ملائیشیاءکا لاپتہ طیارہ 'ہم نے'گرتے دیکھا

ملائیشیاءکا لاپتہ طیارہ 'ہم نے'گرتے دیکھا
ملائیشیاءکا لاپتہ طیارہ 'ہم نے'گرتے دیکھا

  

مالے (نیوز ڈیسک) گزشتہ سال لاپتہ ہونے والے ملائیشین ایئرلائن کے طیارے کی تلاش آسٹریلیا کے قریب کی جارہی ہے لیکن اس جگہ سے پانچ ہزار کلومیٹر کی دوری پر واقع مالدیپ کے ایک جزیرے کے باسیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے گزشتہ سال 8مارچ کو ایک طیارے کو انتہائی نیچی پرواز کرتے ہوئے دکھا اور وہ اس واقع کے متعلق مزید معلومات فراہم کرنے کے لئے تحقیق کاروں کے منتظر ہیں۔

وہ 32 ممالک جہاں پاکستانی بغیر کسی ویزا کے جاسکتے ہیں

لاپتہ ہونے والی پرواز MH370 کی تلاش آسٹریلوی شہر پرتھ کے جنوب مغرب میں چھ سو مربع کلومیٹر کے علاقہ میں کی جارہی ہے۔ مالدیپ کے چھوٹے سے جزیرے کداﺅ وادو کے رہنے والوں کا کہنا ہے کہ 8 مارچ کی صبح ان کے جذیرے کے اوپر سے ایک بہت بڑا جہاز گزرا جو اتنی کم بلندی پر تھا کہ اس کے دروازے بھی نظر آرہے تھے۔ 34 سالہ آئی ٹی منیجر احمد شیام نے بتایا کہ انہوں نے دن کی روشنی میں اس جہاز کو واضح طور پر دیکھا اور ان کے علاوہ بھی متعدد لوگوں نے اسے دیکھا۔ ابراہیم نامی ایک اور شخص کا کہنا ہے کہ اس نے جزیرے پر سے گزرتا ہوااتنا بڑا جہاز پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ ملائیشیا کے جہاز کی تباہی کی خبر سننے کے بعد اسے یقین ہوگیا تھا کہ یہ وہی طیارہ تھا جو جزیرے کے اوپر سے گزرا تھا۔ بحر ہند میں واقع جزیرے کے مکینوں کا کہنا ہے کہ طیارے کو غلط جگہ پر تلاش کیا جارہا ہے اور ان کا اصرار ہے کہ تحقیق کاروں کو ان کے جزیرے پر آنا چاہیے تاکہ وہ مکمل تفصیلات بتاسکیں۔

واضح رہے کہ آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی کے اکوسٹک سائنسدان پہلے ہی یہ خیال ظاہر کرچکے ہیں کہ طیارے کی تباہی کے دن مالدیپ کے علاقے میں ریکارڈ ہونے والا ڈیٹا طیارے کے بحر ہند میں گرنے کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس