یمن کا بحران، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، اراکین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں!

یمن کا بحران، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، اراکین سنجیدگی کا مظاہرہ کریں!

تجزیہ چودھری خادم حسین

حکومت نے یمن کے بحران پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے اور اتفاق رائے سے فیصلے کرنے کے لئے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیا ہے جو پیر کو ہوگا۔ اس کے لئے سابق صدر آصف علی زرداری کی صدارت میں اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں بھی تجویز دی گئی تھی۔ یوں پارلیمنٹ میں نمائندہ پارٹیوں کے اراکین کو اپنے موقف کے اظہار کا موقع ملے گا۔ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ تو پاکستان تحریک انصاف نے بھی کیا تھا لیکن اس وقت کی صورت کے مطابق تحریک انصاف پارلیمنٹ سے غیر حاضر ہے۔ تاہم جوڈیشل کمیشن کے قیام کے لئے معاہدہ اور اب آرڈیننس جاری ہو جانے کے بعد اس کے لئے واپسی کی راہ ہموار ہو گئی ہے اور شاید مطالبہ کرنے کے پس منظر میں یہ بات موجود تھی کیونکہ تحریک انصاف کی کور کمیٹی کا اجلاس طلب کیا گیا ہے جو بائیکاٹ ختم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گی تاہم حالات کے تناظر میں یہ یقینی امر ہے کہ تحریک انصاف بائیکاٹ ختم کرکے پارلینمٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کرے گی اور کارروائی میں حصہ لے کر اپنی رائے دے گی۔ یوں بھی عملی طور پر تو تحریک انصاف نے موجودہ حالات سے سمجھوتہ کر لیا ہے کہ آزاد کشمیر کے ضمنی انتخاب میں حصہ لیا اور اب کراچی کے حلقہ این اے 246کے ضمنی انتخاب میں بہت زیادہ سرگرم عمل ہے۔ یوں بنیادی طور پر موجودہ ڈھانچے، الیکشن کمیشن اور قواعد کو تسلیم کرتے ہوئے ہی یہ عمل کیا جا رہا ہے۔

جہاں تک جوڈیشل کمیشن کا تعلق ہے تو اس کے قیام کا معاہدہ ہوگیا۔ آرڈیننس بھی آ گیا ہے اور پھر جوڈیشل کمیشن کے لئے عدالت عظمیٰ کے حکم کا انتظار ہوگا کہ نامزدگی چیف جسٹس کی طرف سے ہونا ہے۔

کراچی کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے حالات بہتری کی طرف مائل ہیں، الطاف حسین نے رویے میں سنجیدگی ہے تو تحریک انصاف بھی پرامن رہنے کا کہہ رہی ہے۔ اسی میں سب کی بہتری ہے اس الیکشن کا نتیجہ بہت کچھ ظاہر کرے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کا جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ مان لیا گیا اب اس کے اراکین اسمبلیوں میں واپس جائیں گے جو اچھی بات ہے اور تمام سیاسی جماعتیں یہی کہہ رہی ہیں لیکن کچھ بھی ہو ایک امر سوالیہ نشان بنا رہے گا کہ بائیکاٹ کرکے اور طویل غیر حاضری کے بعد جانا قواعد کے مطابق ہوگا یا یہ بھی نظریہ ضرورت ہے کہ تحریک انصاف کے اراکین مسلسل غیرحاضر رہنے کے باوجود تنخواہیں اور ڈیلی الاؤنس وغیرہ وصول کرتے رہے۔ صرف اجلاس والی مراعات غیر حاضر ہونے کے باعث نہ ملیں، حالانکہ قواعد و ضوابط کے مطابق چالیس اجلاس (روز) مسلسل غیر حاضر رہنے والے کی رکنیت ختم ہو جاتی ہے، یہاں ایسا نہیں ہوا کہ اسمبلیوں میں کسی نے تحریک پیش نہیں کی اور انتظار کیا گیا۔ سوال پھر بھی یہی ہوگا کہ جس کام کے عوض ان حضرات کو مراعات ملتی ہیں اگر وہ نہیں کیا گیا تو مسلسل مراعات وصول کرتے رہنے کا اخلاقی اور قانونی جواز کیا ہے؟ جس کے تحت یہ مراعات لی گئیں، بہرحال اس کے باوجود واپسی کا خیر مقدم ہی کیا جائے گا۔

ادھر آج پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی برسی ہے اور لاڑکانہ میں روائتی تقریبات ہوں گی۔ اس بار جیالوں میں کچھ زیادہ جوش و خروش نہیں، پنجاب کی صورت حال یہ ہے کہ سنٹرل پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو علیل ہوگئے اور ہسپتال میں داخل ہیں، یہاں ان کی آج انجیو پلاسٹی ہونا ہے چنانچہ وہ خود نہیں جا سکیں گے انہوں نے دوسرے عہدیداروں کو اہتمام کے لئے کہا ہے۔ بہرحال ابھی جیالے ہیں جو آج جمع ہوں گے۔

یہ شاید پہلا موقع ہے جب برسی کی مرکزی تقریب گڑھی خدا بخش(لاڑکانہ) میں ہی ہوگی تو ایک اور بڑی تقریب لندن میں بھی ہوگی۔ لاڑکانہ میں شریک چیئرمین محترمہ شہید کے شوہر سابق صدر آصف علی زرداری رونق افروز ہوں گے تو لندن میں محترمہ شہید کی بہن، ذوالفقار علی بھٹو کی دوسری (چھوٹی) بیٹی صنم بھٹو اور محترمہ کے تینوں بچے چیئرمین بلاول بھٹو، بختاور اور آصفہ بھٹو تقریب منعقد کریں گی اور بانی پیپلزپارٹی کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ بلاول بھٹو کے لاڑکانہ آنے کی اطلاع تسلّی ثابت ہوئی ہے۔

مزید : تجزیہ