یہ 15سالہ لڑکی جوتوں کے ڈبے میں کیا چیز ڈال کر کوڑے میں پھینکتی پکڑی گئی؟ حقیقت ایسی کہ پورے ملک کو لرزا کر رکھ دیا

یہ 15سالہ لڑکی جوتوں کے ڈبے میں کیا چیز ڈال کر کوڑے میں پھینکتی پکڑی گئی؟ ...
یہ 15سالہ لڑکی جوتوں کے ڈبے میں کیا چیز ڈال کر کوڑے میں پھینکتی پکڑی گئی؟ حقیقت ایسی کہ پورے ملک کو لرزا کر رکھ دیا

  


بیجنگ (نیوز ڈیسک)کیا کسی ذی شعور انسان سے ایسے لرزہ خیز فعل کی توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے نومولود بچے کو زندہ حالت میں اٹھا کر کوڑا دان میں پھینک آئے، گویا وہ جیتا جاگتا انسان نہیں بلکہ غلاظت اور کوڑا کرکٹ ہی ہو۔ یہ رونگٹے کھڑے کردینے والے مناظر اس ویڈیو میں دیکھے جا سکتے ہیں، جس میں ایک 15 سالہ لڑکی نے اپنی نومولود بچی کو زندہ حالت میں ہی ایک ڈبے میں بند کرکے کوڑا دان میں پھینک رہی ہے۔

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق چینی سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی یہ سی سی ٹی وی ویڈیو شمال مشرقی صوبہ شین زین کی ایک رہائشی عمارت میں یکم اپریل کو بنائی گئی۔ خون میں لت پت نومولود بچی کوڑا دان کی صفائی کرنے والی خاکروب کو ملی اور معجزانہ طور پر وہ ابھی بھی سانس لے رہی تھی۔

10ماہ کا حاملہ بچہ، ڈاکٹروں کو بھی چکرا کر رکھ دیا

پولیس نے تصدیق کی ہے کہ بچی کو جنم دینے والی لڑکی کی عمر 15 سال ہے اور وہ اس رہائشی عمارت میں تنہا رہ رہی تھی۔ جب اس کے والدین کو واقعے کی خبر کی گئی تو وہ بھی پولیس سٹیشن پہنچ گئے اور انہوں نے نومولود بچی کو اپنے ساتھ لیجانے پر رضامندی ظاہر کی۔

بچی کو کوڑا دان سے نکالنے والی خاکروب نے بتایا کہ اس کی نظر ڈبے میں پڑی تو اسے ایک ننھی سی ٹانگ نظر آئی۔ اس نے سمجھا کہ یہ کوئی گڑیا ہے لیکن جب ڈبہ کھول کر دیکھا تو پاﺅں تلے سے زمین نکل گئی۔ یہ ایک زندہ سلامت بچی تھی جس کے جسم پر بھی تک خون لگا ہوا تھا۔ ننھی بچی کو باﺅ وان پیپلز ہسپتال کے میٹرنٹی یونٹ میں داخل کیا گیا ہے۔

ویڈیو میں لڑکی کو پیلے رنگ کی شرٹ اور نیلی ڈانگری جینز پہنے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ اس نے اپنے ہاتھ میں پلاسٹک کے لفافے اور ایک ڈبہ بھی اٹھارکھا ہے۔ اس نے اپنی نومولود بچی کو اسی ڈبے میں بند کررکھا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ رہائشی عمارت میں ایک سال سے مقیم تھی اور ایک مقامی بیوٹی سیلون میں کام کرتی ہے۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

15-year-old carries her newborn baby to bin her... by dailypakistan

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...