بیجنگ ، انٹرنیٹ کے نشے میں مبتلا لڑکے اور لڑکیوں کو لت سے چھٹکارے کے لئے خصوصی ورزشیں

بیجنگ ، انٹرنیٹ کے نشے میں مبتلا لڑکے اور لڑکیوں کو لت سے چھٹکارے کے لئے ...
بیجنگ ، انٹرنیٹ کے نشے میں مبتلا لڑکے اور لڑکیوں کو لت سے چھٹکارے کے لئے خصوصی ورزشیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بیجنگ (نیوز ڈیسک) چینی دارالحکومت کے نواح میں ایک بلند وبالا عمارت کے وسیع و عریض صحن میں علی الصبح ورزشی لباس میں موجود نوجوانوں کو قطاروں میں کھڑا کیا جاتا ہے، سخت ورزشیں کروائی جاتی ہیں، دن بھر مشکل ترین سرگرمیاں کروائی جاتی ہیں، خوراک اور تفریح پر سخت پابندیاں لگائی جاتی ہیں اور ان کی زندگی کے ہر لمحے کی نگرانی کی جاتی ہے، لیکن یہ کوئی فوجی اکیڈمی نہیں ہے۔اگرچہ ان نوجوانوں کے طرز زندگی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ انہیں کمانڈو تربیت دی جارہی ہے لیکن دراصل یہ انٹرنیٹ کے نشے میں مبتلا لڑکے اور لڑکیاں ہیں جن کے علاج کے لئے انہیں ایک خصوصی کیمپ میں رکھا جاتا ہے اور مشکل ترین تربیتی مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ ڈیکسنگ انٹرنیٹ ایڈکشن ٹریٹمنٹ سینٹر (IATC) کا قیام 2006ء میں عمل میں لایا گیا اور یہ اب تک پانچ ہزار سے زائد نوجوانوں کو انٹرنیٹ کے نشے سے نجات دلواچکا ہے۔اس سینٹر کو قائم کرنے والے پیپلز لبریشن آرمی کے کرنل ڈاکٹر تاؤران ہیں جو کہ ’’وانگ ین‘‘ نامی نشے کے ماہر معالج ہیں۔ ڈاکٹر تاؤ کہتے ہیں کہ چین کے 63 کروڑ سے زائد انٹرنیٹ صارفین میں سے تقریباً اڑھائی کروڑ اس کے نشے کی حد تک عادی ہوچکے ہیں اور اسی بیماری کو وانگ ین کہا جاتا ہے۔ یہ نوجوان روزانہ گھنٹوں انٹرنیٹ سے چمٹے رہتے ہیں اور کمزور بصارت، خراب نظام انہضام سمیت متعدد ذہنی و جسمانی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ان نوجوانوں کو ڈیکسنگ سینٹر میں داخل کیا جاتا ہے جہاں انہیں ہر قسم کے الیکٹرونک آلات سے دور رکھا جاتا ہے، انہیں مخصوص خوراک دی جاتی ہے اور سخت ترین جسمانی اور ذہنی ورزشیں کرائی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر تاؤ کا کہنا ہے کہ اگر ان کا مریض سینٹر سے نکلنے کے بعد چھ ماہ تک انٹرنیٹ استعمال کرنے کی طلب پر قابو رکھ سکے تو اسے صحت یاب سمجھا جاتا ہے۔

مزید : صفحہ آخر