جب ریاست ہی بدمعاشی پر اتر آئے تو عوام کے حقوق کا تحفظ کون کریگا ،سپریم کورٹ

جب ریاست ہی بدمعاشی پر اتر آئے تو عوام کے حقوق کا تحفظ کون کریگا ،سپریم کورٹ

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے نیب میں انتظامی اور بے قاعدگیوں کے مقدمے میں نیب حکام سے زیر سماعت تمام ریفرنسز کی تفصیلات ، افسران کے خلاف کئے گئے اقدامات بارے پیر 6 اپریل کو رپورٹ طلب کر لی ۔ تین رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے نیب حکام کو کھری کھری سناد دیں اور ریمارکس دیئے ہیں جب ریاست ہی بدمعاشی پر اتر آئے اور قانون کی دھجیاں بکھیرنا شروع کر دے تو ایسے میں عوام الناس کے حقوق کا تحفظ کون کرے گا ، اور نہ ہم ایسی صورت میں کسی شہری کو قانون کی پاسداری کا کہہ سکتے ہیں ۔ نیب اپنی غلط شہرت نہ بنائے کسی شہری کی آزادی کو غیر قانونی طورپر سلب کرنے کی ہر گز اجازت نہیں دے سکتے ۔ جمعہ کو مقدمے کی سماعت کے دوران سینئر ترین جسٹس جواد ایس خواجہ کا مزید کہنا تھا کہ جس مقدمے پر انگلی رکھتے ہیں اسی میں کوئی نہ کوئی گڑ بڑ نظر آتی ہے ۔ ہم معاملے کی تہہ تک جائیں گے اگر ملزمان ریمانڈ پر نہیں تھے تو پھر قید کیسے کئے گئے ۔ نیب اپنے معاملات کا خود جائزہ لے ، آئین ہر شہری کی آزادی اور زندگی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور جوڈیشل اور جسمانی ریمانڈ کی عدم موجودگی میں حراست غیر قانونی ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ نیب باعزت طریقے سے کام کرے مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آتا اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ اب کوئی نہ کوئی ایکشن لینا ہی پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئین کی پاسداری کے سوا اور کچھ نہیں چاہتے ۔ ہمارے نوٹس میں ہے کہ نیب تھانیداری کرتا ہے کیا ملک کے تمام شہری نیب کے رحم و کرم پر ہیں ۔ اسی دوران نیب حکام نے وضاحت کی کوشش کی تو عدالت نے کہا کہ کیس کی سماعت 6 اپریل تک ملتوی کر رہے ہیں عدالتی حکم پر عملدرآمد کیا جائے اور تمام تر ریفرنسز کی تفصیل اور دیگر اقدامات بارے عدالت میں رپورٹ پیش کی جائے ۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...