دہشتگردوں کیساتھ ان کے سہولت کاروں کا بھی صفایا کریں گے ،شہباز شریف

دہشتگردوں کیساتھ ان کے سہولت کاروں کا بھی صفایا کریں گے ،شہباز شریف

 لاہور(پ ر) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیرصدارت یہاں صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل نوید زمان، صوبائی وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ، چیف سیکرٹری، ڈی جی رینجرز پنجاب میجر جنرل عمر فاروق برکی، جنرل آفیسر کمانڈنگ 10 ڈویژن میجر جنرل عامر عباسی، انسپکٹر جنرل پولیس، سیکرٹری داخلہ اور ایپکس کمیٹی کے دیگر ممبران نے شرکت کی۔ اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت اٹھائے جانے والے اقدامات پر عملدرآمد کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور انسداد دہشت گردی کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان پر مزید موثر اور تیز رفتاری سے مربوط اقدامات پر اتفاق کیا گیا اور دہشت گردی، انتہاپسندی و فرقہ واریت کے مکمل خاتمے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت انسداد دہشت گردی کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات نتیجہ خیز ثابت ہو رہے ہیں۔ انسداد دہشت گردی کیلئے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ پنجاب کے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ساتھ مدارس کے نصاب میں برداشت، رواداری، بھائی چارے اور تحمل کے عنوانات پر مبنی اضافی مضامین متعارف کرائے جا رہے ہیں اور اس ضمن میں صوبہ بھر میں تقریری اور مضمون نویسی کے مقابلے منعقد کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ دہشت گردی ، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خلاف پوری قوم یکسو ہے۔دہشت گردی، انتہاپسندی اور فرقہ واریت کے خلاف جنگ ہر محاذ پر لڑی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاک افواج دنیا کی بہترین تربیت یافتہ اور ڈسپلنڈ فورس ہے۔ پاک افواج کے افسران، جوانوں، پولیس افسروں، اہلکاروں اور عام شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں جن پرپوری قوم کو بجاطورپر فخر ہے۔اقوام عالم میں ایسی لازوال قربانیوں کی کوئی مثال نہیں ملتی، شہداء کی عظیم قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔ انہوں نے کہاکہ معاشرے کے ہر طبقے کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہے اورہر محاز پر دہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں کو شکست فاش دینا ہے ۔ دہشت گردوں کے ساتھ ان کے سہولت کاروں کا بھی چن چن کر خاتمہ کریں گے۔ دہشت گرد ملک و قوم کے دشمن ہیں، ان کا خاتمہ کرکے دم لیں گے۔ انہو ں نے کہا کہ پاکستان کو محفوظ اور پرامن ملک بنانا ہر پاکستانی کا مشن ہے۔ سفاک درندوں کو پاکستان میں کہیں سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔ اجلاس کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پنجاب میں مدارس کی جیوٹیگنگ کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے تمام متعلقہ ادارے مربوط کوآرڈینیشن کے تحت کام کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے سعودی عرب کے سرمایہ کاروں کے وفد نے ملاقات کی۔ پاک سعودی مشترکہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداران پرمشتمل وفد کی قیادت جدہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وائس چیئرمین مازن محمد بتر جی کر رہے تھے۔ سعودی عرب کے سرمایہ کاروں نے زراعت، لائیوسٹاک اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین گہرے برادرانہ اور تاریخی تعلقات قائم ہیں۔ دو طرفہ معاشی تعاون کو فروغ دے کر تعلقات کو مزید وسعت دی جا سکتی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کی دوستی اوربھائی چارے کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ جنگ ہو یا امن ،سیلاب ہویا زلزلہ یا کوئی اور قدرتی آفت، سعودی عرب نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ نبھایا ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پنجاب میں زراعت، لائیوسٹاک، توانائی اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ سعودی عرب کے سرمایہ کار پنجاب میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ پاکستان لائیوسٹاک پیدا کرنے والا دنیا کا ایک بڑا ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش توانائی کے شدید بحران نے تمام شعبوں کو بری طرح متاثرکیاہے۔ حکومت توانائی کے منصوبوں کی جلد تکمیل پربھر پور توجہ دے رہی ہے اوروفاقی اور پنجاب حکومت نے ملکر پنجاب میں گیس سے 3600میگا واٹ بجلی کے حصول کے منصوبے لگانے کا پروگرام بنایاہے۔ سعودی عرب کے سرمایہ کار توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام ترقیاتی منصوبے شفافیت ، معیاراور برق رفتاری سے تکمیل کی پالیسی کے تحت مکمل کئے جا رہے ہیں۔ پنجاب سے توانائی ، زراعت او رلائیوسٹاک کے شعبوں سے وابستہ افراد کا وفد جلد سعودی عرب بھجوایا جائے گا۔جدہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وائس چیئرمین مازن محمد بتر جی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب اورجدہ کے مابین سرمایہ کاروں کے وفود کے باہمی تبادلے سود مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ پنجاب کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ۔زراعت ،لائیوسٹاک ،توانائی اور دیگر شعبوں میں دو طرفہ تعاون بڑھانے کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ صوبائی وزیر صنعت چودھری محمد شفیق، مشیربرائے صحت خواجہ سلمان رفیق، صدر ایوان صنعت و تجارت لاہور ، سیکرٹریز صحت،ہائر ایجوکیشن اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے یہاں جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ملاقات کی ،جس میں باہمی دلچسپی وسیاسی امور کے علاوہ ملک کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیاگیا۔وزیراعلیٰ نے اس موقع پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تاریخ کے نازک اور کٹھن دور سے گزر رہا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کا پختہ عزم کرچکی ہے۔اتحاد اور اتفاق کی قوت سے دہشت گردی اور انتہاپسندی کے ناسور کا خاتمہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہم سب کا ہے اور اس کی بقاء کیلئے لڑی جانیوالی جنگ بھی سب نے مل کر لڑنی ہے۔ حکومت سیاسی جماعتوں کے سا تھ ملکر ملک کو مسائل کے چنگل سے نجات دلانے کیلئے مخلصانہ کاوشیں کررہی ہے۔ وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف نے کہاہے کہ پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کا قیام صوبے میں صحت عامہ کی معیاری سہولتوں کی فراہمی کی جانب تاریخی اقدام ہے۔پنجاب حکومت صحت کے شعبہ کی بہتری اور عوام کو معیاری طبی سہولتو ں کی فراہمی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے ۔اربوں روپے صحت عامہ کی سہولتوں کی بہتری پر صرف کئے جا رہے ہیں۔پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن اور متعلقہ محکموں کو مربوط انداز میں آگے بڑھنا ہے ۔وہ پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ صحت عامہ کی معیاری سہولتوں کی فراہمی کیلئے پنجاب حکومت موثر اقدامات اٹھا رہی ہے ۔صوبے بھر میں نئے ہسپتالوں کے قیام کے علاوہ میڈیکل ایجوکیشن کے فروغ کیلئے بھی موثر حکمت عملی اپنائی گئی ہے ۔دکھی انسانیت کی خدمت کسی عبادت سے کم نہیں ،پنجاب حکومت اسی مقصد کے پیش نظر عوا م کو معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی کیلئے ہر ضروری قدم اٹھا رہی ہے ۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں کے حوالے سے کم ازکم سروس ڈلیوری کے معیار کے حصول کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔وزیراعلی نے ہدایت کی کہ تعلیم او رصحت کے شعبوں میں ریفارمز روڈ میپ کی طرز پر پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن سے متعلق بھی روڈ میپ وضع کیا جائے اورمستند ڈیٹا کیلئے پنجاب کے تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں او رکلینکس کی جیوٹیگنگ کے عمل کا آغاز کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ سرکاری او رنجی ہسپتالوں کو کم ازکم سروس ڈلیوری کے معیار کے حصول کا پابند بنانا ضروری ہے اس مقصد کے حصول کیلئے مانیٹرنگ کا موثر نظام وضع کیا جائے۔ا نہوں نے کہاکہ عوام کی آگاہی کیلئے سیمینارز کا اہتمام کیاجائے، تمام سٹیک ہولڈرز کو ان سیمینارز میں مدعو کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن اہداف متعین کر کے ان کے حصول کیلئے موثر حکمت عملی مرتب کرے۔ صوبے میں عطائیت کے خاتمے کیلئے بھی جامع پلان وضع کیا جائے۔وزیراعلیٰ نے سیکرٹری صحت اور پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن کو ہدایت کی کہ ہیلتھ کئیر کمیشن کے اہداف کے تعین او ردیگر امور کے حوالے سے 14روز میں حتمی سفارشات پیش کی جائیں۔ہیلتھ کئیر کمیشن کے ڈاکٹر محمد اجمل خان نے کمیشن کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔چےئرپرسن پنجاب ہیلتھ کےئر کمیشن جسٹس (ر) عامررضا خان نے کمیشن کی کارکردگی کے حوالے سے آگاہ کیا۔صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن، مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق، مشیر ڈاکٹر اعجاز نبی، اراکین صوبائی اسمبلی رانا ثناء اﷲ،خواجہ عمران نذیر ، ڈاکٹر نادیہ عزیز ،ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، قاضی عدنان فرید، چیف سیکرٹری ، متعلقہ سیکرٹریز ، طبی ماہرین اور بورڈ آف کمشنرز پنجاب ہیلتھ کئیر کمیشن نے اجلاس میں شرکت کی

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...