یمن بحران :حوثی قبائل عربی النسل ہیں ،یہ مذہب یا عرب و عجم کی جنگ نہیں

یمن بحران :حوثی قبائل عربی النسل ہیں ،یہ مذہب یا عرب و عجم کی جنگ نہیں

تجزیہ-:سعید چودھری

ملکوں کی دوستیاں افراد کی دوستیوں سے مختلف ہوتی ہیں ۔ملکوں کی باہمی دوستیاں اور دشمنیاں ان کے مفادات کے تابع ہوتی ہیں ۔دوسری طرف وفا اور خلوص انسانی دوستیوں کا خاصہ ہیں تاہم کچھ ممالک کے تعلقات دوستی کے اس معیار پر پورا اترتے ہیں جو صرف انسانی دوستیوں کے لئے مخصوص ہے ۔پاکستان اور سعودی عرب کا تعلق ایسی ہی دوستی کی ایک بڑی مثال ہے۔پاکستانیوں کی طرح سعودی عوام کو بھی اس دوستی کا پورا ادراک ہے ۔پیو ریسرچ سنٹر (Pew Research Centre)کے ایک سروے کے مطابق سعودی عرب کے 95فیصد عوام نے پاکستان کو پسندیدہ ترین ملک قرار دیا ۔اس سروے کی دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے خلاف کسی ایک بھی سعودی شہری نے منفی ریمارکس نہیں دیئے ۔انسانی دوستیوں کی طرح ریاستوں کی دوستیوں کی آزمائش بھی مشکل حالات میں ہوتی ہے اور سعودی عرب ہمیشہ اس آزمائش پر پورا اترا ہے ۔1971ء کی پاک بھارت جنگ اور اس جنگ کے نتیجہ میں سقوط ڈھاکہ کا سانحہ ملکی تاریخ کا ایک تاریک باب ہے ۔اس جنگ کے دوران اور بنگلہ دیش کے قیام کے بعد دوست ملکوں کا امتحان شروع ہوا جس میں سعودی عرب اول رہا ۔سعودی عرب نے نہ صرف خود بلکہ عرب ممالک کو بھی بنگلہ دیش کی آزاد حیثیت تسلیم کرنے سے روکا جبکہ غیر عرب مسلم ممالک ،جن میں ہمارا دوست ترکی بھی شامل ہے ،نے ابتداء میں ہی بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیاتھا ۔حیرت کی بات ہے کہ 1965ء کی جنگ میں اپنے تمام عسکری وسائل پاکستان کو پیش کرنے والا ملک انڈونیشیا بھی ترکی اور ملائشیا کی طرح بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے والے ابتدائی ملکوں میں شامل تھا ،حتی ٰ کہ ہمارے قریبی ہمسائے اور دیرینہ دوست ایران نے بھی 1972ء کے اوائل میں بنگلہ دیش سے سفارتی تعلقات قائم کرلئے تھے ۔جنوبی یمن پہلا عرب ملک تھا جس نے پاکستان کے نقطہ نظر کی نفی کرکے بنگلہ دیش کو تسلیم کیا ۔چین اور سعودی عرب ان ممالک میں شامل تھے جنہوں نے پاکستان کے بعد بنگلہ دیش کو ایک آزاد ملک کے طور پر تسلیم کیا ۔چین نے تواپنا ویٹو کا حق بھی پہلی مرتبہ بنگلہ دیش کو اقوام متحدہ کا رکن بننے سے روکنے کے لئے استعمال کیا تھا۔جنگ میں ہزیمت کے ماحول کے خاتمے اور پاکستانی قوم کامورال بلند کرنے کے لئے دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کے لاہور میں انعقاد کے لئے سعودی عرب نے جو کردار ادا کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے ۔علاوہ ازیں پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں تعاون پر تو ابھی تک یورپی میڈیا شور مچا رہا ہے ۔بی بی سی نے تو یہ شوشہ بھی چھوڑا کہ سعودی عرب پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر سرمایہ کاری کررہا ہے ۔پاکستان پر ایران کی جوہری پروگرام میں مدد کرنے کا الزام بھی لگایا جاتا ہے جبکہ 1977ء میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے شاہ ایران سے بھی اپنے ایٹمی پروگرام پر مدد طلب کی تھی تاہم شاہ ایران نے ایسی کوئی مدد کرنے سے انکار کردیا تھا ۔

یمن میں حوثی قبائل کی بغاوت کو کچلنے کے لئے نہ صرف سعودی عرب متحرک ہے بلکہ عرب ممالک کی اتحادی فوجیں بھی حوثی قبائل کے خلاف برسر پیکار ہیں ۔دوسری طرف ایران حوثیوں کی مدد کررہا ہے حتی ٰ کہ ایران کے ایک جنرل قاسم سلیمانی بھی حوثیوں کی مدد کے لئے یمن میں موجود ہیں جس کی ایرانی سفارت کار نے بھی تصدیق کی ہے ۔سعودی عرب اور یمن کی باہمی سرحد 1800کلو میٹر طویل ہے ۔1990ء میں شمالی اور جنوبی یمن کے الحاق سے قبل اس سرحد سے سعودی حکومت کے لئے ہمیشہ مشکلات پیدا کی جاتی رہیں ۔حتیٰ کہ 1969ء میں سعودی عرب کو اس کا عسکری جواب دینا پڑااور پاکستانی پائلیٹس نے سعودی طیاروں کے ذریعے جنوبی یمن پر بمباری میں بھی حصہ لیا ۔1990-91ء کی گلف وار میں بھی پاکستانی دستے سعودی عرب کی حفاظت کے لئے متعین کئے گئے ۔سعودی عرب کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ یمن میں ایسی حکومت بنے جو اس کے ساتھ دوستانہ تعلق رکھے ۔اس خطے میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی کوئی راز نہیں ہے ۔نہ صرف ایرانی حکومت خود سعودی عرب کے خلاف بیان بازی کرتی رہتی ہے بلکہ وہاں کے عوام نے بھی سعودی عرب کے حکمران آل سعود خاندان کے خلاف دیواروں پر نعرے لکھ رکھے ہیں ۔ایران پاکستان کو آزاد حیثیت سے تسلیم کرنے والا پہلا ملک تھا ۔پاکستان کے ایران کے ساتھ ہمیشہ اچھے تعلقات رہے ،مئی 1949ء میں لیاقت علی خان نے اپنا پہلا سرکاری دورہ ایران کا کیا تھا جبکہ شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی نے 1950ء میں پاکستان تشریف لا کر پاکستان کا دورہ کرنے والے پہلے غیر ملکی سربراہ کا اعزاز حاصل کیا ۔1965ء اور1971ء کی پاک بھارت جنگوں میں ایران نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا ۔1971ء میں امریکی فوجی امداد بند ہونے پر ایران نے پاکستان کو سامان حرب کے فاضل پرزے بھی فراہم کئے جبکہ1965ء کی جنگ میں ایران نے پاکستان کو 5ہزارٹن تیل کی امداد بھی فراہم کی تھی جبکہ پاکستان کو سعودی عرب سے تیل سمیت ملنے والی مالی امداد ایران سے کئی گنازیادہ رہی ہے ۔پاکستان اور ایران کے درمیان کوئی بڑا سرحدی تنازع نہیں تھا اس کے باوجود ایران نے حملہ کرکے بلوچستان میں دو پاکستانی فوجی چوکیوں پر قبضہ کرلیا کیوں کہ ایران اسی میں اپنا ملکی مفاد سمجھتا تھا تاہم 1957ء میں پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی معاہدہ طے پا گیا جس کا پاکستان مکمل احترام کررہاہے جبکہ ایران کی طرف سے سرحدی خلاف ورزیوں کے اکا دکا واقعات تاریخ کا حصہ بنتے رہتے ہیں ،اکتوبر 2014ء میں بھی ایرانی گارڈزنے پاکستانی چوکی پر حملہ کرکے ایک پاکستانی فوجی کو شہید کردیا تھا ۔

یمن میں جاری جنگ دو مسلکوں کی جنگ نہیں ہے ۔یمن میں حوثیوں/زیدیوں کی تعداد 27فیصد کے قریب ہے ۔یہ عرب النسل ہیں جن کا عجم یا اثنا عشریوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ،یہ خود کو شعیہ نہیں بلکہ زیدی کہلوانا پسند کرتے ہیں اور خود کو حضرت زید بن زین العابدین کا پیروکار کہتے ہیں ۔یہ عرب قبائل کی جنگ ہے جسے بعض پاکستانی "دانشور "مذہب یا عرب و عجم کی لڑائی کا نام دینے پر تلے ہوئے ہیں ۔ان لوگوں نے قریبی دوست ہمسائے ایران کی ممکنہ ناراضی کا ہوّاکھڑا کررکھا ہے ۔حوثی قبائل کو بیرونی امداد چاہیے جس کے لئے ایران نے خود کو پیش کررکھا ہے تاہم ایسا نہیں لگتا کہ حوثی قبائل کی مدد کے لئے تہران کوئی عسکری مہم جوئی کرے گا۔ایران اس جنگ میں اس طرح براہ راست شریک نہیں ہے جس طرح سعودی عرب شریک ہے ۔یمن کے ساتھ ایک طویل سرحد رکھنے کے باعث سعودی عرب یہ کبھی نہیں چاہے گا کہ حوثی قبائل کی بغاوت کامیاب ہو اور ایران بالواسطہ طور پر اس کا ہمسایہ بن کر بیٹھ جائے ۔کوئی ملک بھی اپنے ملک میں انتشار نہیں چاہتا ،سعودی عرب کو تشویش ہے کہ حوثی قبائل کی کامیابی اور ان پر ایران کے اثر و رسوخ کے باعث سعودی عرب خاص طور پر یمن کے ساتھ لگنے والے سعودی علاقوں میں شورش برپا کی جاسکتی ہے کہ ان علاقوں میں شعیہ مسلک سے تعلق رکھنے والے سعودی ایک بڑی تعداد میں موجود ہیں ۔یہ درست ہے کہ پاکستان کو یمن میں جاری جنگ کا حصہ بننے سے اجتناب کرنا چاہیے لیکن یہ دانشمندی نہیں ہوگی کہ پاکستان سعودی عرب کا دفاع کرنے سے بھی انکار کردے ۔سعودی عرب میں روضہ رسول ؐاور کعبۃاللہ جیسے مقدس مقامات پر مسلمانوں کی جان بھی قربان ہے چہ جائیکہ ان کی حفاظت سے انکار کردیا جائے ۔سعودی عرب کے عوام کی پاکستان سے محبت اور سعودی حکومت کا ہرمشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونے کا ماضی اس بات کا متقاضی ہے کہ ہم اس مشکل گھڑی میں ان کا ساتھ دیں۔

مزید : تجزیہ