معاشرہ اور معاشرتی مجبوریاں

معاشرہ اور معاشرتی مجبوریاں
معاشرہ اور معاشرتی مجبوریاں

  

آج ملک میں اللہ کے فضل و کرم سے کسی سابقہ حکمران کی پالیسی اور دور اندیشی کی سوچ کی وجہ سے بے شمار پرائیویٹ ٹی وی چینل کام کر رہے ہیں اور ہر ٹی وی چینل پر اینکر پرسن خواتین و حضرات اپنے اپنے موضوع کو زیر بحث لاتے اور مختلف موضوعات پر مختلف خیالات رکھنے والوں کو اظہارکی دعوت دیتے ہیں ،ان میں زیادہ تر حالاتِ حاضرہ اور معاشرے میں رونما ہونے والے واقعات کے متعلق ہوتے ہیں ،کئی پروگرام معاشرے میں ہونے والی برائیوں کے متعلق بھی ہوتے ہیں، ان کو ختم کرنے کے لئے بھی پروگرام کئے جاتے ہیں ،جبکہ کئی پروگرام معاشرے کے اندر پھیلی ہوئی برائیوں کو جواز بنا کر زندگی گزارنے والے خواتین وحضرات کی نشان دہی کی جاتی ہے، اس طرح کا ایک پروگرام ایک پرائیویٹ نجی ٹی وی چینل پر نشر ہو رہا تھا، میزبان اینکر پرسن نے معاشرے کے ایک حساس ایشو کو چھیڑا ۔وہ بس سٹاپ پر کھڑی ایک پردہ نشین خاتوں سے بات کرنے کی کوشش کر رہی تھی، بات کرتے کرتے ٹی وی اینکر نے اس خاتون کو اپنی گاڑی میں بٹھا لیا اور اس سے سوال کر دیا تمہاری وجہ سے بے شمار لوگ گناہ کی دلدل میں پھنس جاتے ہیں اور معاشرے میں خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔

خاتون نے جواب دیا کہ جب کسی کے بچے ہوں ،کمانے والا شوہر نہ ہو، گھر بھی کرایہ پر ہو ،اس کا کرایہ ادا کرنا ہو اور کوئی مناسب ملازمت بھی نہ ملے تو پھر مجبور عورت بھلا کیا کرے؟ بی بی آپ کس معاشرے کی بات کر کے مجھے شرم دلوا رہی ہیں ،جس معاشرے میں انسانوں نے بھیڑیوں کے رویئے اختیار کر لئے ہوں ،خود غرضی، مفاد پرستی عروج پر ہو، ہر فرد کی کوشش ہو کہ وہ دوسرے سے کس طرح آگے نکلے ،جس معاشرے میں شرافت کو کمزوری سمجھا جائے ،خصوصی اختیارات سے انہوں کو نوازا جائے، معاشرے میں حق داروں کا حق غصب کر کے اپنوں کو دیا جائے، مہنگائی کے اس دور میں روزانہ سودو سو کے لئے فیکٹری کی نوکری سے کس طرح گزارہ ہوگا، فیکٹریاں ،کارخانے بند ہو چکے ہیں تو پھر اس ظالم معاشرے میں زندگی کس طرح گزاروں ،بچے کس طرح پالوں، کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے، خاتون کے ادا کئے ہوئے جملوں کو درست تسلیم کیا جا سکتا ہے، یہ ہمارے معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھنے کے مترادف ہے۔ ان جملوں کو سن کر ہمیں سوچنا ہوگا کہ کیا ہمارے معاشرے کی تباہی اور خرابی کی ذمہ داری حکمرانوں یا ریاست کو قانون دینے والوں پر عائد ہوتی ہے کہ وہ معاشرے میں بے سہارا، غریب خواتین کو با عزت روزگار فراہم کریں تاکہ معاشرے میں مجبوری کے نام پر خواتین گناہوں کی دلدل میں رسوا نہ ہوں اور خود غرض ان کو کھلونے سمجھ کر ان سے نہ کھیلیں۔

معاشرے کے تمام طبقات پر نظر ڈالئے اور ایمانداری سے جائزہ لیجئے کہ ایک سبزی فروش سے لے کر طب جیسے پیشے سے منسلک ڈاکٹر بھی اس لفظ ضرورت کو کس طرح استعمال کر رہے ہیں۔ اشیاء فروخت کی من مانی، ناجائز قیمت وصول کرنا، ملاوٹ کرنا ہو، خواہ خون فروخت کرنا پڑے یا کسی سرکاری ادارے میں کرسی پر بیٹھ کر رشوت لینی ہو۔ دوائیوں میں ملاوٹ کرنی ہو، ستم ظریفی ہے، انسانوں کے کھانے والی تمام اشیاء میں ملاوٹ اور دو نمبر اشیاء ہوتی ہیں ،سب کاموں کے لئے ہر ایک کے پاس کوئی نہ کوئی جواز ہے ،اکثریت کا یہی جواز ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں گزارہ کیسے ہو؟ ذرا جائزہ لیں تجزیہ کریں جن کی ماہانہ آمدنی دس ہزار، پندرہ بیس ہزار ہے وہ بھی اور جن کی 50, 30, 20 ہزار یا لاکھ سے اوپر کی ماہانہ آمدنی ہے ،وہ بھی اپنے کسی نہ کسی غلط طریقے سے حصول آمدنی کو یہ کہہ کر جائز کر لیتے ہیں کہ گزارہ کیسے ہو؟

آخر وہ کون سی سطح ہے کہ جب ہم یہ کہیں گے کہ ہم نے کوئی ناجائز طریقہ آمدنی اختیار نہیں کرنا، ہم کب قناعت اور توکل پر ایمان لائیں گے ،ہم یہ کب کہیں گے کہ اللہ تیرا شکر ہے تو حالات بہتر کر دے۔ ہمارے بزرگ دادا جی مرحوم کہتے تھے کہ ہر وقت ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے رہا کرو، کیونکہ نا شکری کرنے سے حسد اور حرص کو فروغ حاصل ہوتا ہے ،بے چینی اور نفسیاتی امراض پیدا ہوتے ہیں اور انسان ناجائز ذرائع سے کمانے کے چکر میں لگ جاتا ہے، جس سے گھر اور خاندان کا امن بھی تباہ ہو جاتا ہے اور معاشرے کا بھی۔ آج ہمیں اپنے بزرگوں کی یہ بات بہت اچھے انداز میں سمجھ میں آتی ہے، جب ہم ہر طرف دھوکا بازی ا ور نفسانفسی کا ماحول دیکھتے ہیں، جب یہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح بھرے بازار میں سرِ عام ایک موبائل حاصل کرنے کے لئے یا تھوڑی سی رقم کے حصول (لوٹ مار) کے لئے نوجوان اپنی جانوں پر کھیل رہے ہیں۔ بزرگ اکثر کہا کرتے تھے کہ بیٹا ہمیشہ اچھے لوگوں کو اپنا آئیڈیل اور ہیرو بناؤ۔ وہ ہمیں اکثر حضرت عمر بن خطابؓ اور دوسرے صحابہ کرامؓ کے تاریخی واقعات سناتے تھے جو وقت کے حکمران ہو کر بھی ایک جوڑا استعمال کرتے تھے تاکہ رعایا خوش رہے۔ مقدر جیسا بھی ہو، اس پر دل راضی و مطمئن ہو۔ ہمارا مذہب اور دین ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جو اس پر راضی ہوں اور اس کا شکر ادا کرتے ہیں جو ان کو اللہ کی طرف سے ملتا ہے، لیکن ہم نے اپنے اردگرد کے لوگوں کو حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور احکامات، ناجائز طریقوں سے اپنے کاروبار میں اضافہ کرنے والوں کی تقلید کرنے میں اپنے معاشرے کو بگاڑ لیا ہے ،اس کی اصلاح خدانحواستہ طوفان نوح نہ ہو، استغفراللہ۔

درحقیقت اس قسم کے جواز ہم نے اپنی تسلی اور اطمینان کے لئے یا پھر عزت دار بننے کے لئے بنا رکھے ہیں ،ہم نے پہلے عیش و عشرت کی زندگی کو اپنا ماڈل بنایا ،پھر اس کے حصول کے لئے اس طرف دوڑ رہے ہیں اور پیسے کے حصول کے لئے جواز کے بہانے تلاش کر کے ہم یہ بھول گئے ہیں کہ ہمارے مذہب اور ملک کو بنانے والے اسلاف ہی اصل رول ماڈل تھے اور وہ کردار کو بلند کرتے تھے ۔سادگی کو اپنا نشان بناتے تھے ،مگر ہم کردار کو ایک طرف رکھ کر عیش و عشرت کی زندگی سے انسان کا معیار بنانے لگے ہیں۔ تاریخ اسلامی کی شخصیات تو جاندار اور سورج کی روشنی کی طرح عیاں ہیں، اگر وہ مشکل سمجھتے ہیں تو تحریک پاکستان کے اپنے رہنماؤں کے کردار کو ہی دیکھ لیجئے۔ معیار زندگی کو کسی نے عروج پر نہیں پہنچایا ،نہ مال و دولت جمع کر کے اپنا قد بڑھانے کی کوشش کی۔ ہاں البتہ مال و دولت خرچ کر کے قد آور ضرور بنے۔ان کے پاس بھی کئی قسم کے جواز کے مواقع تھے، مگر انہوں نے کبھی جواز کے بت کو نہیں تراشا۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ ، لیاقت علی خاں، سابق وزیر اعظم محمد خاں جونیجو شہید چودھری ظہور الٰہی ،مولانا عبدالستار ایدھی، ان سب میں سے کسی نے اپنا مال و دولت بھارت سے آنے والے مہاجرین کی مدد میں خرچ کیا اور کسی نے اپنے پاکستانی معاشرے میں حق داروں کے حقوق پورے کرنے کی کوشش کی۔ *

مزید : کالم