عدالت نے بحریہ ٹاﺅن انتظامیہ کو ’بحریہ‘کا نام استعمال کرنے کی اجازت دیدی

عدالت نے بحریہ ٹاﺅن انتظامیہ کو ’بحریہ‘کا نام استعمال کرنے کی اجازت دیدی
عدالت نے بحریہ ٹاﺅن انتظامیہ کو ’بحریہ‘کا نام استعمال کرنے کی اجازت دیدی

  

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)عدالت نے بحریہ ٹاﺅن انتظامیہ کو ’بحریہ ‘کا نام استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔تفصیلات کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج محمد اشرف نے کیس سماعت کی ،سماعت کے دوان سیشن کورٹ نے سول کورٹ کا حکم معطل کر دیا اور فریقین سے18اپریل تک جواب طلب کرلیاہے ۔

واضح رہے کہ2002ءمیں دائر پٹیشن میں ملک ریاض کو ان کی ہاوسنگ سوسائٹی کے لیے ’بحریہ‘ کا نام استعمال کرنے سے روکنے کی درخواست کی گئی تھی۔ ملک ریاض سے منسلک ایک پراپرٹی کی فرم حسین گلوبل نے بحریہ فاونڈیشن کے ساتھ بحریہ ٹاون کے قیام کے لیے 1996ءمیں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے۔یہ فاﺅنڈیشن وقف ایکٹ 1890ءکے تحت ایک فلاحی ٹرسٹ کے طور پر جنوری 1982ءمیں قائم کی گئی تھی۔ بحریہ فاﺅنڈیشن کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ چیف آف نیول اسٹاف تھے، اور یہ فاونڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر سمیت آٹھ اراکین پر مشتمل تھی۔

فاونڈیشن کے ساتھ جس معاہدے پر ملک ریاض نے دستخط کیے تھے، اس کے تحت پاک بحریہ کے ماتحت ادارے کو نجی ہاوسنگ اسکیم کے لیے ’بحریہ‘ کا نام استعمال کرنے پر دس فیصد حصے کی پیشکش کی گئی تھی۔ بقایا رقم حسین گلوبل، ملک ریاض اور ان کے خاندان کے افراد میں تقسیم ہونا تھی۔

مزید : راولپنڈی /اہم خبریں