مائیکل مور‘‘ اگر مَیں صدر بن گیا

مائیکل مور‘‘ اگر مَیں صدر بن گیا
مائیکل مور‘‘ اگر مَیں صدر بن گیا

  

مائیکل مُورکو کون نہیں جانتا۔ نائین الیون کی حقیقت پر سوالات اُٹھانے والی ڈاکو مینٹری فارن ہائیٹ نائین نے امریکہ بھر میں تہلکہ مچا دیا تھا۔ وہ بہت سی ہٹ فلموں اور کتابوں کے مصنف ہیں۔ ٹی وی پر اس کے پروگرام Tv nation اور The awful truth بہت مقبول رہے ہیں۔

صدر باراک اوباما کی انتخابی مہم میں زبردست حمایت کی، جب صدر باراک اوباما نے حسب وعدہ گوانتا ناموبے کی جیل بند نہ کی تو مائیکل مُور کو بہت افسوس ہوا اور اس نے اس پر احتجاج بھی کیا۔ جب صدر باراک اوباما نے انتخابی وعدوں کے مطابق عراق اور افغانستان جنگ بند کرنے اور وہاں سے فوجیں واپس بلانے سے انحراف کیا تو بھی مائیکل مور نے آواز بلند کی۔ صدر باراک اوباما نے افغانستان سے حسب وعدہ فوج نکالنے کی بجائے پچاس ہزار مزید فوجی افغانستان بھیجے تو مائیکل مورنے صدر باراک اوباما کے نام ایک کھلا خط لکھا۔ مَیں نے ایک کالم میں اس خط کے مندرجات قارئین تک پہنچائے تھے۔

امریکہ کا قدیم ترین جریدہ ’’دی نیشن‘‘ 26 مارچ 2015ء کو پورے ڈیڑھ سو سال کا ہوگیا ہے۔ دی نیشن نے اس موقع پر مائیکل مور سے فرمائش کی کہ وہ ’’دی نیشن ‘‘ کے لئے دی نیشن پر ایک تنقیدی مضمون لکھے۔ مائیکل مور نے لکھا کہ ایڈیٹر نے مجھے تنقیدی مضمون لکھنے کے لئے کہا تھا، لیکن مَیں یہ نہیں کر سکا، میری ’’دی نیشن‘‘ کو صرف ایک سادہ سی نصیحت ہے کہ وہ اپنے کام کو جاری رکھے، کوئی تبدیلی نہ کرے، ہر چیز بالکل ٹھیک ٹھاک ہے، البتہ مَیں دی نیشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ پورے ڈیڑھ سو سال سے سچ بول رہا ہے۔ اگرچہ دی نیشن سچ لکھ رہا ہے، بول نہیں رہا، لیکن مائیکل مور نے اسے سچ بولنا قرار دیا ہے۔ مائیکل مور لکھتا ہے کہ ایڈیٹر کی فرمائش پوری کرنے کی بجائے مَیں کچھ اور لکھ رہا ہوں اور دی نیشن کے اس تاریخی شمارے میں ایک کمیٹی کی تشکیل کا اعلان کرنا چاہتا ہوں جو یہ جائزہ لے کہ 2016ء کے صدارتی انتخابات میں مائیکل مور کی کامیابی کے کس قدر امکانات ہیں۔ دوسرے لفظوں میں مَیں صدارتی دوڑ میں شامل ہونے کا باقاعدہ اعلان تو نہیں کر رہا صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کیا مجھے اس دوڑ میں حصہ لینا چاہئے؟

میں صدر منتخب ہو گیا تو کیا کروں گا:۔

ایک چارجنگ تار،میں فوری طور پر ایک حکم نامہ جاری کروں گا کہ الیکٹرانک کی تمام اشیاء، آلات وغیرہ کو چارج کرنے کے لئے صرف ایک ہی (یکساں) چارجر اور تار ہونا چاہئے۔ موسیقی کے آلات (ٹیپ ریکارڈ وغیرہ) ٹیلی فون، کمپیوٹر، ٹیبلٹ، کیمرے اور ہرچیز کے لئے بس ایک ہی چارجر ایک ہی چارجنگ تار، جیسے ایک ہی تار سے ان سب آلات کو بجلی فراہم کی جاتی ہے اور سوسال سے ایک ہی ساکٹ میں ایک ہی طرح کے پلگ لگائے جا رہے ہیں۔ میرا خیال ہے صرف اس ایک انقلابی وعدے کی بدولت میرے منتخب ہونے کی راہ ہموار ہو جائے گی، لیکن بہر حال مَیں کسی ایک وعدے پر اکتفا نہیں کروں گا، چند مزید وعدے بھی ہیں۔۔۔(2)۔ میں ووٹ ڈالنے کی عمر کم کر کے سولہ سال کر دوں گا، کیونکہ بیس سال سے کم عمر نوجوان اگر اپنے ملک کی خاطر مر سکتا ہے (فوج میں بھرتی کیا جا سکتا ہے) تو اسے کچھ معلوم تو ہونا چاہئے کہ اُسے کون میدانِ جنگ میں بھیج رہا ہے ۔ اس عمل میں اُن نوجوانوں کو بھی کچھ اختیار حاصل ہونا چاہئے۔

(3)۔ اگر پھر کبھی جنگ کا بلاوا آئے اور ہم پھر کسی ملک پر چڑھائی کرنے چلیں تو مَیں بطور کمانڈر انچیف (امریکی صدر بلحاظ عہدہ امریکی فوجوں کا اعلیٰ ترین کمانڈر ہوتا ہے، اسے سپریم کمانڈر بھی کہتے ہیں) یہ اعلان کروں گا کہ کانگریس کے سارے کے سارے ارکان کے بالغ بچے سب سے پہلے جنگ میں بھیجے جائیں، صدر اور صدر کی کابینہ کے ارکان کے بچے، اس کے بعد مشہور پانچ سو امیر ترین کارپوریشنوں کے سی ای اوز کے بچے جنگ میں بھیجے جائیں اور ہاں فوجی ٹھیکیداروں (بلیک واٹر وغیرہ) کے بچے بھی اس میں شامل ہوں۔ اس طرح جنگوں میں خود بخود ایک معقول حد تک کمی واقع ہو سکے گی۔

(4)۔ مَیں ایچ بی او ٹی وی سب کے لئے مفت کر دوں گا۔۔۔

(5)۔ مَیں تمام طلبہ کے تعلیمی قرضے معاف کردوں گا اور کام کے عوض پڑھائی، تعلیمی گرانٹس، وظائف اور حد کم سے کم سود پر مبنی تعلیمی قرضوں کا نظام رائج کر دوں گا۔ مائیکل مور کا کہنا ہے کہ کئی ملکوں میں ایسا نظام موجود ہے۔۔۔

(6)۔ میں پینٹاگان (وزارت دفاع) کا بجٹ 75 فیصد کم کر دوں گا اور اس سے بچنے والی رقم کو، اوپر جس تعلیمی منصوبے کا ذکر کیا ہے پر خرچ کروں گا۔ اس رقم سے کئی دوسرے فلاحی منصوبے بھی چلاؤں گا اور اس 75 فیصد کی کٹوتی کے بعد بھی ہمارے پاس دُنیا کی سب سے بڑی فوج ہو گی جو دُنیا بھر کو کئی بار تباہ کرنے کی طاقت رکھتی ہو گی، بس فرق اتنا ہوگا کہ ساری دُنیا کو اب جتنی بار تباہ کر سکتی ہے، اس سے کچھ کم بار تباہ کر سکے گی۔۔۔۔

(7)۔ تمام امریکیوں کو عین وہی علاج معالجہ میسر ہوگا، جو کانگریس کے ارکان کو مفت میسر ہے، اسے عوام کے لئے بھی مفت کر دیا جائے گا۔

(8)۔ علاج معالجے کی یہ مفت سہولتیں امریکیوں کو دُنیا بھر میں ہر جگہ میسر ہوں گی، جن میں دماغی امراض دانتوں کی بیماریوں کے علاج بھی شامل ہوں گے۔ اگر تمام امریکیوں کو دانتوں اور دماغ کی درستگی کی سہولتیں میسر ہوں گی تو ڈاکٹروں کے پاس جانے کی فیس (اور ضرورت) دونوں کم ہو جائیں گی۔۔۔

(9)۔ امراء اُسی شرح سے سوشل سیکیورٹی ٹیکس ادا کریں گے، جس شرح سے ہمارا ہر مڈل کلاس شخص اس وقت ادا کر رہا ہے۔ اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ ایک لاکھ اٹھارہ ہزار پانچ سو ڈالر سے زائد صرف سوشل سیکیورٹی ٹیکس ادا کیا جا رہا ہے لیکن اس کے برعکس جو شخص اس دور میں ایک لاکھ اٹھارہ ہزار پانچ سو ڈالر سے کم کما رہا ہے، اُسے اپنی ساری آمدن پر پورا پورا سوشل سیکیورٹی ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے۔ گویا ایک لاکھ اٹھارہ ہزار پانچ سے اوپر اربوں تک جو کمائی ہے، وہ سوشل سیکیورٹی سے مستثنیٰ ہے، ایک کھرب پتی بھی محض ایک لاکھ اٹھارہ ہزار پانچ سو پر سوشل سیکیورٹی ٹیکس ادا کرتا ہے، جبکہ غریب آدمی اس حد سے نیچے تھوڑی سے تھوڑی آمدنی پر بھی سوشل سیکیورٹی ٹیکس ادا کرنے پر مجبور ہے۔ اس طرح امیروں کی اس حد سے بالا آمدنی پر سوشل سیکیورٹی ٹیکس عائد کرنے سے اس مد میں اس قدر رقم آ جائے گی جو آئندہ کئی سال بلکہ صدیوں تک ختم نہیں ہو گی۔

(10)۔ ہم ایک بار پھر اس عظیم ری پبلیکن صدر جیرالڈ فورڈ کے عہد میں لوٹ جائیں گے اور ٹیکس کی وہی شرح نافذ کر دیں گے (اس وقت ری پبلکن ٹیکس لگانے کے سخت خلاف ہیں بلکہ ان کی پالیسی ’’ٹیکس کٹ‘‘ ہے)۔۔۔ ہاں البتہ شاید ہمیں آئزن ہاور کے عہد تک لوٹنے کی ضرورت نہ پڑے، جب انکم ٹیکس کی شرح نوے فیصد تھی، ہمیں صدر ریگن کے دور سے ذرا سا پیچھے جانا پڑے گا، جب یہ شرح ستر فیصد تھی۔۔۔

(11)۔ بلٹ ٹرین، اس کے بارے میں بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔

(12)۔ مَیں امریکی کھانوں میں میٹھے کی بھرمار ختم کرنے کے لئے ’’ہائی فرکٹوز کارن سیرپ‘‘ جو ایک سستا زہر ہے، اس پر پابندی لگا دوں گا۔ مجھے وکلاء نے ہدایت کی ہے ’’سستا زہر‘‘ کو واوین ‘‘ میں لکھوں تاکہ اس کے بنانے والے میرے پیچھے نہ پڑ جائیں۔ یہ سستا زہرتمام مہذب ملکوں میں کئی وجوہات کی بنا پر بین ہے اور شاید اسی وجہ سے ان ملکوں میں ذیا بیطس (شوگر) کی بیماری امریکہ کی نسبت کم ہے۔۔۔

(13)۔ اگر کسی کو سنیما ہال میں موبائل فون (یا ایسا ہی کوئی دیگر آلہ) استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا تو سزا کے طور پر اس کی دھلائی کی جائے گی۔ اس ترکیب اور تجویز کے لئے مَیں سی آئی اے کا شکر گزار ہوں۔

(14) جن معاملات میں مجھے کچھ شبہ ہوگا، اس میں میں کینیڈین کی پیروی کروں گا۔ ہینڈگن اور نیم خود کار آتشیں اسلحے پر پابندی عائد کر دوں گا۔ انتخابات آٹھ ہفتوں پر محیط ہوں گے، پھر سے کاغذی ووٹ مروج کر دوں گا۔ ٹی وی پر دوا ساز کمپنیوں کے اشتہارات نہیں ہوں گے، بینکوں اور مالیاتی اداروں کے لئے سخت ضوابط جاری کروں گا، دہشت گردی کے حملوں کے بعد شہری آزادیوں کو ختم کرنے سے انکار کر دوں گا، کیوبا کے ساتھ تجارت کا آغاز کروں گا، فٹ بال کے کھیل میں ڈاؤنز کی تعداد تین کر دوں گا۔

(15)۔ تمام سکولوں میں پھر سے شہریت کا مضمون پڑھایا جائے گا (اکثر سکولوں میں ان دنوں نہیں ہے) کیونکہ اگر نوجوانوں کو سولہ سال کی عمر میں ووٹ ڈالنے کا حق دوں گا تو اُنہیں معلوم بھی ہونا چاہئے کہ ووٹ کیسے کام کرتا ہے؟

(16)۔ بچوں کے اذہان روشن کرنے کے اوقات میں اُنہیں ہاتھ سے حروف ملا کر لکھنے کی تربیت دی جائے گی۔ یہ ایک ایسا کام ہے جو ہم سب کر سکتے ہیں۔ لکھائی کی حیثیت انگلیوں کے نشانات کی طرح ہے۔ ہم مشین نہیں، اس لئے لانگ ہنڈ میں لکھنا ہی ہماری اصل سے روشناس کرائے گا۔ یہ دُنیا بہت سرد مہر ہے۔ ہم سے یہ انسانی خاصیت چھیننے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے؟ ہاتھ سے خوبصورتی کے ساتھ لکھا ہوا نوٹ کسے اچھا نہیں لگتا۔

(17) ۔ ہم تھیو کریسی کو واپس نہیں لائیں گے۔ ۔۔۔

(18)۔ تمام امریکیوں کو چار ہفتے کی لازمی تنخواہ ، چھٹی دی جایا کرے گی۔ (مالکان نوٹ فرما لیں، مَیں اُنہیں ایک تحقیقی رپورٹ ارسال کروں گا، جس کے مطابق ان لازمی چھٹیوں سے ملازمین کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا)

(19) جیل خانے کارپوریشنوں کے تحت نہیں چلائے جائیں گے، انہیں حکومت چلائے گی، انہیں عقوبت خانے بنانے کی بجائے مجرموں کوکچھ سکھانے اور ان کی بحالی کے لئے استعمال کیا جائے گا۔یہ جیلیں کمزور طبقات، اقلیتوں اور نسلی گروہوں کو محبوس کرنے کے لئے نہیں ہوں گی۔ غیر متشددانہ جرائم والوں کو جیلوں میں بند نہیں کیا جائے گا، ان سے یا چوری کرنے والوں سے نقصان کا ازالہ کرایا جائے گا۔

(20) بطور امریکی ہم ایک دوسرے کے لئے مہربان ہوں گے، نہ صرف ایک دوسرے کے لئے بلکہ دنیا بھر کے لئے بھی۔۔۔ بطور صدر میرے ایجنڈے میں تعلیم اور تربیت کو اولیت اور جہالت کو مٹانے کو اولیت حاصل ہوگی۔ جہالت خوف پیدا کرتی ہے، خوف نفرت کو جنم دیتا ہے اور نفرت تشدد کو جنم دیتی ہے۔ امریکہ میں یہ مساوات ایک عرصے سے اسی طرح کام کررہی ہے۔ میرے انتخابات سے اس مساوات کے خاتمے کا آغاز ہو جائے گا۔

مائیکل مور کے اس انتخابی منشور سے میرے قارئین کو معلوم ہوگیاہوگا کہ مَیں جو کچھ امریکہ کے بارے میں لکھتا آیا ہوں، وہ کسی تعصب یا کج فہمی کی بنا پر نہیں ہے۔ صاحبان فراست اور صاحبان دل امریکی امریکہ کی ان خرابیوں کا اعتراف بھی کرتے ہیں اور ان کی اصلاح بھی چاہتے ہیں، جبکہ میرے بہت سے بھائی یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ امریکہ میں بھی کوئی خرابی ہو سکتی ہے۔ مائیکل مور نہ تو دیسی ہے، نہ کالا ہے، سفید فام پڑھا لکھا دانشور امریکی ہے۔ *

مزید : کالم