دکانیں جلد بند کرانے کی ہدایت!

دکانیں جلد بند کرانے کی ہدایت!

وزیراعظم محمد نوازشریف نے ہدایت کی ہے کہ پاکستان میں دکانیں جلد بند کرانے کے فیصلے کی کوشش کی جائے تاکہ بجلی کی بچت ہو سکے۔ بجلی بحران پر قابو پانے کے لئے قائم کی گئی کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے پھر کہا کہ ان کے دور اقتدار میں دس ہزار میگاواٹ بجلی مرکزی نظام میں آئے گی۔ انہوں نے ہدایت کی کہ لوڈشیڈنگ کو کنٹرول کیا جائے گرمیوں میں 6سے 8گھنٹے سے زیادہ نہ ہو،شہروں میں 6اور دیہات 8گھنٹے سے بڑھنے نہ پائے۔وزیراعظم جو خود بجلی کے منصوبوں کی تکمیل اور لوڈشیڈنگ کے بحران سے عہدہ برآ ہونے کے لئے اجلاس کی صدارت کرتے اور مکمل جائزہ لیتے ہیں۔ دکانیں جلد بند کرانے والی ہدایت بہت مناسب ہے،ماضی میں بھی ایسے فیصلے کئے گئے لیکن پاکستان میں اب تک اس تجویز پر عمل نہیں ہو سکا کئی بار کوشش کی گئی مگر تاجر نہ مانے حالانکہ پوری دنیا میں دکانیں مغرب کے وقت بند ہو جاتی ہیں، بھارت میں بھی سورج غروب ہوتے ہی تمام دکانیں بند کر دی جاتی ہیں، صرف کھانے پینے اور پان سگریٹ کی دکانیں رات دس بجے تک کھلی رہتی ہیں لیکن پاکستان میں بالکل الٹ حساب ہے یہاں دن کو دیر سے کاروبار شروع ہوتا ہے اور رات کو دیر تک مارکیٹیں اور بازار کھلے رہتے ہیں ، حالانکہ اسی ملک میں یہ دستور تھا کہ کاروبار صبح جلد شروع ہوتا اور شام کے وقت بند ہو جاتا، کچھ عرصہ قبل تک بعض تھوک مارکیٹوں میں یہ سلسلہ شروع ہوا اور مغرب کے وقت مارکیٹیں بند ہونے لگیں لیکن پھر بتدریج یہ بھی ختم ہوا اور اب رات گئے تک کاروبار ہوتا ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی ہے تو اس پر عمل بھی جلد ہونا چاہیے اور تاجروں کی نمائندہ تنظیموں کے ساتھ مذاکرات کرکے اس پر عمل کرانا چاہیے، جہاں تک لوڈشیڈنگ کم کرنے کا تعلق ہے تو خبریں زیادہ تشویشناک ہیں کہ ایف بی آر کے بعض اقدامات کی وجہ سے آئی پی پیز نقصان میں جا رہے ہیں اور اگر واجبات کا مسئلہ جلد حل نہ کیا گیا تو بجلی کی پیداوار بند ہو جائے گی اور بوجھ بڑھ جائے گا۔وزیراعظم نے جو ہدایات دی ہیں ان پر عمل سے ساکھ بہتر ہوگی اس لئے بجلی پیدا اور تقسیم کرنے والے اداروں کو مربوط منصوبہ بندی کرکے اس کا اہتمام کرنا چاہیے لوگ تو موجودہ لوڈشیڈنگ سے تنگ ہیں، گرمیوں میں کیا کریں گے؟

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...