فی الحال بہت عظیم شخصیات انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتیں اور بار بار ایک ہی طرح کے لوگ اقتدار میں آتے رہتے ہیں، تاہم اگر اس سلسلے کوجاری رہنے دیا گیا تو ہو سکتا ہے کہ کبھی عوام کی بھی سنی جائے۔
جہاں تک موجودہ عوامی مسیحا کی کراچی آمد کا تعلق ہے تو مجھے مشہور صحافی انصار عباسی کا جنوری 2012 ءکا ایک آرٹیکل یاد آرہا ہے، جس میں انہوںنے پرویز مشرف کے بنک اکاونٹس ، بھاری سرمایہ کاری اور وسیع جائیداد کا ذکر کیا تھا۔ مضمون اس وقت نظر میں نہیںہے، چنانچہ میں پوری رقم نہیں بتا سکتا، قارئین یقینا زیادہ باخبر ہیں، تاہم میرا اندازہ ہے کہ انصارعباسی نے پانچ سو ملین کا ذکر کیا تھا ۔ کیا ایک جنرل پوری تنخواہ اور پنشن ملا کر اتنی رقم جمع کر سکتا ہے جائیداد اس کے علاوہ تھی؟ہاں، ہو سکتا ہے کہ انہوںنے بھی وہی منتر دریافت کر لیا ہو جس سے کچھ عرصہ پہلے علی بابا طلسمی غار کھول کر مال نکالا کرتے تھے۔ کتنی آسان بات ہے کہ بس صبح اٹھ کر” کھل جا سمِ سمِ “کہا اور مال آپ کے کھاتے میں جمع ہو گیا۔
 نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔       ٭

مزید :

کالم -