مفید مشوروں پر عمل کریں اور گردوں کی بیماریوں سے محفوظ رہیں

مفید مشوروں پر عمل کریں اور گردوں کی بیماریوں سے محفوظ رہیں
مفید مشوروں پر عمل کریں اور گردوں کی بیماریوں سے محفوظ رہیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) گردے انسانی جسم سے فاسد مادوں کو خارج کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جس طرح دوسرے اعضاء قدرت کے عطا کردہ انعامات ہیں۔ اسی طرح گردے بھی انسانی زندگی کیلئے ایک انمول تحفہ ہیں۔ کھانے یا پینے والی غذا کے فضلات کا ایک اہم حصہ گردوں سے فلٹر ہو کر جسم سے خارج ہو جاتا ہے جسم کے اعضاء جس قدر اہم ہیں اسی قدر حساس بھی ہیں کیونکہ اس میں لاکھوں کی تعداد میں چھوٹی چھوٹی چھلنیاں جن کوKidny Nephronکہتے ہیں لگی ہوئی ہیں جن سے فلٹریشن پراسس ہوتا ہے، جسم کے ہر اعضاء اس حوالے سے بھی ذرا مختلف ہیں ،گردوں میں تکالیف کی اقسام نسبتاً زیادہ پائی جاتی ہیں۔ مثلاً گردہ کی سوجن،گردہ میں پتھریاں ، پیشاب کا رک جانا ، پیشاب بار بار آنا وغیر۔

سب سے زیادہ مریض کو جو پریشانی ہوتی ہے وہ یہ کہ معلومات کی کمی کی وجہ سے جلدی متوجہ ہی نہیں ہوتا کہ اْسے کون سی بیماری لاحق ہے۔ مریض صرف درد والی جگہ پر ہاتھ رکھ کر بتاتا ہے کہ یہاں درد ہے ،درد کیوں ہے؟ اس کیلئے اسے ٹیسٹ کروانا پڑتے ہیں جس پر کافی خرچ آتا ہے۔چند لوگ ان چکروں میں پڑنے سے بچنے کیلئے یا تو اپنے ٹوٹکے شروع کر دیتے ہیں یا پھر عطائی لوگوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور تکلیف شدت اختیار کر جاتی ہے۔

امراض گردہ :جیسا کہ اوپر ذکر کیا جا چکا ہے کہ گردوں میں ایک سے زیادہ تکالیف ہو تی ہیں اور اْن کی علامات بھی الگ الگ اور وجوہات بھی جد اجداہو تی ہیں۔

گردوں کی سوجن:اس مرض میں گردے کی ساخت میں نقص سے سوزش ہو جاتی ہے اس کے ساتھ ہی جھلیوں میں پانی پڑ جانے سے سوزش ہو جاتی ہے۔ اگر یہ نقص زیادہ شدت اختیار کر جائے تو گردہ کی ساخت چربی میں تبدیل ہوجاتی ہے لیکن ایسا اْس وقت ہوتا ہے جب گردوں کا مرض پرانا ہوچکا ہو۔ شروع میں مریض کو تیز بخارسے لرزہ طاری ہو جاتا ہے، مریض کے ہاتھ پاؤں پر سوزش آجاتی ہے، نبض تیز اور سخت چلتی ہے۔ چہرہ پیلا اور سوجن والا ہو جاتا ہے بلکہ عام طور ر تمام جسم پر سوجن محسوس ہوتی ہے۔اگر دونوں گردے مرض میں مبتلا ہو جائیں تو سارا جسم اور چہرہ اس قدرپھول جاتا ہے کہ آنکھیں تک چھپ جاتی ہیں۔ پیٹ میں پانی بھر جاتا ہے جس سے سینہ میں سانس کی تنگی اور گھبراہٹ ہوتی ہے۔

اسباب مرض: عام طور پر شدید سردی لگ جانا اس مرض کا باعث بنتا ہے اچانک بخار یا ٹھنڈے پانی میں بھیگ جانے سے سوزش گردہ کی تکلیف واقع ہو جاتی ہے۔ مے نوشی اس بیماری کا لازمی جزو ہے۔ دیگر لوگوں کی نسبت نشہ میں مبتلا افراداس بیماری کا عام شکار ہوتے ہیں۔غذا میں اعتدال نہ رکھنے سے بھی گردوں میں سوزش ہو جانا عام بات ہے۔بعض دفعہ یہ مرض موروثی ہوتا ہے خصوصاً ایسے خاندان جن میں اس مرض کی ہسٹری موجود ہوایسے افراد بھی اس مرض کا زیادہ شکا رہوتے ہیں۔ بعض خاندانوں میں گوشت خوری کا رجحان بہت زیادہ ہوتا ہے سبزی ہو یا دال گوشت کے بغیر نہیں کھاتے ایسے لوگوں کے گردوں میں چربی فلٹر نہیں ہوپاتی اور باریک سوراخ جو گردوں میں فلٹر کا کام کرتے ہیں بند ہو جاتی ہیں جس کے نتیجے میں گردوں سے خارج ہونے والا فضلہ پوری طرح خارج نہیں ہو پاتا۔

گردوں میں پتھری:اس مرض میں گردوں یا مثانے میں پتھری بننا شروع ہو جاتی ہے۔ معدنی ذرا ت جو پیشاب تہ نشین ہوتے ہیں کبھی تو الگ الگ پڑے رہتے ہیں اور خارج ہوتے رہتے ہیں اور اگر یہ آپس میں مل جائیں تو پتھری کی شکل اختیار کر جاتے ہیں ان کے باہم ملنے سے ہی گردے یا مثانہ کی پتھریاں وجود میں آتی ہیں۔ میدانی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کی نسبت پہاڑی علاقوں میں رہنے والے افراد اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔

گردوں میں پتھری بننے کے اسباب اور احتیاطی تدابیر: گردوں میں پتھری عام طور پر فلٹر یشن پر اسس کی خرابی سے پیدا ہوتی ہے عام طور پر جن علاقوں میں پانی میں نمکیات کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ ان علاقوں کے لوگ اس بیماری کا زیادہ شکار ہوتے ہیں پہاڑی علاقوں میں جہاں پر لوگ زیادہ تر چشموں یاتلابوں کا پانی استعمال کرتے ہیں، ان لوگوں کے گردوں میں پتھریاں بننے کے امکانا ت بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ جو لوگ چاول ، آلو، پالک اور دیگر سبز پتوں والی سبز یاں زیادہ استعمال کرتے ہیں ان لوگوں میں پتھریاں بننے کی شرح بھی بڑھ جاتی ہیں۔

پانی کا کم استعمال بھی پتھری بننے کا باعث بنتا ہے۔ کیونکہ گردوں کو جتنی مقدار پانی کی فلٹریشن پراسس کیلئے درکارہوتی ہے اگر اتنی مقدار میں پانی نہ پیا جائے تو کئی قسم کے فاسد مادے گردوں سے خارج ہونے سے رہ جاتے ہیں اور انہی مادوں کے اوپر کیلشیم ، فاسفیٹ وغیرہ کے ذرات اکٹھے ہو کر پتھری کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔لہٰذا ضروری ہے کہ ان مذکورہ احتیاطی تدابیر کو اختیار کرکے اپنی زندگی کو مزید محفوظ کرنے کے اقدامات کئے جائیں اور اللہ رب العزت کی دی ہوئی نعمتوں کا بھرپور انداز میں شکرادا کیا جائے۔

مزید : تعلیم و صحت