سعودی عرب کا مل کر دفاع کرینگے ،پاکستان اور ترکی کا اعلان

سعودی عرب کا مل کر دفاع کرینگے ،پاکستان اور ترکی کا اعلان

 انقرہ(اے این این،آ ن لا ئن ، ما نیٹر نگ ڈ یسک) وزیر اعظم نواز شریف کی ترک صدر اور وزیر اعظم سے ملاقات،دونوں ملکوں کا یمن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار،مسئلے کے پرامن حل کے لئے مل کر کام کرنے پر اتفاق،سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کا مل کر دفاع کر نے کا فیصلہ۔تفصیلات کے مطابق جمعہ کو وزیر اعظم نواز شریف نے یمن کی صورتحال پر مشاورت کے لئے ترکی کا ایک روزہ دورہ کیا۔ اس موقع پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز،وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری بھی ان کے ہمراہ تھے۔نواز شریف نے انقرہ پہنچنے پر اپنے ترک ہم منصب احمد داؤد اوگلو سے ملاقات کی جس میں یمن کی صورتحال اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میںیمن کی صورتحال کے باعث سعودی عرب کی سکیورٹی کو درپیش چیلنج کا بھی جائزہ لیا گیا اور سعودی عرب کی دفاعی ضروریات پر غور کیا گیا۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سعودی عرب کی علاقائی سالمیت کو خطرے کی صورت میں پاکستان اور ترکی مل کر سعودی عرب کو بھرپور تعاون فراہم کریں گے۔اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان وفود کی سطح پر مذکرات بھی ہوئے ۔ان مذاکرات میں یمن میں خراب صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔نواز شریف نے ترک وزیر اعظم کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی جو انھوں نے قبول کر لی۔ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں نواز شریف نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال عالم اسلام کیلئے پریشان کن ہے، ہم یمن کے مسئلے کا پرامن حل چاہتے ہیں، وہاں کی قانونی حکومت کے خاتمے پر ہمیں تشویش ہے۔ یمن کی صورتحال دن بدن خراب ہورہی ہے جس سے پورا خطہ متاثر ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے سعودی عرب کی علاقائی سلامتی کا مل کر دفاع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ہم مشکل کی اس گھڑی میں سعودی عرب کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ سعودی عرب کے دفاع کیلئے بھرپور تعاون فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ترک وزیراعظم سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور یمن کے معاملے پر بات چیت ہوئی اور عالمی مسائل پر ترکی اور پاکستان کی مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان اور ترکی سعودی عرب کے ساتھ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکی سے تعلقات پر فخر ہے۔ مستقبل میں ترکی کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہونگے۔نواز شریف نے کہا کہ یمن تنازع خطے پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے ، فریقین بات چیت کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہاکہ مشرق وسطیٰ کی بہتری کیلئے پاکستا ن اور ترکی کی مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یمن کے مسئلے پر احمد داؤ اوگلو کے ساتھ ملاقات انتہائی مثبت رہی۔ اس موقع پر ترک وزیراعظم احمد داؤ اوگلو نے کہاکہ پاکستان کا درد ہمارا درد اور پاکستان کی خوشی ہماری خوشی ہے، دونوں ممالک خطے کی صورتحال پر مشترکہ موقف رکھتے ہیں اور یمن میں تعمیر نو کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پاکستان اور ترکی کو بھی متاثر کررہی ہے، امت مسلمہ کو درپیش مسائل پر دوطرفہ مشاورت ضروری ہے ۔ پاکستان اور ترکی خطے کی صورتحال پر مشترکہ موقف رکھتے ہیں۔ یمن میں غیر ریاستی عناصر کی روک تھام ضروری ہے۔ ترکی اور پاکستان مشرق وسطی کے امن کے لئے متحد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ خطے میں فرقہ وارانہ مخالفت سے ہٹ کر مل کر رہنے اور امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے حل کے لئے دوطرفہ مشاورت کی ضرورت ہے، یمن کی صورتحال پر ہمیں تشویش ہے تاہم اس مسئلے کے حل کے لئے مذاکرات اولین ترجیح ہونے چاہیءں جب کہ اس حوالے سے سعودی عرب اور ایران سے بھی رابطے میں ہیں۔۔ ترک وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایران کے جوہری معاہدے پر پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ ایران کے ایٹمی پروگرام پر پیشرفت اطمینان بخش ہے۔قبل ازیں وزیراعظم نواز شریف اور ترکی کے وزیراعظم کے درمیان ملاقات ہوئی جس میں سعودی عرب اور یمن کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور باہمی اعتماد سازی کے ذریعے یمن میں قیام امن کی کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔ نواز شریف نے ترکی کے وزیراعظم کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی جو انہوں نے قبول کرلی۔ بعدازاں وزیراعظم نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے بھی ملاقات کی ۔ اس ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں مشرق وسطیٰ اور یمن کی صورتحال بھی زیر غور آئی۔ دونوں رہنماؤں نے مسئلے کے پرامن حل کیلئے مل کر کوششیں کرنے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے یمن کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکی قریبی دوست ہیں۔ خطے کو تباہی سے بچانا دونوں ملکوں کیلئے ازحد ضروری ہے ۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف نے کہاکہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات منفرد اور مثالی ہیں ، ہم قریبی تعلقات کو اقتصادی تعاون میں بدلنے کے خواہشمند ہیں۔ نواز شریف نے ترک صدر کو بھی پاکستان کے دورے کی دعوت دی جو انھوں نے قبول کر لی۔ترک صدر نے نواز شریف کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔قبل ازیں چنکیامحل پہنچنے پر وزیراعظم کاشاندار استقبال کیاگیا جہاں ان کے ہم منصب احمد داؤدنے ان کا استقبال کیا۔قبل ازیں وزیراعظم محمد نوازشریف ایک روزہ دورے پرجب انقرہ پہنچے توترکی کے ماحولیات اور شہری منصوبہ بندی کے وزیر نے ہوائی اڈے پران کا استقبال کیا ۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ بھی ہمراہ تھے۔

مزید : صفحہ اول