عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے پر ایران میں جشن ،اسرائیل میں صف ماتم بچھ گئی

عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے پر ایران میں جشن ،اسرائیل میں صف ماتم بچھ ...

تل ابیب (نیوز ڈیسک) ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے پانے کے بعد اسرائیل کی پریشانی میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے اور اس ملک کے وزیراعظم مسلسل واویلا کررہے ہیں کہ یہ معاہدہ ایران کو نیوکلیئر طاقت بنانے اور اسرائیل کی تباہی کا سبب بنے گا۔امریکی صدر باراک اوباما سے ٹیلی فون پر بات کرنے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ٹی وی پر اپنے خطاب میں کہا ہے کہ ایران کے ساتھ کیا جانے والا معاہدہ اسے ایٹم بم بنانے سے نہیں روک سکے گا بلکہ یہ اس کا راستہ ہموار کرے گا اور یہ معاہدہ اسرائیل کی بقاء کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں ایران پرلگائی گئی پابندیاں ختم ہونے سے اس کی اقتصادی طاقت میں اضافہ ہوجائے گا جبکہ یہ اپنا جوہری پروگرام ختم کرنے کی بجائے ایٹم بم بنانے کو ترجیح دے گا جو بالآخر اسرائیل کی بربادی کا سبب بنے گا۔اسرائیلی وزیر اعظم نے امریکی صدر پر زور دیا کہ ایران سے اسرائیل کا وجود تسلیم کروایا جائے۔معاہدہ طے پانے کے بعد اسرائیل مغربی طاقتوں اور خصوصاً امریکا سے مسلسل فریاد کررہا ہے کہ معاہدہ ختم کیا جائے اور اسے تباہ ہونے سے بچایا جائے۔

تہران(آئی این پی )ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایٹمی معاہدے کے تحت کوئی ری ایکٹر بند نہیں ہوگا، یورینیم کی افزودگی جاری رہے گی، عالمی طاقتوں نے تہران کے مؤقف کو تسلیم کر لیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں چھ عالمی طاقتوں سے ایٹمی معاہدے کے سیاسی فریم ورک پر اتفاق پر ردعمل کا اظہار کر تے ہوئے حسن روحانی کا کہنا تھا کہ مغرب نے ایران کو جھکانے کے لیے پابندیاں لگائیں لیکن ایرانی قوم نے بہادری کا مظاہرہ کیا اور عالمی طاقتوں کے دباؤ کا مقابلہ کیا۔ایرانی صدر نے کہا کہ بالاآخر عالمی طاقتوں کو احساس ہوا کہ تہران کو پابندیوں کے ذریعے جھکایا نہیں جاسکتا اور متازعہ ایٹمی مسئلے کا واحد حل مذاکرات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری نے ایران کا مؤقف تسلیم کرتے ہوئے تہران کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کا حق دیا۔حسن روحانی نے کہا کہ ایٹمی معاہدے کے تحت ایران کوئی ایٹمی ری ایکٹر بند نہیں کرے گا اور نہ ہی یورینیم کی افزودگی روکی جائے گی۔ واضح رہے کہ ایک طرف جہاں ایران میں جوہری معاہدے پر جشن کا سماں ہے وہاں ،اسرائیل میں صفِ ماتم بچھ گیاہے۔نیوکلیئر معاہدے کے اعلان کے بعد ایرانی شہری خوشی سے نہال ہو کر سڑکوں پر نکل آئے اور رات بھر جشن مناتے رہے جبکہ ایرانی حکام کی خوشی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1979ء کے انقلاب کے بعد پہلی مرتبہ کسی امریکی صدر کی تقریر سرکاری ٹی وی پر براہ راست نشر کی گئی۔ سوشل میڈیا پر کچھ ایرانی شہریوں کی جانب سے مزاحیہ تصاویر بھی فوٹو شاپ کر کے شیئر کی گئی ہیں جن میں امریکی صدر براک اوباما کو مذہبی پیشوا کے روپ میں دکھایا گیا اور ملا اباما کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے غرضیکہ لگتا ہے ایرانی عوام کو شدت سے اس معاہدے کی کامیابی کا انتظار تھا۔ فریم ورک پر اتفاق ہونے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ جب وطن واپس پہنچے تو شہریوں کی بڑی تعداد نے ائیرپورٹ پر ان کا شاندار استقبال کیا اور اسے ایرانی حکومت کا اہم اقدام قرار دیا۔

مزید : صفحہ اول