جواب دیجئے

جواب دیجئے
جواب دیجئے

  

معاشرتی ڈھانچے میں ڈیڈ لاک نمودار ہو چکا ہے، انتشار نامی بلائیں آبادیوں پر حملہ آور ہو چکی ہیں، ضروریات و کمائی میں اس قدر خوفناک عدم توازن پیدا ہوچکا ہے جسے ابھی تک حکمران اشرافیہ، اسٹیبلشمنٹ پوری طرح بھانپ نہیں پا رہیں۔ نہ تو نئے زمانوں، نئے تقاضوں کے مطابق آئین کو اپ گریڈ کیا گیا ، نہ ہی سخت قوانیں، مختصر سزاؤں کے ذریعے شہریوں کو مرحلہ وار آزادی بخشی گئی، نہ ہی آسان اور وافر روزگار کے ذریعے عام فرد کو ذہنی و جسمانی تخریب سے بچایا گیا اور نہ ہی بے چینی کے اس سائے کا قد ماپا گیا جو کیا امیر کیا غریب سبھی کو گرفت میں لے چکا ہے۔ سماج کا ایک چہرہ وہ ہے، جسے جدی پشتی مالدار اپنے وسائل کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک سب اچھا ہے، اگر کبھی کچھ برا لگے تو وہ کتھارسس کی خاطر بیرون مُلک ایک دو ماہ گذار آتے ہیں۔ دوسرا سماجی چہرہ وہ ہے جسے چھوٹی موٹی راس رکھنے والے پُرجوش حضرات مستقبل میں جیک لگنے کے تصور میں ڈوب کر دیکھتے ہیں۔ انہیں کبھی مایوسی آن گھیرے تو اوپر والی کلاس کی چاپلوسی اور نچلی کو ذلیل کرکے بھڑاس نکال لیتے ہیں اور سماج کا ایک چہرہ وہ ہے جسے غریب ، محروم طبقہ نا امیدی اور نفرت کے شعلوں کے رقص میں دیکھتا ہے۔

ذرا کچھ لمحوں کے لئے زرمبادلہ کے ذخائر، اقتصادی راہداری اور کریڈٹ ریٹنگز کو ایک طرف رکھئے اور ان90فیصد پاکستانیوں کے دماغوں میں جھانکئے کہ وہ شب و روز کیا سوچ رہے ہیں؟ انہیں ضروریات زندگی سے نمٹنے کے لئے کس سفاک معاشی جنگ کا سامنا ہے، جن خاندانی اقدار پر وہ فخر کرتے تھے، انہیں غربت کا دیو چاٹ چکا۔ تنگدستی کی بدولت سگے رشتہ داروں نے میل جول انتہائی محدود کر دیا۔ صدیوں کی دانش سے پروان چڑھنے والی اقدار فقط پندرہ برسوں میں آوارہ بگولوں کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ کہاں گئے مہمان نواز شہر؟ کراچی کھو گیا، لاہور چھپ گیا، مارکیٹیں افغانوں، گلیاں جنوبی پنجاب کے مزدوروں اور سڑکیں اذیت ناک ہجوم سے اٹ گئیں۔۔۔۔ سماج کبھی جامد نہیں رہتے، انہیں ہر حال میں آگے بڑھنا ہوتا ہے۔ ریاستیں آئیڈیا اور وسائل کی صورت میں شہریوں کا لائف سٹائل اپ گریڈ کرتی ہیں۔ آئیڈیاز عظیم حکمرانوں کے دماغوں سے جنم لیتے ہیں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ریاستی مشینری کے ذریعے یقینی بنائی جاتی ہے۔ یہ فارمولا بگڑ جائے تو وہی ابتری نمودار ہوتی ہے جو پاکستان بھر میں شکنجے پھیلا چکی۔

ماضی میں ریاست مختلف تجربات کرتی رہی۔ عظیم لیڈر کی تلاش میں شہریوں نے اوسط ذہانت کے قائدین سے توقعات باندھیں۔ ان میں سے اکثریت کا سماجیات اور سیاسیات کے باہمی ربط کے بارے میں علم واجبی تھا۔کسی کی وزڈم لاڑکانہ کی گرومنگ میں لپٹی ہوئی تھی اور کسی کا مائنڈ سیٹ اندرون لاہور جیسی تنگ گلیوں تک محدود تھا۔ مایوس ہوکر شہری طاقت کے دوسرے ستونوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ ماضی میں افواج کا امیج سٹرٹیجک ڈیپتھ کی نذر ہوا اور عدلیہ کے بطن سے سیاسی جماعت کی خواہش نے جنم لیا۔ نتیجتاً شہری ریاست سے لاتعلق ہوکر الگ تھلگ بیٹھ گئے۔ آج شہریوں کی یہی نیم مردہ دلی ریاست کو ایسے خطرناک دوراہے پر لے آئی ہے، جہاں تخلیق کار رسوا، بڑے آدمی ناپید اور رول ماڈلز کا سلسلہ ختم ہوتا چلا جا رہا ہے۔ شہریوں کی نظروں میں ریاستی اداروں کا بھرم بھی کھل چکا ہے۔

غریب کو علم ہے مرتے وقت نہ تو علاج معالجے کی سہولت دستیاب ہوگی اور نہ جیتے جاگتے باعزت زندگی کا خواب پورا ہو پائے گا۔ اسے یہ بھی علم ہے کہ لوکل کاروباری ایلیٹ اسے کبھی بھی بیس ،تیس ہزار روپے ماہانہ سے زیادہ کمانے نہیں دے گی۔ اس لوکل کاروباری ایلیٹ نے پاکستان کے ہر شہر میں چھوٹے کاروباریوں کے لئے انکم کے بیرئیر سیٹ کر رکھے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا ’’ریاست اور شہری‘‘ ترقی کا سفر طے کر رہے ہیں یا تنزلی کی جانب گامزن ہیں؟ جواب یہی نظر آتا ہے کہ معاشرتی ترقی کا پتھر گہری کھائیوں کی جانب لڑھک چکا ۔ ذمہ دار کون ہے؟ سیاسی جماعتیں، اسٹیبلشمنٹ ، عدلیہ یا عوام خود؟۔۔۔ سیاسی جماعتوں کی جانب چلتے ہوئے حکمران جماعت مسلم لیگ کا ذکر۔۔۔ کوئی شبہ نہیں انہیں زمانے بھر کے چیلنجوں سے پالا پڑا ہے، لیکن اب تک کے طرز حکمرانی میں کوتاہی یہ رہی کہ ایسے بیشتر اقدامات کو نظر انداز کیا گیا، جنہوں نے بغیر کسی فنڈنگ یا بجٹ، معاشرتی سٹرکچر کو اپ گریڈ کرنا تھا۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہئے کہ حکمران جماعت اکیسویں صدی میں شخصی آزادی کی ڈیمانڈز کے مطابق ری ایکٹ کرنے میں ناکام رہی۔ کیا اداروں کے کلچر کو تبدیل کیا گیا؟ قطعا نہیں۔ معاشی مسائل حل ہوتے ہوتے وقت لیں گے، لیکن ادارہ جاتی اپ گریڈیشن کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا۔ اس کام کے لئے۔۔۔ thought provoking ۔۔۔شخصیات کی ضرورت تھی۔

کیا حکمران جماعت ایسی شخصیتوں سے محروم تھی یا انہوں نے مسلسل اور متواتر ایسا موقع ضائع کیا جو انہیں مخالفین پر برتری اور عام لوگوں میں قدرومنزلت عطاء کر سکتا تھا؟ ہم سرکاری دفاتر میں جاتے ہیں، وہاں پھیلا کروفر اور وحشت ہمیں احساس کمتری اور توہین جیسے ان گنت احساسات سے دوچار کرتا ہے۔ ہم جیل خانوں میں جھانکتے ہیں، وہاں بیرکوں میں بند سراسیمہ انسان گسٹاپو کے اسیروں جیسے نظر آتے ہیں۔کیا یہ تبدیلی تھی جس کا وعدہ کیا گیا؟ کیا یہ بدلتے پاکستان کا چہرہ تھا؟موجودہ ورلڈ وائیڈ سولائزیشن میں اس سے بڑا کوئی جرم ہی نہیں کہ کسی کو جیل میں پٹخ کر اہل و عیال کو بھوکے مرنے کو چھوڑ دیا جائے۔ جیل قوانین کون بدلے گا؟ سزاؤں کی نوعیت پر کام کون کرے گا؟ ہم’’ ڈپٹی کمشنرز نامی سٹیٹس کو‘‘ کے رکھوالوں اور بلیک اکانومی کے پلرز بزنس مینوں کو دیکھتے ہیں، ہر جگہ ایک ہی منظر، ریاست فقط بالادستوں کے لئے ہے۔ ہاں کبھی کبھار اپوزیشن نامی شے کو ہوش آئے تو وہ غریبوں کے لئے دو چار فقرے جھاڑ دیتی ہے۔ پیپلز پارٹی بقاء کی جنگ میں اُلجھی ہے، جبکہ پی ٹی آئی ہونق کے خواب کی تعبیر کے لئے ’’انقلاب‘‘ کو دن رات جوتے مار رہی ہے۔ معاشرے میں ابلتے اس انقلاب کی جانب کوئی توجہ نہیں دے رہا جب پیرافریز کی آبادیاں خوش حال علاقوں پر حملہ آور ہوں گی۔ کوئی فیکٹری یا ادارہ اجڑنے کا وقت آئے تو چوکیدار، مزدور ٹونٹیوں ، تالوں پر نظریں جما لیتے ہیں۔ اپنے اردگرد دیکھ لیجئے، ہر دوسرا شخص کسی نہ کسی شے پر نظریں جما ئے نظر آئے گا۔

مزید :

کالم -