ادیب کی کاوشیں ۔۔۔!

ادیب کی کاوشیں ۔۔۔!
ادیب کی کاوشیں ۔۔۔!

  

وہ بھی زمانہ تھا کہ پی ٹی وی گھر گھر راج کرتا تھا۔ اپنے اس دور حکمرانی میں اس ادارے نے تخلیقی شعبے میں بین الاقوامی شہرت حاصل کی ۔پی ٹی وی کے پروگرام اخلاقی اور تکنیکی اعتبار سے کسی شک و شبہ سے بالاتر تھے۔کیمرے کی دنیا کے تیز ترین دور میں بھی لوگ پی ٹی وی کے ہنرمندوں اور فنکاروں کی صلاحیتوں کے معتر ف نظر آتے ہیں۔ڈرامے کے حوالے سے تو یہ ادارہ ایک اکیڈمی کی حیثیت رکھتا ہے ۔البتہ خبر سے باخبر رکھنے کے معاملے میں اس قومی ادارے نے کبھی عوامی اعتبار حاصل نہیں کیا۔ خبروں کی مخصوص طرز نے اس کی غیرجانبداری کو بری طرح متاثر کیا ۔شعبہ خبر سے وابستہ لوگ ہمیشہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار رہے ۔تنقید کرنے والے تو اسے ’’حکومت نامہ‘‘ یا ’’جبرنامہ ‘‘کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔دیکھا جائے تو حکومت کی تعریف کرنا تو شاید اس ادارے کی مجبوری تھا،لیکن وہ شعبے جن سے حکومت کو کوئی نفع یا نقصان نہیں تھا ان میں بھی پی ٹی وی کے ارباب اختیار نے کوئی زیادہ طبع آزمائی نہیں کی ۔ مجھے یاد ہے کہ جب فلم سٹار ’’وحید مراد‘‘ کا انتقال ہوا تو خبرنامے کے اختتام پر صرف ایک لائین کی بغیر تصویر کے خبر دی گئی ۔سلطان راہی قتل ہوئے تو پی ٹی وی نے اس کی خبردیناضروری نہ سمجھی ۔اسی طرح کی کئی مثالیں موجود ہیں جن میں اس قومی ادارے نے شوبز،ادبی اورسماجی شخصیات کے ساتھ کچھ ایسا ہی ناروا سلوک کیا ۔

دلچسپ بات تو یہ ہے کہ جب کوئی ادبی شخصیت دنیا سے رخصت ہو جاتی تو اس کا ذکر تک نہ کیاجاتا ،تاہم جب کوئی نام نہاد سیاست دان اس کے گھر تعزیت کیلئے جاتا تو پھر وہ ٹی وی کی ’’ہیڈ لائن ‘‘بن جاتی۔ مشاعرے ، ادبی محفلیں اور شوبز کی تقریبات کو ہمیشہ اس قومی ادارے کے ارباب اختیار نے شجرِ ممنوع سمجھا ۔ خدا خدا کرکے آج اس ادارے سے کفر ٹوٹا ہے ۔وزیراعظم محمد نواز شریف کی بصیرت۔۔ کہ انہوں نے ’’عطا الق قاسمی‘‘ جیسے ادیب ،شاعر اور درویش منش انسان کو اس قومی ادارے کی چیئرمین کی حیثیت سے ذمہ داریاں سونپی ہیں ۔قاسمی صاحب نے ٹی وی میں قدم رکھتے ہی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ اس ادارے کی ادبی اور تخلیقی رونقیں بحال کریں گے۔ یقیناًان میں یہ صلاحیت موجود ہے اور ان کے اندر کا فنکار ابھی پوری طرح جوان ہے اور وہ جیساسوچ رہے ہیں ویسا کرکے دکھائیں گے، لیکن جو اچھا کام انہوں نے فوری طور پر کیا وہ خبروں کے شعبے کو بہتر بنانے کیلئے عملی قدامات ہیں۔خبرنامے میں شوبز اور ادبی حلقوں کی خبروں کو مناسب وقت دیاجا رہاہے ۔

قاسمی صاحب نے پی ٹی وی نیوز ٹیم کو کو ہدایت کی ہے کہ ملک کے جس شہر میں بھی شعر و ادب کی دنیا کے حوالے سے کوئی خبر ہو اسے خبروں کا حصہ بنایاجائے ۔یہی وجہ ہے کہ آج کل خبرنامے میں ادبی محفلوں اور ادبی شخصیات کے متعلق خبریں بھی دیکھنے کو مل رہی ہیں ۔اس حوالے سے ایک اور اچھی بات یہ ہے کہ پی ٹی وی کے شعبہ نیوز کواطہر فاروق بٹر کی صورت میں ایک متحرک سربراہ میسر ہے ۔بٹر صاحب خبروں کے شہباز ہیں۔ ان سے کوئی لاکھ اختلاف کرے کام کے معاملے میں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔قاسمی صاحب کی ہدایات کی روشنی میں انہوں نے نیوز بلیٹن میں مثبت تبدیلیاں کی ہیں اور شوبز سمیت ادبی سرگرمیوں کو تواتر کے ساتھ خبرنامے کا حصہ بنایا گیا ہے ۔قاسمی صاحب کو یہ بھی کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے سٹوڈیوز کی رونقوں کوبحال کرنے پرابتدائی کام شروع کر دیا ہے ۔ملکہ غزل، فریدہ خانم کی خدمات کے اعتراف میں ایک خوبصورت تقریب قاسمی صاحب کی کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔مشاعرے بھی شروع ہو گئے ہیں اور نامور شاعر ایک بار پھر پی ٹی وی کے سٹوڈیوز میں دکھائی دینے لگے ہیں ۔قاسمی صاحب نے فیملی ڈراموں کا دور واپس لانے کے لئے کام شروع کر دیا ہے اور اچھے ڈرامہ نگاروں سے مشاورت کا سلسلہ بڑھا دیا ہے ۔اس طرح قاسمی صاحب جیسے اچھے ادیب کی صورت میں قومی ادارے کو ایک فنکار کی رہنمائی میسر آئی ہے جو یقیناًاس ادارے کی فنکار فیملی کو مضبوط کرے گی ۔

مزید :

کالم -