عوام کی جیب پر ڈاکہ

عوام کی جیب پر ڈاکہ

اوگرا کی طرف سے وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تو عوام کا یہ اندیشہ سو فیصد درست ثابت ہوا کہ منافع خور میدانِ عمل میں ہوں گے، چنانچہ سبزی منڈی میں سبزیوں کے نرخوں میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا تو انٹر ڈسٹرکٹ ٹرانسپورٹ والوں نے ازخود کرایوں میں پانچ فیصد اضافہ کر دیا کہ حکومت کی طرف سے پٹرول کے نرخ پانچ فیصد بڑھائے گئے اور ڈیزل کے نرخوں میں 3.5فیصد اضافہ ہوا تھا۔ہمارے ملک میں سرکار بھی عوام کو لوٹتی ہے اور سرمایہ دار بھی انہی کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ یہ حکومت کی گڈ گورنس تھی کہ مسلسل چار ماہ تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو کمی ہوئی وہ مجموعی طور پر27فیصد تھی، اس کمی کے باوجود اشیاء ضرورت اور اشیاء خوردنی سمیت کسی کے نرخ کم نہیں ہوئے تھے، البتہ حکام کے زور دینے پر ٹرانسپورٹر حضرات نے 5سے7فیصد تک کرائے کم کئے، جو27فیصد کی کمی کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھے، اب ایک ہی بار 3.5فیصد اضافہ ہوا تو کرائے پانچ فیصد بڑھا دیئے گئے اور حکومت کی طرف سے کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ اتنا کہا گیا ہے کہ ٹرانسپورٹ کمپنی ٹرانسپورٹرز کا اجلاس بُلا رہی ہے۔صرف اِسی ایک پہلو سے حکومتی کارکردگی سوالیہ نشان کا باعث بنتی ہے کہ جو بوجھ عوام کی طرف منتقل ہونا ہوتا ہے وہ تو بلا چون و چرا ہو جاتا ہے اور جب کمی کی باری آتی ہے، تو کوئی پُرسان حال نہیں، اس وقت اقتدار پنجاب اور وفاق میں مسلم لیگ(ن) کے پاس ہے اور جواب دہی بھی انہی پر لازم ہے، اس لئے بہتر ہے کہ ان امور پر توجہ مبذول کی جائے۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...