پنجاب اسمبلی، بیورو کریسی نے ایوان کو مذاق بنالیا، سیکرٹری داخلہ کی عدم موجودگی پر سپیکر برہم

پنجاب اسمبلی، بیورو کریسی نے ایوان کو مذاق بنالیا، سیکرٹری داخلہ کی عدم ...
پنجاب اسمبلی، بیورو کریسی نے ایوان کو مذاق بنالیا، سیکرٹری داخلہ کی عدم موجودگی پر سپیکر برہم

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ویب ڈیسک) پنجاب اسمبلی میں سیکرٹری داخلہ کی ایوان میں عدم موجودگی پر سپیکر نے ایکشن لیتے ہوئے محکمہ داخلہ کے بارے میں وقفہ سوالات موخر کردیا اور رولنگ دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اجلاس کے دوران جس محکمہ کے بارے میں وقفہ سوالات ہوا اور اس محکمہ کا سیکرٹری ایوان میں موجود نہ ہوا تو سوالات موخر کردئیے جائیں گے جبکہ کورم پورا نہ ہونے کے باعث وزیر خزانہ پری بجٹ پر بحث مکمل نہ ہوسکی۔ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کا اجلاس قائم مقام سپیکر شیر علی گورچانی کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز پر ہی حکومتی رکن اسمبلی عائشہ جاوید نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ محکمہ داخلہ کے بارے میں وقفہ سوالات ہے اور محکمہ کا سیکرٹری موجود نہیں ہے۔ جس پر سپیکر نے کہا کہ اس ایوان سے زیادہ کوئی چیز مقدس نہیں ہے۔ بیورو کرسیسی نے ایوان کو مذاق نہ بنا رکھا ہے۔ اگر ایک گھنٹہ اسمبلی کیلئے نکال لیں گے تو کوئی قیامت نہیں آجائے گی۔ اب محکمہ داخلہ کے سوالات منگل کو ایوان میں پیش کئے جائیں اور سیکرٹری داخلہ بھی اس روز حاضر ہوں۔ رکن اسمبلی میاں طاہر نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ فیصل آباد میں ٹارگٹ کلر معصوم شہریوں کو نشانہ بنارہے ہیں، پولیس نے کچھ ٹارگٹ کلر پکڑے بھی ہیں لیکن سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے رہا کیا جارہا ہے۔ پری بجٹ پر بحث کرتے ہوئے اپوزیشن رکن وقاص حسن موکل نے کہا کہ ایوان کو بتایا جائے کہ پچھلے سیشن میں جو تجاویز دی گئیں تھی ان پر عملدرآمد ہوا ہے کہ نہیں۔ اب بھی ایوان سے جو تجاویز لی جارہی ہیں اس پر ایک فیصد عملدرآمد نہیں ہوگا کیونکہ بجٹ بیوروکریسی بناچکی ہے اور ہماری تجاویز بیکار ہیں۔

مزید : لاہور