یمن میں خا نہ جنگی

یمن میں خا نہ جنگی
یمن میں خا نہ جنگی

  

آج یمن میں خانہ جنگی کی صورت حال دیکھ کر وہ وقت شدت سے یا د آتا ہے جب چند ما ہ پہلے تک امریکی حکومت اور میڈیا یمن کو’’ دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ میں ایک نمو نہ قرار دیتے تھے ،کیونکہ یمن میں پہلے علی عبداللہ صالح اور اس کے بعد منصور ہا دی کی آمرانہ حکومتوں کے دوران یہ دونوں حکمران امریکی اشا روں پر نا چتے تھے ۔ خاص طور پر علی عبداللہ صا لح نے،جس نے 33سال تک یمن میں حکومت کی 9/11کے بعد امریکی ہتھیا روں اورپیسوں کے عوض امریکہ کی ہر با ت پر لبیک کہنا شروع کیا ،جبکہ اسی اثنا میں علی عبد اللہ صا لح نے یمن میں حو ثیوں سمیت اپنے سیا سی مخا لفین کی آواز کو دبانے کے لئے ہر وہ ہتھکنڈہ اپنا یا جو مشرق وسطیٰ کے شاہی یا شخصی آمر اپناتے آئے ہیں۔اس سب کے با وجود امریکہ کی جانب سے صالح کو ایک’’ سیکو لر اور لبرل حکمران‘‘ قرار دیا جا تا رہا ۔یمن کی موجودہ مخدوش صورت حال ان لو گوں کے لئے ہر گز حیرت کا باعث نہیں جو جا نتے ہیں کہ امریکہ اس خطے میں تیونس کے زین العابدین بن علی اور مصر کے حسنی مبارک کو بھی سیکو لر اور لبر ل حکمران قرار دیا کرتا تھا۔(جیسے اب مصر کے ایک اور فوجی آمرا لسیسی جو حسنی مبا رک سے بھی زیا دہ جا برانہ پا لیسی اپنا ئے ہو ئے ہے امریکہ اس کو بھی سیکو لر راہنما قرار دیتا ہے)۔

تیونس، مصر ، اوریمن کے یہ نا م نہا د سیکولر حکمران اپنے مخالفین پر جو قہر برساتے رہے اس پر امریکہ سمیت مغربی دنیا کی آنکھیں بند ہی رہیں یہی وجہ ہے کہ اختلاف رائے پر ہر طرح کے پہرے بٹھانے سے مشرق وسطی ٰکے اکثر ممالک میں لا وا اندر ہی اندر پکتا رہا اور اب مشرق وسطی ٰکے کئی ممالک اس لاوے کی لپیٹ میں آرہے ہیں۔مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کی مثال کو ایک طرف رکھتے ہو ئے اگر صرف یمن کو سامنے رکھا جائے کہ جہا ں پر کئی عشروں سے اندر ہی اندر پکنے والا لا وا اب خانہ جنگی کی صورت ا ختیا ر کر گیا ہے تو معروض سمجھنے میں بہت آسانی رہے گی ۔ اگر علی عبداللہ صالح کے بعد 2012میں یمن کے صدر بننے والے منصور ہا دی خود اپنے وعدوں اور معا ہدوں کا پا س کرتے اور نیشنل ڈائیلاگ کانفرنس میں طے کئے گئے نکات پر عمل کرتے ہوئے حقیقی جمہو ریت اور صحیح معنوں میں ایک ترجمان حکومت بنانے کے لئے عملی اقداما ت کرتے تو کیا آج یمن میں خانہ جنگی ہو رہی ہو تی؟یا آج ایران کے بڑھتے ہو ئے اثر و رسوخ کو بنیا د بنا کر سعودی عرب یمن میں حو ثیوں پر حملے کر رہا ہوتا؟

مشرق وسطیٰ آج جس صورت حال سے دوچا ر ہے اس میں اس خطے کے داخلی سیا سی اور سما جی نظاموں کا بہت گہرا عمل دخل ہے، مگر مشرق وسطیٰ کی مخدوش صورت حال میں داخلی عوامل کے ساتھ ساتھ جس خا رجی عامل نے سب سے اہم کردار ادا کیاہے وہ امریکی سامراج ہے۔اگر غیر جا نبداری سے دیکھا جا ئے توما ضی قریب میں امریکہ کی جانب مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اپنا ئی گئی پالیسیوں کی بدولت آج صور ت حال یہ ہو چکی ہے کہ امریکی پا لیسوں میں تضاد در تضا د ہی نظر آرہا ہے۔حتیٰ کہ رینڈ کا رپو ریشن اور national endowment for democracy (NED)جیسے بڑے امریکی تھنک ٹینکس اور واشنگٹن پو سٹ اور وال اسٹریٹ جیسے بڑے اخبا رات کے اداریے بھی مشرق وسطیٰ میں امریکی تضا دات سے بھر پو ر امریکی پا لیسیوں پر حیرت کا اظہا ر کرتے نظر آرہے ہیں۔ایک طرف امریکی جنگی طیا رے عراق میں تکریت کے مقام پر دولت اسلا میہ(داعش)کے خلاف وہاں موجود ایران نواز شیعہ ملیشیا کو حما یت فراہم کرنے کے لئے کا رر وا ئیاں کر رہے ہیں ۔

دوسری طرف شام میں قائم بشار الاسد کی ایران نواز علوی حکو مت کے خلاف آزاد شامی فوج کے عنا صر کو بھی امریکہ کی حما یت مل رہی ہے، مگر اس تضا د کے اندر ایک تضا د یہ بھی ہے کہ اسی بشا ر الاسد حکومت کے خلا ف بر سر پیکا ر داعش اور القا عدہ کے حامی گروپ النصرہ فرنٹ کے خلاف یہی امریکہ کار روائیاں بھی کر رہا ہے۔اسی طرح ایک طرف یمن کے معاملے میں امریکہ اپنے پرانے حلیف سعودی عرب کے موقف اور حملوں کی زبا نی کلامی تو حما یت کررہا ہے ،مگر دوسری طرف وہ حو ثیوں کی حما یت کرنے پر (سعودی عرب کے مطا بق) ایران کی مخالفت بھی نہیں کر رہا کیو نکہ امریکہ ، ایران کے ساتھ ایٹمی معا ہدے کر رہاہے ۔شاید یہی وجہ ہے امریکہ اپنے میڈیا کے چند حصوں کی مدد سے یہ تا ثر بھی دینا چا ہ رہا ہے کہ ایران حو ثیوں کی مدد ہی نہیں کر رہا ۔ نیو یا رک ٹا ئمز میں27 مارچ کو مارک مزیٹی کی جانب سے لکھے گئے آرٹیکل A Policy Puzzle of U.S. Goals and Alliances in the Middle Eastاس مو قف کی صرف ایک ہی مثال نہیں، بلکہ کئی امریکی تجز یہ نگا ر یہی دعویٰ کر رہے ہیں کہ سعودی عرب کے یمن پرحملے تک ایران حو ثیوں کی پشت پنا ہی نہیں کر رہا تھا، مگر یمن پر سعودی حملہ ہونے کے بعد ایران نے حوثیوں کی امداد کرنا شروع کی۔

جہاں تک یمن میں حو ثیوں پر حملے کے لئے امریکی شہہ کا تعلق ہے تو بعض حقا ئق اس امر کی جانب اشارہ کر رہے ہیں کہ سعودی عرب نے یمن پر حملے سے ذرا دیر پہلے ہی امریکیوں کو اس با رے میں آگا ہ کیا۔ امریکی ملٹری کی سنٹرل کما نڈ کے سربراہ جنرل لائیڈ آسٹن نے حال ہی میں سینٹ میں اعتراف کیا ہے کہ انہیں سعودی عرب میں وزارت دفا ع کے سربراہ نے یمن پر حملے سے عین پہلے اطلا ع دی اور امریکہ کے پاس اس حملے کے مقا صد کے با رے میں بھی مکمل معلوما ت نہیں ہیں۔دوسری طرف امریکہ میں سعودی سفیرعدیل الجبریرنے اپنے بیا ن میں کہا ہے کہ سعودی عرب نے اس حملے سے تھوڑی دیر پہلے ہی امریکہ کو آگا ہ کیا تھا۔ حتی ٰ کہ جب جان کیری نے 5مارچ کو سعودی عرب کا دورہ کیا تو اس قوت بھی یمن پر با ت چیت تو ضرور کی گئی ،مگر اس پر با ضا بطہ حملہ کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں تھی۔ یہاں بنیا دی سوال یہ ہے کہ سعودی عرب جیسے امریکی حلیف ملک نے یمن پر حملے سے پہلے امریکہ کو اگر بھر پور طریقے سے اعتماد میں نہیں لیا تو اس کی بنیا دی وجہ کیاہے؟اس حوالے سے مغربی میڈیا کے ساتھ ساتھ خود عرب میڈیا بھی یہ دعویٰ کررہا ہے کہ دراصل سعودی عرب نے یمن پر حملہ کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اس خطے میں ایرانی اثرو رسوخ میں اضافے اور امریکہ کی جانب سے ایران سے جو ہری معاہدے کرنے کے با وجود سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں اپنا اثرورسوخ رکھتا ہے، جس کے لئے اسے امریکی پشت پنا ہی کی ضرورت نہیں۔

عر ب لیگ کا فوری اجلاس بلا کر بھی سعودی عرب نے امریکہ کو یہی پیغا م دیا کہ مصر سمیت دیگر عرب ممالک بھی سعودی قیا دت میں اکٹھے ہیں۔پاکستان سمیت اسلامی دنیا کے دیگر کئی ممالک میں سعودی عرب کے یمن پر حملے کو سنی شیعہ تنا زعہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔یہ درست ہے کہ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اپنے اثرو رسوخ کے لئے سنی پرا کسیز،جبکہ ایران شیعہ پراکسیز پر ہی انحصار کرتا ہے ، مگر یمن کا حا لیہ مسئلہ فر قہ وارانہ سے زیا دہ سیا سی ، علا قائی اور معاشی( باب المندب کا راستہ جو سعودی تیل بر آمد کرنے کی اہم گزر گاہ ہے) ہے۔اگر یمن کے حالیہ مسئلے کا تعلق محض سنی شیعہ تناز عے سے ہو تا تو علی عبداللہ صالح جیسا سیکو لر شخص حو ثیوں کی حما یت نہ کر رہا ہو تا۔ یمن کے حالیہ مسئلے میں فرقہ وارانہ پہلو ایک جزو کے ساتھ تو موجود ہو سکتا ہے، مگر یہ اس تنا زعہ کا کل ہرگز نہیں ہے۔پا کستان کو یمن کے مسئلے پر سعودی عرب کی مدد کے لئے فوج بھیجنی چا ہیے یا نہیں؟ اس با ت کا فیصلہ تا ریخی تنا ظر کو ہی سامنے رکھ کر کیا جا نا چا ہیے اور دیکھنا چا ہیے کہ جب پا کستان کے حکمران مختلف جواز گھڑ کر دوسرے ممالک یا خطوں میں ہو نے والی جنگوں میں شامل ہوتے رہے تو ایسے فیصلوں کے پا کستان کی سیاسی ، معا شی اور سب سے بڑھ پر سما جی بنت پر کیا کیا اثرات مرتب ہوئے؟۔ پا کستانی تا ریخ کا ایک اوسط درجے کا طالب علم بھی اس سوال کا جواب اچھی طرح جا نتا ہے۔ *

مزید : کالم