بھٹو کی برسی۔۔۔ سوالات کے جواب کون دے گا

بھٹو کی برسی۔۔۔ سوالات کے جواب کون دے گا
بھٹو کی برسی۔۔۔ سوالات کے جواب کون دے گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

آج مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی ہے۔ یہی کہا جائے گا کہ یہ برسی نہائیت عقیدت و احترام سے منائی گئی۔ ویسے تو بھٹو کی برسی پر جو سب سے بڑی تقریب ہو نا تھی وہ نہ ہو سکی ۔ ان کی برسی پر ان کے نواسے بلاول بھٹو بھی ان کی قبر پر فاتحہ پڑھنے کے لئے ملک واپس نہ آسکے۔ ان کے داماد سابق صدر آصف زرداری نے خراب موسم کی وجہ سے تقریب نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔بھٹو کسی کی ذاتی میراث نہیں بلکہ وہ عوام کی ملکیت ہیں ۔ اسی لئے بھٹو کی برسی منانے کے لئے بھٹو کے وارثان تو موجود نہیں ہیں لیکن بھٹو کے لئے پاکستانی عوام کے دل میں بہت احترام ہے ۔ بلکہ یہ کہنا کسی بھی طرح غلط نہ ہو گا کہ وقت نے بھٹو کی شخصیت کے متنازعہ پہلو ؤں پر گرد ڈال دی جبکہ اورا ن کی شخصیت کے غیر متنازعہ پہلو زیادہ ابھر کر عوام کے سامنے آگئے ہیں۔ ایک دور تھا کہ ہمارے ملک میں بھٹو اور انٹی بھٹو کی سیاست تھی۔ اور سیاسی صف بندی بھی بھٹو اور انٹی بھٹو کی بنیاد پر ہی تھی۔ میاں نواز شریف نے بھی اپنی سیاست بھی انٹی بھٹو کی صف سے ہی شروع کی تھی۔جماعت اسلامی بھی انٹی سیاست کی علمبردار تھی۔ بھٹو مخالفین قائد عوام کو سانحہ مشرقی پاکستان کا ذمہ دار ٹھہراتے تھے۔ یہ وہی دور تھا جب محترمہ بے نظیر بھٹو کو ان کے مخالفین پاکستان کے لئے سکیورٹی رسک کہتے تھے۔ اے این پی بھی بھٹو کی مخالف تھی۔ بلوچ بھی بھٹو کے مخالف تھے۔ چودھری برادران کے بزرگ مرحوم چودھری ظہور الہیٰ بھی انٹی بھٹو تھے۔ لیکن اس سب کے باوجود بھٹو پاکستان کے ایک مقبول لیڈر تھے۔ عوام کے ساتھ ان کا رشتہ غیر متنازعہ تھا اور ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ اب سیاست بدل گئی ہے۔ میاں نواز شریف کو بھٹو کی قبر پر خوش آمدید کہا جا تا ہے۔ بھٹو کی جماعت کے کو چیئر مین صدر آصف زرداری کو جماعت اسلامی کے ہیڈ کواٹر منصورہ میں خوش آمدید کہا جا تا ہے۔اے این پی پیپلز پارٹی کی سب سے با اعتماد اتحادی ہے۔ مرحوم چودھری ظہور الہیٰ کے وارثان چودھری برادران اور بھٹو کی جماعت کے اتحادی ہیں۔ سیاست بدل گئی ہے۔ لیکن آج پیپلز پارٹی نے تمام بھٹو مخالفین کو بھٹو کی جماعت کا سیاسی اتحادی بنا لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس سے کیا بھٹو کے سیاسی نظریہ کو فائدہ ہوا ہے یا نقصان۔ بھٹو کا فلسفہ سیاست کیوں وقت کے ساتھ اپنی سیاسی اہمیت کھو رہا ہے۔ کیا پیپلز پارٹی کا کمزور ہو تا ووٹ بنک بھٹو کے فلسفہ سیاست کی کمزوری ہے۔ یا اس کی وجہ بھٹو کے ورثا کا فلسفہ بھٹو سے انحراف ہے۔ لیکن نہ تو بھٹو کے ورثا ان سوالات کے جواب دینے کے لئے تیار ہیں اور نہ ہی یہ سوالات قومی منظر نامہ پر اہمیت رکھتے ہیں۔ آج بھٹو کی برسی پر بھٹو کے فلسفہ سیاست پر تو بات ہو ہی نہیں رہی۔ بلکہ بات تو اس پر ہو رہی ہے کہ بلاول اور آصف زرداری کے درمیان کیا اختلافات ہیں۔ لگتا ہے کسی نے بلاول کو سمجھا دیا ہے کہ وہ جس قدر اپنے اور آصف زرداری کے اختلا ف کو ثابت کریں گے۔ اتنا ہی ان کا سیاسی مستقبل روشن ہوگا۔ اور شائد اسی لئے انہوں نے بھٹو کی برسی کی قربانی دے دی ہے۔ اسے بھی بھٹو کے خاندان کی ایک قربانی ہی سمجھا جائے۔ یہی سیاست ہے۔ بھٹو کی برسی پر صرف صوبہ سندھ میں عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ اعلان پورے ملک کے لئے ہو نا چاہئے ۔ کیونکہ اب شائد بھٹو باقی سیاسی جماعتوں کے لئے خطرہ نہیں رہے۔ اس کو بھٹو کے وارثان کا کریڈٹ سمجھ جائے ۔ یا نا ہلی ۔ فیصلہ کون کرے گا۔

ایک بہت سنیئر صحافی نے کچھ سال قبل بھٹو کی برسی پر میرے ساتھ ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ بھٹو کو کسی نے نہیں مارا ۔ بلکہ بھٹو کو بھٹو نے مارا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کی سیاست کو ایک نئی طرز دی۔ انہوں نے عوام کو زبان دی ۔ لیکن یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ جہاں بھٹو نے عوام کو آواز دی۔ ارباب اقتدار کو سوال کرنے کی جرات دی۔ اختلاف کی جرات دی۔ لیکن ا س سب کے باوجود بھٹو کے اندر خود اختلاف سننے کا حوصلہ نہیں تھا۔ جہاں بھٹو کی پاکستان کی جمہوریت کے لئے لازوال خدمات ہیں۔ انہوں نے آمریت سے لڑنے کا اور آمریت کے سامنے ڈٹ جانے کا سبق دیا۔ وسائل کا رخ عوام کی طرف موڑنے کا اور سیاست میں ایمانداری کا سبق دیا۔ ان کے مخالفین ان پر ملک توڑنے کا الزام تو لگا تے ہیں ۔ لیکن کرپشن کا الزام نہیں لگا سکتے تھے۔ ووٹ کو طاقت دی۔ وہاں دلائی کیمپ بھی بھٹو کی شخصیت کا ایک پہلو ہے۔ اس لئے بھٹو کی سیاست سے تو شائد آج اب اختلاف ممکن نہیں ۔ لیکن ان کے انداز سیاست سے اختلاف ضرور برقرار ہے۔

بھٹو کو جس عدالتی فیصلہ کی رو سے پھانسی دی گئی۔ اس پر نظر ثانی کے لئے پیپلز پارٹی نے اپنے دور اقتدار میں ایک درخواست دائر کی تھی۔ یہ درخواست ابھی تک زیر التوا ہے۔

مزید : کالم