کرکٹ سے8 ماہ کی دوری ذہنی اذیت تھی: سعید اجمل

کرکٹ سے8 ماہ کی دوری ذہنی اذیت تھی: سعید اجمل
کرکٹ سے8 ماہ کی دوری ذہنی اذیت تھی: سعید اجمل

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کے جادوگر سپنر سعید اجمل نے آئی سی سی کی جانب سے باﺅلنگ پر پابندی کے باعث 8 ماہ تک کرکٹ سے دوری کو ذہنی اذیت اور ٹارچر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا سب سے مشکل وقت تھا۔ تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی اور دورہ بنگلہ دیش کیلئے قومی سکواڈ میں شمولیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعید اجمل کا کہنا تھا کہ ”کرکٹ کے بغیر رہنا ٹارچر تھا، میں نے ماہ تک یہ اذیت برداشت کی اور یہ میری زندگی کا سب سے مشکل وقت تھا“۔

انہوں نے کہا کہ ”میں نے ٹیلی ویژن پر ورلڈ کپ دیکھا اور 45 دن تک میرا دل یہی چاہتا تھا کہ ٹی وی میں گھس جاو¿ں اور اپنے ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ مل کر اپنا کردار ادا کروں۔ میں محسوس کیا کہ انہیں میری کمی محسوس ہو رہی ہے کیونکہ میں ہمیشہ بیٹنگ پاور پلے میں مو¿ثر باو¿لنگ کرتے ہوئے وکٹیں حاصل کرتا تھا اور اسی چیز کی ہمارے کھیل میں کمی نظر آئی“۔

سعید اجمل کا مزید کہنا تھا کہ ”میں کپتان مصباح الحق سے مستقل رابطے میں تھا اور اپنی نیک خواہشات کے ذریعے ان کا اور دیگر کھلاڑیوں کا مورال بڑھایا کرتا تھا لیکن ٹیم سے دور رہنا بہت تکلیف دہ تھا“۔ میں نے بہت محنت کی ہے اور نئے باو¿لنگ ایکشن سے کوئی مسئلہ نہیں، مجھے پوری امید ہے کہ میںنئے ایکشن کے ساتھ بھی ویسی ہی باﺅلنگ کراﺅں گا جیسی پابندی سے پہلے کرتا تھا“۔

واضح رہے کہ سعید اجمل کا باو¿لنگ ایکشن آٹھ ماہ قبل سری لنکا میں مشکوک رپورٹ ہوا تھا جس کے باعث آئی سی سی نے ان پر پابندی عائد کر دی تھی تاہم انہوں نے سخت محنت کے بعد ورلڈ کپ سے قبل باو¿لنگ ایکشن کلیئر کرا لیا لیکن میچ پریکٹس نہ ہونے کے باعث ورلڈکپ کھیلنے سے دستبردار ہو گئے۔

مزید : کھیل