کاش ویسا نہ ہو

کاش ویسا نہ ہو

اب تو ٹیلی ویژن لگانے یا اخبار پڑھنے سے ڈر لگتا ہے، لیکن حقیقت تو حقیقت ہے۔ میرے ٹیلی ویژن نہ دیکھنے یا اخبار نہ پڑھنے سے بدلے گی نہیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی چیخ و پکار کان میں پڑتی ہے اور پھر تفصیلات جاننے کے لئے ٹیلی ویژن لگانا پڑتا ہے۔ خون سے لت پت سڑکیں، مسجدیں اور امام بارگاہیں، آہ و بکا کرتی عورتیں، آنسو بہاتے مرد، گالیاں دیتے نوجوان اور نوحے لکھتے دانش ور اور ادیب ہمارے معاشرے کی پہچان ٹھہرے ہیں۔پشاور کے واقعے میں معصوم بچوں کے خون سے نہائے ہوئے سکول کے کمرے اور برآمدے دیکھنے کے بعد تو نیند ہی اُڑ گئی ہے۔ رہ رہ کر ہسپتال کے بستر سے عمران خان کا دیا ایک بیان ذہن میں گونجتا ہے۔ ’’مَیں تو اس حکومت کو پانچ سال برداشت کر لوں گا، مگر لوگوں کی چیخیں نکل جائیں گی‘‘۔ عمران خان اور قوم دیکھ لے ایسا ہی ہو رہا ہے، لیکن عمران خان سے بھی پہلے ایک بلند قامت سیاسی مدبر اور منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے سپریم کورٹ میں اپنا بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا تھا ’’مجھے نہ مارو، ورنہ سفید ریچھ تمہاری سرحد پر آکر بیٹھ جائے گا‘‘۔ چشم فلک نے دیکھا کہ انہیں تخت دار پر پہنچا دیا اور پھر آپ سب نے دیکھا کہ سفید ریچھ ہماری سرحدوں پر آ بیٹھا اور اس کو وہاں سے نکالنے کے لئے ہم نے اپنے علاقے بدمست ہاتھی اور اس کے گماشتوں کی حوالے کر دیئے۔

لیکن عوام کے مزاج شناس اس سیاسی لیڈر نے وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے اپنی آخری پریس کانفرنس میں کہا :’’کوئی راسپوٹین آئے گا یا فرشتے آئیں گے اور پھر خاتم الخیر ہوگا‘‘۔

ذوالفقار علی بھٹو جو ایک سیاست دان سے زیادہ سیاسی دانش ور اور مدبر تھے۔ وہ پاکستان کے دوسرے بڑے لیڈر تھے جو عوام کے دلوں میں بستے تھے، جو مستقبل کو بھانپ سکتے تھے، نوشتہ دیوار پڑھنا تو بہت سوں کو آتا ہے ،وہ پس دیوار دیکھنے کی صلاحیت کے مالک تھے، ان کے لئے ہی علامہ اقبالؒ نے کہا تھا:

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے

بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

لیکن ہم نے اپنی آزادی کے صرف تیس سال کے اندر اندر دو بڑے لیڈروں کو غیر طبعی موت سے ہمکنار کر دیا۔ دو دیدہ درگنوا دیئے۔ عمران خان آج نوشتہ دیوار پڑھ کر بتا رہے ہیں، لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے یہ ستر کی دہائی میں کہا تھا۔ سفید ریچھ ہماری سرحدوں تک آ گیا۔ یہ آج تاریخ ہے۔ 

ذوالفقار علی بھٹو جس نے سرزمین پاکستان کو 1973ء کا متفقہ آئین دیا۔ آج یہی آئین موجودہ پاکستان کی نظریاتی اور سیاسی قوت ہے، جو ہمیں ایک قوم کے طور پر باہم باندھے ہوئے ہے۔انہوں نے ہی ہمیں ایٹمی پروگرام دیا اور 1970ء کی شکست کے بعد نئے عزم اور حوصلے سے ہمکنار کیا۔ آج یہی پروگرام ہماری جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کا ضامن ہے اور قوم اس پر فخر کرتے نہیں تھکتی۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حوصلہ مند اور انتہائی قابل بیٹی بے نظیر بھٹو نے میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرکے اپنے باپ کے شروع کئے پروگرام کو منطقی انجام تک پہنچایا۔ پاکستان اب نہ صرف یہ کہ ایٹم بم رکھتا ہے، بلکہ اسے مطلوبہ نشانے تک پہنچا بھی سکتا ہے۔ یوں پاکستانی دفاع ناقابل تسخیر بنا دیا گیا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ہی مڈل ایسٹ کی لیبر مارکیٹ کے دروازے پاکستانی ہنر مندوں پر کھولے اور لاکھوں پاکستانی مشرق وسطیٰ کے ممالک میں پہنچے اور صاحب روزگار ہوئے۔ نہ صرف یہ کہ ان کے گھروں میں خوشحالی آئی، بلکہ پاکستان کا زرمبادلہ کا ذخیرہ اسی کمائی کا مرہون منت ہے جو ہنر مند و غیر ہنر مند پاکستانی کماکر بھیج رہے ہیں۔ اب آپ خود ہی سوچئے کہ جو لیڈر نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کا قصور وار ہو جو معاشی خوشحالی کا سزا وار ہو، اس کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کے بعد اس قوم کو کیسے لیڈر ملنے کی توقع رکھنی چاہیے۔

دوسری طرف دیکھئے جنرل ضیاء الحق نے بھٹو دشمنی میں اور پیپلزپارٹی کو ختم کرنے کے لئے کراچی میں ایم کیو ایم کھڑی کی۔ اندرون سندھ اور بلوچستان میں قوم پرستوں کی پشت پناہی کی۔ پنجاب اور سرحد میں دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی سرپرستی کی۔ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے نیم خواندہ مولویوں کو سر پر بٹھایا۔ اسلام کی مسخ شدہ شکل کو نافذ کیا۔ نام نہاد جہاد کے نام پر دنیا بھر کے دہشت گرد اپنے قبائلی علاقوں میں جمع کر لئے۔ امریکہ کے ایجنڈے کی تکمیل کرتے ہوئے دنیا کو یونی پولر بنا دیا۔ اب امریکہ سب کو آنکھیں دکھاتا پھرتا ہے اور اسے روکنے والا کوئی نہیں۔ فرقہ بندی کا جن بوتل سے نکالا اور ملک میں آئین و قانون کو مذاق بنا کر رکھ دیا۔ صرف پاکستان پیپلزپارٹی ختم کرنے کے لئے ۔ وہ تو ختم نہ ہوئی، مگر پاکستانی سماج کی بنیادیں ہل گئیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کی پیش گوئی بار بار میرے کانوں میں گونج رہی ہے اور دل سے ایک ہی دعا نکلتی ہے کہ کاش ویسا نہ ہو۔ وہ پیش گوئی غلط ہو جائے، مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا پاکستان کے حکمرانوں اور عوام کو صورت حال کی نزاکت کا احساس ہے۔ بظاہر لگتا ہے کہ حکمرانوں کو یہ احساس ہو نہ ہو، مگر اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ کو یہ احساس ہو چکا ہے۔ طالبان کے خلاف اچھے اور بُرے طالبان کی تفریق نہ کرتے ہوئے بھرپور کارروائی اور ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن یہ ثابت کرتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کو ادراک ہو چکا ہے، لیکن انہیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ضیاء الحق کی سوچ کی نفی کئے بغیر اس دور کی پیداوار کو تلف کئے بغیر یہ کارروائی نتیجہ خیز نہیں ہوگی۔ سعودی عرب فوج بھجوانے کا فیصلہ اسی سوچ کی عکاسی کررہا ہے، جس کا روکنا ضروری ہے۔ان تمام لوگوں اور اس سوچ کو جس نے پاکستان پیپلزپارٹی دشمنی کو ملک دشمنی بنا کر اس کی آڑ میں یہ گند ڈالا ہے کہ اس گند کے ساتھ ہی صاف کرنا ہوگا۔پاکستان کے محسن ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ہوئی بے انصافی کی تلافی بھی ازحد ضروری ہے، جس کے لئے بھٹو کیس کو دوبارہ کھولنا ہوگا، تاکہ سچ سامنے آ سکے اور اس تاریخی بے انصافی کی تلافی ہو سکے جو ہم نے اپنے قومی ہیرو کے ساتھ روا رکھی۔اس کے ساتھ ساتھ عوام کی حکمرانی کے حق کو تسلیم کرنا ہوگا اور عوامی رائے کا احترام کرنا ہوگا۔ ووٹ کی چوری ختم ہونی چاہیے اور عوام کے منتخب افراد کو حکمرانی کا حق ملنا چاہیے، یہی ہمارے مسئلوں کا حل ہے۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...