انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا صدارتی آرڈیننس جاری

انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کا صدارتی ...

 اسلام آباد(اے این این، آ ن لا ئن ، آ ئی این پی ) صدر ممنون حسین نے مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا آرڈیننس جاری کر دیا،یہ آرڈیننس حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق وزیر اعظم کی سمری پر جاری کیا گیا،کمیشن45روز میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کا پابند ہو گیا۔ترجمان ایوان صدر کے مطابق صدر ممنون حسین نے مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا آرڈیننس جاری کر دیا ہے۔یہ آرڈیننس وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے بھیجی گئی سمری پر جاری کیا گیا ہے۔آرڈیننس حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت جاری کیا گیا ہے۔جوڈیشل کمیشن45روز میں اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرنے کا پابند ہو گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کمیشن تحریک انصاف کے مطالبے پر بنایا گیا ہے جو2013کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کرے گا اور 45روز میں اپنی رپورٹ دے گا۔صدارتی آرڈیننس فوری طور پر نافذالعمل ہوگا جس کے دس نکات ہیں۔ اس کا نام جنرل الیکشن 2013 انکوائری کمیشن آرڈیننس 2015 رکھا گیا ہے ۔ کمیشن سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل ہوگا جن کا تعین وفاقی حکومت کی درخواست پر چیف جسٹس کریں گے ۔ آرڈیننس جاری ہونے کے تین دن کے اندر حکومت سپریم کورٹ کو خط لکھنے کی پابند ہے ۔ کمیشن انتخابات میں منظم دھاندلی اور انتخابی عمل پر کسی کے اثرانداز ہونے کا تعین کرے گا۔ کمیشن کے پاس فوجداری عدالت مجریہ 1898 اور 1908 کے اختیارات ہوں گے اور وہ کسی بھی فرد یا اتھارٹی کو معلومات کے حصول کے لیے طلب کر سکے گا ۔ انتخابات میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتیں کمیشن میں اپنا موقف پیش کرنے کا حق رکھتی ہیں ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں تعاون کرنے کی پابند ہوں گی جبکہ کمیشن اپنی سہولت کے لیے ایک یا ایک سے زائد خصوصی تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دے گا ۔ جوڈیشل کمیشن 45 دن میں اپنی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ دے گا۔ یہ رپورٹ پبلک دستاویز ہو گی ۔ حتمی رپورٹ پیش کرنے کے بعد کمیشن ازخود تحلیل ہو جائے گا ۔ اس دوران مختلف الیکشن ٹریبونلز میں جاری پٹیشنز متعلقہ قوانین کے تحت ہی نمٹائی جائیں گی ۔ جوڈیشل کمیشن تحقیقات کے دوران کسی بھی ادارے سے مدد لینے اور کسی بھی شخص کو طلب کرنے میں آزاد ہو گا۔جوڈیشل کمیشن معاہدے کی روشنی میں اس بات کا تعین کرے گا کہ 2013ء کے عام انتخابات میں منصوبہ بندی کے تحت منظم دھاندلی کی گئی یا نہیں۔واضح رہے کہ 3 روز قبل مسلم لیگ(ن) اور تحریک انصاف کے درمیان جوڈیشل کمیشن کے قیام پر اتفاق ہوا تھا جس میں طے پایا تھا کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ عام انتخابات میں دھاندلی ہوئی ہے تو پھر اس صورت میں وزیراعظم قومی اسمبلی توڑ دیں گے جبکہ اس کے ساتھ ہی چاروں صوبائی اسمبلیاں بھی تحلیل کر دی جائیں گی اوراگر دھاندلی ثابت نہیں ہوتی تو پھر تحریک انصاف انتخابات کو قبول کرکے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرے گی۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کہہ چکے ہیں کہ ان کے پاس انتخابی دھاندلی کے ثبوت ہیں جو وہ جوڈیشل کمیشن کے سامنے پیش کریں گے اور کمیشن جو فیصلہ کرے گا اسے قبول کیا جائے گا ۔

مزید : صفحہ اول