خادم پنجاب روڈز پرگرام، 33منصوبے سرکاری ریٹ سے 15فیصد زیادہ ریٹ دینے والے 25ٹھیکیداروں میں تقسیم

خادم پنجاب روڈز پرگرام، 33منصوبے سرکاری ریٹ سے 15فیصد زیادہ ریٹ دینے والے ...

لاہور(شہباز اکمل جندران//انوسٹی گیشن سیل) سی اینڈڈبلیو کی تاریخ میں کی جانے والی انوکھی کرپشن ،انجینئروں نے خادم پنجاب روڈ ز پروگرام کے شروع ہونے سے قبل ہی قومی خزانے کو 2ارب سے زائد کانقصان پہنچا ڈالا۔چیف انجینئرہائی ویز نارتھ پنجاب خالد پرویز نے صوبے کے 32اضلاع میں 15ارب روپے کے 33منصوبے محض25ٹھیکیداروں میں بانٹ کر محکمے کی انتظامیہ کو بھی انگشت بدنداں کردیا۔ کہیں سنگل تو کہیں ڈبل ٹینڈر تیسری کوئی بھی فرم میدان میں نہ آئی ۔تجدید کے بغیر ہی فرم کو پری کوآلیفائی کردیاگیا۔فیصل آباد اورگجرات ھا ئی ویز کنسٹرکشن کمپنی کو، سرگودھا اور منڈی بہاوالدین طیب منظور کو جبکہ گوجرانوالہ اورحافظ آباد کے ٹینڈر حبیب کنسٹرکشن کمپنی کو دیدیئے گئے۔ مقابلے کی بجائے ٹھیکیداروں نے لوئر مال روڈ کے ایک ہوٹل میں بیٹھ کر معاملات طے کرلیے ۔تخمینے سے 15فیصد زائد تک ٹینڈر بھرنے اور مقابلہ نہ ہونے کی وجہ سے قومی خزانے کو بھاری نقصان کا سامنا ہے۔محکمہ انکوائری کریگا۔ سپیشل سیکرٹری سی اینڈڈبلیو نے یقین دہانی کروادی۔ معلوم ہواہے کہ دوروز قبل لاہور کے علاقے لیک روڈ پر سی اینڈڈبلیو کے چیف انجینئرخالد پرویز کے دفتر میں خادم پنجاب روڈ ز پروگرام کے ٹینڈر کھولے گئے۔اس پروگرام کے تحت 15ارب روپے مالیت کے 33منصوبے صوبے کے 32شہروں کے لیے رکھے گئے۔ٹینڈر سے چند روز قبل دلچسپی رکھنے والی تعمیراتی فرموں کی پری کو آلیفکیشن کی گئی۔ جس میں اہلیت رکھنے کے باوجود متعدد فرموں کو نظر انداز کیا گیا ۔ اور صرف سی ون یا نو لمٹ 25 فرموں کو پری کوآلیفائی کیا گیا۔حالانکہ 33میں سے24منصوبے 50کروڑ روپے سے کم لاگت کے ہیں۔اور سی اینڈڈبلیو نے سی ٹو فرمیں 50کروڑ روپے مالیت تک کے منصوبوں کے لیے رجسٹرڈ کررکھی ہیں۔لیکن مناپلی بتاتے ہوئے ان فرموں کو مسترد کردیا گیا۔ اور صرف سی ون فرموں کو موقع دیا گیا۔ پری کوآلیفائی کی گئی فرموں میں حبیب کنسٹرکشن سروسز ،زیڈ کے بی اینڈ ریلائیبل ،شیخ عبدالرزاق اینڈ کمپنی ،شیخ نذر محمد اینڈ کمپنی ، ھائی ویز کنسٹرکشن ، رائل کنسٹرکشن کمپنی ، چوہدری عبدالطیف اینڈ سنز ، چوہدری کنسٹرکشن کمپنی ، سرور اینڈ کمپنی ، جی کے جی ، فرینڈز انٹر پرائزز ، محمد رمضا ن اینڈ کمپنی ، ٹیکنوٹائم کنسٹرکشن کمپنی اسلام آباد ، عمران ممتاز گورنمنٹ کنٹریکٹر،طیب منظورتارڑ ، عبدالوحید خان اینڈ کمپنی ،محمد افضل ، منور اینڈ برادرز ، شاداب کنسٹرکشن ، فنکو کنسٹرکشن کمپنی ، سعادت رشید ، یٰسین برادرز ، ھائی ویز کنسٹرکشن اینڈ خالد اینڈ برادرز ، رائل کنسٹرکشن کمپنی اینڈ منور اینڈ برردرز اور طیب منظور تارڑ اینڈ شالیمار کنسٹرکشن کمپنی شامل ہیں۔یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تجدید کے بغیر ہی چوہدری اے لطیف نامی فرم کو پری کوآلیفائی کیا گیا ہے۔البتہ چیف انجینئرخالد پرویز کا کہنا ہے کہ فرم کی تجدید کے بعد ہی اسے پری کوآلیفائی کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہناہے کہ ٹینڈر اوپننگ سے قبل متذکرہ بالا25فرموں کے مالکان لوئر مال روڈ لاہور کے ایک ہوٹل میں اکٹھے ہوئے جہاں انہوں نے آپس میں طے کرتے ہوئے منصوبے بانٹ لیے۔ اورچیف انجینئرہائی ویز نارتھ خالد پرویز کی بجائے ان کے جونیئر کلرک ندیم عباس نے ٹینڈر اوپننگ کی۔تو دیگر سٹاف اور خود ٹھیکیدار بھی حیران رہ گئے۔کہ خالد پرویز ایسا کیسے کرسکتے ہیں۔ کہ ان کے اختیارات جونیئر کلرک استعمال کرنے لگے۔سی ٹو فرمو ں کے بعض مالکان کا کہنا ہے کہ مناپلی کے تحت 33منصوبے 25ٹھیکیداروں میں بانٹنے سے قومی خزانے کو خادم پنجاب روڈز پروگرام شروع ہونے سے قبل ہی دو ارب روپے سے زائد کا نقصان ہواہے۔ کیونکہ اگر یہ ٹینڈر اوپن کمپٹیشن کے ذریعے ہوتے یا قانون کے مطابق سی ٹو فرموں کو بھی ٹینڈر میں حصہ لینے کی اجازت دی جاتی تو پری کوآلیفائی ہونے والی فرموں کی تعداد ایک سو سے بھی زیادہ ہوجاتی ۔ جس کے نتیجے میں ایک طرف قومی خزانے کو ٹینڈر فیس کی مد میں ناقابل واپسی کروڑوں روپے حاصل ہوتے تو دوسری طرف ہر ٹینڈر میں مقابلہ ہوتا ۔ جو قومی خزانے کے لیے نقصان کی بجائے بچت کا باعث بنتا کیوں کہ مقابلے کی صورت میں ٹھیکیدار سرکاری تخمینے سے بڑھنے کی بجائے پانچ، سات یا 10فیصد کم ریٹس تک جا کر ٹینڈ ر حاصل کرتے ہیں۔جس کی ایک مثال بہاولپور میں سولر پارک کی سٹر ک ہے۔ جو 7فیصد BELOWٹینڈر کے باوجود کوآلٹی میں دیگر سٹرکوں سے بہتر بتائی جاتی ہے۔جبکہ اس کے برعکس خادم پنجاب روڈز پروگرام میں صورتحال الٹی رہی۔اور ٹھیکیداروں نے سرکاری ریٹس کی بجائے اپنی مرضی کے ریٹس پر منصوبے حاصل کئے ۔عام طورپر سرکاری منصوبہ جات تخمینے سے ساڑھے چار فیصد تک زیادہ ریٹس پر دیئے جاسکتے ہیں۔ لیکن معلوم ہواہے کہ خادم پنجاب روڈز پروگرام میں ٹھیکیداروں نے ساڑھے چارفیصد کی بجائے 15فیصد زیادہ تک ریٹس بھرے۔آرسی ڈی لاہور جیسے بعض شہروں میں منصوبوں کے لیے صرف ایک ہی ٹھیکیدار سامنے لایاگیا۔ جبکہ دیگر تمام شہروں میں ان منصوبوں کے لیے اوسطاًایک منصوبے کے لیے دو ٹھیکیدار سامنے آئے ۔ جن میں مقامی ہوٹل میں طے ہونے والے’’ معاہدے‘‘ کے مطابق منصوبہ حاصل کرنے والا ٹھیکیدار اور ایک سپورٹنگ ٹھیکیدار ہوتا۔جو منصوبے کے لیے اصل ٹھیکیدار سے زیادہ نرخوں میں ٹینڈر ڈالتا تاکہ کم ریٹس کی وجہ سے اصل ٹھیکیدار کو کام الاٹ ہوسکے۔سی اینڈڈبلیو ذرائع کے مطابق خالد پرویز نے چہیتے ٹھیکیداروں کو ایک کی بجائے دو ، دو اضلاع میں منصوبے الاٹ کئے ۔فیصل آباد اورگجرات ھا ئی ویز کنسٹرکشن کمپنی کو، سرگودھا اور منڈی بہاوالدین طیب منظور کو جبکہ گوجرانوالہ اورحافظ آباد کے ٹینڈر حبیب کنسٹرکشن کمپنی کو دیدیئے گئے۔خوشاب کا منصوبہ شاداب کو دیدیا گیا۔سی اینڈڈبلیو کے ایماندار اور محب وطن انجینئروں اور ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ خادم پنجاب روڈز پروگرام میںآغاز سے قبل ہی کرپشن شروع کردی گئی ہے۔صوبائی حکومت کو چاہیے کہ واقعے کی انکوائری کے لیے سی ایم آئی ٹی اور احتساب بیوروکو ذمے داری سونپی جائے۔تاکہ منصوبے کے آغا ز پر ہی اربوں روپے کی کرپشن کرنے والے بدعنوان عناصر کوگرفت میں لایا جاسکے۔اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے سی اینڈڈبلیو پنجاب کے سپیشل سیکرٹری خالد محمود کا کہناتھا کہ معاملہ ان کے نوٹس میں لایاگیا ہے۔اور وہ انکوائری کرینگے۔دوسری طرف چیف انجینئرہائی ویز نارتھ پنجاب خالد پرویز کا کہناتھا کہ33منصوبوں میں 25فرموں کو اس لیے پری کو آلیفائی کیا گیا کہ دوسری کوئی بھی فرم اہلیت نہیں رکھتی تھی۔ ان کا کہناتھا کہ پری کو آلیفائی ہونے والی فرمیں سرکاری تخمینے سے 15فیصد زیادہ ریٹس کے ٹینڈر بھریں یا50فیصد زیادہ ریٹس رکھیں ۔ انہیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔

مزید : صفحہ آخر