جوڈیشل کمیشن کسی قانون ،انتخابی عذرداری اور اپیل پر اثر انداز نہیں ہوگا

جوڈیشل کمیشن کسی قانون ،انتخابی عذرداری اور اپیل پر اثر انداز نہیں ہوگا
تجزیہ ;۔سعید چودھری 
پاکستان تحریک انصاف اورحکومت کے درمیان طے پانے والے معاہدہ کے نتیجہ میں صدر مملکت نے 2013ءکے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے جوڈیشل کمیشن کے قیام کاآرڈیننس جاری کردیا ہے ۔جوڈیشل کمیشن سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل ہوگا جو اپنے قیام کے بعد 45روز میں رپورٹ پیش کرے گا۔متحدہ قومی موومنٹ سمیت مختلف حلقوں کی طرف سے جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے یہ نکتہ اٹھایا جارہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل225کے تناظر میں انتخابات میں دھاندلی کا جائزہ لینے کے لئے جوڈیشل کمیشن قائم ہی نہیں کیا جاسکتا۔جوڈیشل کمیشن کی تشکیل سے متعلق صدارتی آرڈیننس کے سیکشن 9(2)میں واضح کردیا گیا ہے کہ 2013ءکے انتخابات سے متعلق انتخابی عذرداریاں یا ان کے فیصلے کے نتیجہ میں سامنے آنے والی اپیلوں یا پھر ان سے وابستہ کارروائی سے متعلق کسی بھی الیکشن ٹربیونل یا عدالت پر اس جوڈیشل کمیشن کا کوئی اثر نہیں ہوگا اور انتخابی عذرداریوں اور انتخابی اپیلوں کو نافذ العمل قانون کے مطابق ہی نمٹایا جائے گا۔آرڈیننس کے سیکشن 10میں یہ بھی طے کردیا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن کے باوجود ان تمام قوانین ،آئینی آرٹیکلز اور قوائد و ضوابط کو فوقیت حاصل رہے گی جن کے تحت 2013ءکے عام انتخابات کروائے گئے تھے۔کیا بعض حلقے جوڈیشل کمیشن کے خلاف جوآئینی نکتہ اٹھا رہے ہیں وہ سو فیصد درست ہے ؟ کیا آئین میں انتخابی دھاندلی سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی تشکیل پر پابندی عائد ہے ؟ آئین کے آرٹیکل 225میں واضح کیا گیا ہے کہ "پارلیمنٹ یا کسی صوبائی اسمبلی کے الیکشن پر اعتراض نہیں کیا جاسکتا ،ماسوائے ایک انتخابی عذرداری کے ذریعے جو کسی ایسے ٹربیونل کے روبرو اور اس طریقہ سے پیش کی گئی ہو جسے پارلیمنٹ نے ایک قانون کے ذریعے متعین کیا ہو "۔
آئین کے آرٹیکل 222(ڈی)کے تحت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) انتخابات اور انتخابی عذر داریوں کے انصرام اور انتخابات کے ضمن میں پیدا ہونے والے شکوک اور تنازعات کے فیصلے کے لئے قانون سازی کرتی ہے اور اس حوالے سے عوامی نمائندگان ایکٹ کے سیکشن 57کے تحت الیکشن ٹربیونلز قائم ہیں جو انتخابی عذر داریوں کی سماعت کرتے ہیں۔قانون میں انتخابی عذر داری دائر کرنے کی میعاد اور اسے دائر کرنے کے حق داروں کا تعین بھی کیا جاچکا ہے۔بظاہر انتخابات کو عام عدالتوں میں چیلنج کرنے کی اجازت نہ دینے کا مقصد انتخابات کی قبولیت کو زیادہ سے زیادہ یقینی بنانا اور ارکان اسمبلی کو انتخابی تنازعات سے بچانا ہے۔بھارت میں تو عدالتیں انتخابی تنازعات اٹھانے کی حوصلہ شکنی کے لئے متعدد فیصلے بھی جاری کرچکی ہیں۔بھارتی عدالتوں کے نزدیک ،"انتخابات ایک ایسی عیاشی ہیں جن کی جمہوریت ہرسال متحمل نہیں ہوسکتی "۔آئین کے مختلف آرٹیکلز اور متعلقہ قوانین کے جائزہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ انتخابی عذرداری کے سوا انتخابی تنازعات کا فیصلہ کرنے کا کوئی دوسرا طریقہ کار موجود نہیں ہے اور انتخابی تنازعات کا فیصلہ کرنے کا اختیار صرف الیکشن ٹربیونلز کے پاس ہے جس کے فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل ہوسکتی ہے۔اس حوالے سے صدارتی آرڈیننس میں بھی وضاحت کردی گئی ہے کہ جوڈیشل کمیشن اور اس کی کارروائی انتخابی عذداریوں اور انتخابی اپیلوں پر اثر انداز نہیں ہوگی ۔کمیشن کی تشکیل پر اعتراض کرنے والوں کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ جوڈیشل کمیشن کوئی عدالت ہے اور نہ ہی وہ کوئی حکم جاری کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔قانونی طور پر جوڈیشل انکوائری کی حیثیت ایک رائے اور سفارش کی ہے۔ذوالفقارعلی بھٹو قتل کیس میں قرار دیا جاچکا ہے کہ جوڈیشل انکوائری رپورٹ کو شہادت کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا۔اسی عدالتی نظیر کی بنیاد پر اعلیٰ عدالتوں کی طرف سے متعدد مقدمات میں جوڈیشل انکوائری کو گواہی کے طور پر قبول نہ کرنے کی بابت آبزرویشنز آچکی ہیں۔قانون کے تحت جوڈیشل انکوائری کا مقصد غیر جانبداری کے ساتھ انتظامیہ کو مدد اور راہنمائی فراہم کرنا ہوتا ہے تاکہ انکوائری کے نتائج کی روشنی میں انتظامیہ اپنے لئے درست راستے کا تعین کرسکے۔ جوڈیشل انکوائری کی رپورٹ کی بنیاد پر کیا کسی شخص کو سزا نہیں دی جاسکتی۔اسی طرح کسی شخص کے خلاف رپورٹ میں کی گئی سفارشات پر عمل درآمد بھی ضروری نہیں ہے ،اس حوالے سے بھی عدالتی نظائر موجود ہیں جیسا کہ سانحہ گوجرہ کے حوالے سے مسٹر جسٹس اقبال حمید الرحمن کی انکوائری رپورٹ میں اعلی پولیس افسر طاہر رضا کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی تھی اور یہ رپورٹ ان کی کسی اعلی ٰ عہدہ پر تعیناتی کی راہ میں رکاوٹ تھی تاہم اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے بعدطاہر رضا کو سی سی پی او لاہور مقرر کردیا گیا تھا۔جہاں تک ان عدالتی نظائر کاتعلق ہے کہ انکوائری رپورٹ کو شہادت کے طور پر قبول نہیں کیاجاسکتا ،مذکورہ جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کی انکوائری رپورٹ کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی ۔2013ءکے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لئے بنائے جانے والے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ اس بنیاد پر بہت اہم ہوگی کہ اس حوالے سے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان ایک تحریری معاہدہ موجود ہے جس پر عمل درآمد ہونا ہے ۔اگر کمیشن 2013ءکے عام انتخابات میں ایسی دھاندلی کی تصدیق کردے جس سے کسی منصوبہ کے تحت انتخابی نتائج پراثر انداز ہونے کی کوشش ثابت ہوتی ہو اور یہ کہ یہ نتائج عوامی مینڈیٹ کے درست عکاس نہیں ہیں تو وزیر اعظم کو قومی اسمبلی اور وزراءاعلی ٰ کو صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنا ہوں گی ۔بصورت دیگر موجودہ حکومت برقرار رہے گی اور تحریک انصاف کو اپنی غلطی کا اعتراف کرنا ہوگا ۔جو جوڈیشل کمیشن قائم کیا جارہا ہے آئینی طور پر اس کی حیثیت عدالت کی نہیں ہوگی اور نہ ہی یہ کمیشن کسی حلقہ کے انتخابی تنازع کا فیصلہ کرے گا بلکہ وہ انتخابی دھاندلی کے الزامات کے حوالے سے اپنی سفارشات دے گا ،جوڈیشل کمیشن 2013کے انتخابات کالعدم نہیں کرسکتا ۔جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کامقصد کسی حلقہ کے انتخابی تنازع کا فیصلہ کرنا نہیں بلکہ عام انتخابات میں منظم دھاندلی کے الزامات کا جائزہ لینا ہے اورایسے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل میں کوئی آئینی رکاوٹ نہیں ہے ۔

مزید : تجزیہ