ماتحت عدالتوں کو صبح 8سے دوپہر 2بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

ماتحت عدالتوں کو صبح 8سے دوپہر 2بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی ) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس منظور احمد ملک نے کہا ہے کہ وکلاء سائل بن کر سوچیں ،وکلاء کی ہڑتالوں سے عدلیہ کا کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ سائلین کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔ ماتحت عدالتوں کو صبح 8سے دوپہر2بجے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ سے مستثنی ٰ قرار دیا جائے ۔4 سال سے زیر التوا ء کیسز گرمیوں کی تعطیلات سے قبل نمٹا دیئے جائیں تاہم انصاف ، قانون اور میرٹ کے تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 696سول ججز کی بھرتی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے ستمبر کے دوران عدالتوں میں ججز کی کمی کو پورا کر دیا جائے گا ۔فاضل چیف جسٹس نے ان خیالات کا اظہار ڈیرہ غازیخان میں جج صاحبان ، ڈسٹرکٹ بار ایسو سی ایشن اور انتظامی افسران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر عدالت عالیہ کے سینئر جج مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ اور رجسٹرار حبیب اللہ عامر بھی موجود تھے۔فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ انتظامیہ اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحبان کے مابین میٹنگز ماہانہ کی بجائے ہفتہ وار ہونی چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس گواہوں کی طلبی ، اشتہاری او رمجرموں کی گرفتاری او رقیدیوں کی بروقت عدالت میں موجودگی کو یقینی بنائے ۔ فاضل چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالتوں کو صبح 8 سے 2بجے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے مستثنی قرار دیا جائے اور اس سلسلے میں انہوں نے کمشنر ڈیرہ غازیخان ڈویژن کو ہدایت کی کہ واپڈا افسران کو بلاکر بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنائیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ انہوں نے اپنے دورے کا آغازجنوبی پنجاب کے دور افتادہ ڈویژن ڈیرہ غازیخان سے کیا ہے اور دو دنوں میں وہ بہاولپور ، سرگودھا اور دیگر ڈویژنوں کے دورے مکمل کریں گے جس کا مقصد زیر التواء کیسز میں بروقت انصاف کی فراہمی کیلئے حائل رکاوٹوں کو دور کرنا ہے . انہوں نے کہاکہ وکالت مقدس پیشہ ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہڑتالوں سے سائلین مایوس ہوتے ہیں اور اس مایوسی کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ وکلاء بنچ کے ساتھ تعاون کریں . انہوں نے کہاکہ وکلاکسی دن سائل بن کرسوچیں اور جیلوں میں جا کر قیدیوں کی مشکلات او ر تکالیف کا اندازہ لگائیں کہ وہ کس کرب میں مبتلا ہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ97 فیصد وکلاء عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں صرف چند افراد کی بدمزگی سے مسائل جنم لیتے ہیں ۔ ہڑتال سے عدلیہ کا کوئی نقصان نہیں ہوتا تاہم سسٹم کے سٹیک ہولڈر سائلین کی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ جسٹس منظور ملک کا کہنا تھا کہ بنچ اور بار کا مقصد انصاف کی بروقت فراہمی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جرم سٹیٹ کے خلاف ہوتا ہے اور سٹیٹ نے عوام سے وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ ان کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے گی اس لیے ضروری ہے کہ ججز،انتظامیہ اور وکلاء مل کر عوام کے مسائل حل کریں ۔ بار روم میں خطاب کرتے ہوئے فاضل چیف جسٹس نے ممبر پنجاب بار کونسل محمد عارف گورمانی اور صدر بار محمد سلیم رضا کاکڑ کو ہدایت کی کہ وہ متفقہ طو رپر پانچ نام تجویز کرکے بھجوائیں تاکہ اہلیت ، قابلیت اور معیار پر پورا اترنے والوں کو ججز تعینات کیا جائے ۔ فاضل چیف جسٹس نے یقین دلایا کہ ڈیرہ غازیخان میں وکلاء کالونی کے مسئلہ کے حل کیلئے ذاتی طو رپر کوشش کی جائے گی ۔ کمشنر ڈیرہ غازیخان ڈویژن محمد ثاقب عزیز نے فاضل چیف جسٹس کو یقین دلایا کہ عدالتی اوقات میں بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا اورڈویژن میں بنچ ،با راور انتظامیہ کے ساتھ باہمی رابطے کی مثالی فضا موجود ہے جسے مزید بہتر کیا جائے گا ۔ چیف جسٹس کے دورہ کے موقع پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ڈیرہ غازیخان راؤ عبدالجبار خان،دیگر اضلاع کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز، ایڈیشنل سیشن ججز ، سینئر سول ججز اور سول ججز کے علاوہ آر پی او رحمت اللہ نیاز ی، ڈی سی او ندیم الرحمن ، ڈی پی اوز غلام مبشر میکن ، رائے ضمیر الحسن ، ایس پی سپیشل برانچ سید بہار احمد شاہ ، ایس پی ٹریفک عبدالرحیم شیرازی ، اے ڈی سی محبوب احمد اور دیگر متعلقہ افسران موجود تھے ۔

مزید : صفحہ آخر