بچت سکیمیں، پنشنر اور مہنگائی!

بچت سکیمیں، پنشنر اور مہنگائی!
بچت سکیمیں، پنشنر اور مہنگائی!

  

گھر میں روز یہ مسئلہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کیا پکایا جائے، ہم گھر میں تین افراد ہیں اور ان تینوں کے لئے تیار سالن دو روز تک چل جاتا ہے کہ ہم صبح توس سے ناشتہ کرکے دفتر آ جاتے ہیں تو پھر واپسی پر رات کا کھانا ہی کھایا جاتا ہے۔ صاحبزادہ صبح ناشتہ کے بغیر دفتر جا کر وہاں ناشتہ کر لیتا اور وہ بھی دوپہر کو گھر سے نہیں کھاتا اور اکثر اوقات رات کا بھی نہیں کھاتا، چنانچہ سالن بھی اسی تناسب سے پکنا ہوتا ہے۔ ہم نے تھوڑی بچت کی خاطر یہ عادت بنائی ہوئی ہے کہ مہینے میں ایک یا دوبار پیاز، ادرک وغیرہ لینے کے لئے علامہ اقبال ٹاؤن کی سبزی منڈی جاتے ہیں تو دو تین سبزیاں بھی لے آتے ہیں جو فریز ہو کر پکتی ہیں۔ علامہ اقبال ٹاؤن کی منڈی کو منڈی کہنا منڈیوں کے لئے شرم کی بات ہے کہ یہ بھی دراصل پرچون مارکیٹ ہی ہے کہ یہاں پھڑیوں کی دکانیں ہیں، آڑھتی ہر روز دو وقت صبح اور شام قریبی علاقوں سے لائی سبزیاں فروخت کرکے چلے جاتے ہیں اور پھر یہ پرچون فروش (پھڑیئے) سارا دن دکان داری کرتے ہیں، یہاں سے بھی صارفین کو اشیاء کچھ سستی مل جاتی ہیں، جبکہ علاقائی دکان دار کافی مہنگا سودا بیچتے ہیں۔

یہ منڈی یا پرچون فروشوں کی مارکیٹ ہمارے گھر سے نزدیک ہی ہے، چنانچہ تھوڑی بچت کے لئے یہیں سے سودا خریدنا پڑتا ہے کہ علاقے کے دکان دار من چاہے دام لگاتے ہیں۔گزشتہ روز صبح اخبار دیکھا اس میں مارکیٹ کمیٹی کے جاری کردہ نرخنامے پر نظر پڑی تو احساس ہوا کہ سودا کچھ سستا بک رہا ہے۔ اتنے میں صاحبزادی نے بتایا کہ فریزر خالی ہے۔ بہتر ہے کہ قریبی دکان دار سے شلجم لے کر دے جائیں، یہ بہتر تجویز تھی صاد کیا اور ایک مرتبہ پھر نرخنامے پر نظر گئی تو شلجم کے عام بازار والے نرخ پندرہ روپے اور گھیا کدو کے چالیس روپے فی کلو تھے۔ محلے کے سبزی فروش کی خدمت میں حاضر ہوئے شلجم تازہ نہیں تھے اس لئے گھیا کدو پسند کیا اور ایک کلو تلوایا، جب قیمت دریافت کی تو ساٹھ روپے فی کلو تھی۔ تعجب ہوا کہ یہ کیا بعید ہے چند قدم کے فاصلے نے 20روپے فی کلو اضافہ کر دیا ہے۔ جب دکاندار کی توجہ دلائی تو اس نے کہا پرچی دیکھ لیں، یہ گھیا تین سو روپے دھڑی (پانچ کلو) لے کر ایا ہوں اور اسی نرخ پر بیچ رہا ہوں کہ محلے میں دکان چلاتا ہے۔ محترم کو اخبار میں مارکیٹ کمیٹی کے نرخنامے کا بتایا تو بولے! یہ نرخ نامہ درست نہیں ہے۔ مارکیٹ کمیٹی والوں کو اصل حقائق کا علم نہیں۔ عرض کیا کہ چند قدم کے فاصلے کے نرخوں میں اگر 20روپے کلو کا فرق ہو گا تو یقیناًسودا خریدنے اس نام نہاد منڈی ہی کا رخ کریں گے، بہرحال ساٹھ روپے فی کلو کے حساب سے ہی ادائیگی کرنا پڑی۔

یہ تو ایک مثال ہے، ورنہ یہاں تھوک اور پرچون میں کوئی توازن ہی نہیں، ڈی سی او کی طرف سے بکرے کے گوشت کی قیمت فروخت پانچ سو روپے فی کلو مقرر کی ہے۔محلے میں سات سو بیس روپے، مارکیٹ میں 6سو اسی روپے سے سات سو روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہو رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں، دکان دار کا جواب بھی معقول ہے، وہ کہتے ہیں کہ منڈی شاہ پور کانجراں پر میٹ کمپنی کا کنٹرول ہے اور ہم وہاں سے تھوک کے حساب سے خریدتے ہیں،اگر وہاں نرخ صحیح ہوں تو ہم گاہکوں سے باتیں کیوں سنیں یہ میٹ کمپنی کس کی ہے اور اس کے ڈائریکٹر کون ہیں یہ راز ہے جسے خفیہ رکھا گیا ہوا ہے بہرحال ذبیحہ اور تھوک فروشی کی ذمہ دار یہی کمپنی ہے، اسی طرح والوں اور مصالحہ جات کا حال ہے جبکہ فروٹ کے نرخوں میں کمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا، کیلے اور سیب کے نرخ چھ ماہ سے ایک ہی چلے آ رہے ہیں، البتہ اب خربوزہ پچاس روپے فی کلو پر آ گیا ہے جو ایک سو بیس روپے فی کلو بکنا شروع ہوا تھا۔

یہ تمہید طولانی اس لئے ہے کہ سرکاری محکموں کی کارکردگی سے آگاہی ہو، ورنہ یہاں تو دودھ، گھی اور کرایوں میں جو عوامی استحصال ہو رہا ہے اس کا جواب ہی نہیں۔ غیر معیاری دودھ اور دہی 70اور اسی روپے فی لیٹر + کلو فروخت ہو رہا ہے۔ اگر ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی کو گڈ گورننس کے پیمانے سے ناپنا ہے تو ذرا اس امر پر نظر ڈال لیں۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھتے بڑھتے 104روپے سے 110روپے فی لیٹر تک تھے تو ٹرانسپورٹر (لوکل +انٹرسٹی) نے بتدریج کرائے بڑھائے اور عوام سے وصول کئے جا رہے تھے، جب عالمی مارکیٹ میں پٹرول کے نرخ گرنا شروع ہوئے تو حکومت نے بڑی مہربانی کی اور مسلسل تین ماہ تک نرخوں میں کمی کی، اس کا تناسب ملاحظہ فرمائیں کہ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات پچاس سے پچپن فیصد سستی ہو گئیں۔ پاکستان میں یہ نرخ تین ماہ میں کم گئے اور یہ کمی کل 27فیصد تھی، چنانچہ پٹرول 70روپے 29پیسے فی لیٹر تک آ گیا اور اسی تناسب سے ڈیزل کی قیمت کم ہوئی، اس کمی کے اثرات مارکیٹ پر مرتب نہ ہوئے پیکنگ والی اشیاء کے نرخ نہ گھٹائے گئے، سبزی اور فروٹ سستا نہ ہوا، اسی طرح ٹرانسپورٹر حضرات نے کرائے کم کرنے سے پہلے تو انکار کر دیا اور پھر بڑی مشکل سے پانچ سے سات فیصد کمی پر رضا مند ہوئے۔ یوں پٹرولیم کے سستا ہونے کے اثرات عوام (صارفین) تک کسی بھی طرف سے نہ پہنچے، اب عالمی مارکیٹ میں قریباً ایک ڈالر فی بیرل کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جسے عارضی کہا گیا ہے۔ پاکستان میں یکم اپریل سے نرخ بڑھائے گئے ۔یہ اضافہ پٹرول میں پانچ فیصد اور ڈیزل میں تین اعشاریہ پانچ فیصد کیا گیا یعنی پٹرول چار روپے اور ڈیزل تین روپے فی لیٹر بڑھایا گیا، اب ذرا پھرتی ملاحظہ فرمائیں کہ انٹرسٹی ٹرانسپورٹ والوں نے فوراً ہی پانچ فیصد اضافہ کر دیا اور لوکل ٹرانسپورٹر والوں نے فی سٹیج ایک روپے زیادہ وصول کرنا شروع کیا اور سواریوں سے جھگڑے ہونے لگے۔

یہ بنیادی طور پر اشرافیہ کی حکومت ہے اور اس سے اشرافیہ (خصوصاً سرمایہ داروں) کو زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔سٹیٹ بینک نے شرح سود کم کی ہے اس سے بنیادی فائدہ مالدار طبقے کو ہوا، جبکہ سرکار نے اس کمی کی روشنی میں بچت سکیموں کی شرح منافع کم کر دی ہے جو اس طرح ہے کہ ایک لاکھ روپے بچت سکیم میں لگانے والے کو اب پہلے ملنے والے منافع کی نسبت اب ایک لاکھ پر 40روپے کم ملیں گے اور یہ بچت سکیمیں ریٹائرڈ اور پنشن والے حضرات کی طرف سے ہی چلائی بھی جاتی ہیں اور ان کی گذر بسر بھی اسی آمدنی سے ہوتی ہے اب اگر کسی نے پچاس لاکھ جمع کرائے ہیں تو اس پر کمی دو ہزار روپے ہوئی۔ اس مہنگائی کے دور میں پنشنر اور بیوہ خواتین سے یہ سلوک کس گڈ گورننس کا ثبوت ہے یہ اللہ ہی جانے، خربوزہ چھری پر یا چھری خربوزے پر نقصان تو خربوزے ہی کا ہونا ہے۔ *

مزید : کالم