دنیا کا وہ قبیلہ جس کا دنیا سے کبھی کوئی رابطہ نہیں ہوا، پہلی مرتبہ ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر لوگ ملاقات کرنے پہنچے تو دیکھتے ہی قبیلے کے لوگوں نے کیا کام کردیا؟ جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گا

دنیا کا وہ قبیلہ جس کا دنیا سے کبھی کوئی رابطہ نہیں ہوا، پہلی مرتبہ ہیلی ...
دنیا کا وہ قبیلہ جس کا دنیا سے کبھی کوئی رابطہ نہیں ہوا، پہلی مرتبہ ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر لوگ ملاقات کرنے پہنچے تو دیکھتے ہی قبیلے کے لوگوں نے کیا کام کردیا؟ جواب آپ کے تمام اندازے غلط ثابت کردے گا

  


نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) ایمازون کے جنگلات میں کئی ایسے قبیلے رہائش پذیر ہیں جو آج بھی 20ہزار سال قدیم انسانوں والی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان میں سے جتنے قبائل دریافت ہو چکے ہیں ان کا جدید دنیا کے لوگوں سے رابطہ بھی ہو چکا ہے اور لوگ ان سے مل جل رہے ہیں لیکن بحرہند میں واقع ایک جزیرے پر ایسا قبیلہ واقع ہے جو صدیوں قبل دریافت ہوا لیکن بیرونی دنیا کے لوگ آج تک اس سے رابطہ کرنے میں ناکام ہیں۔ اس کی وجہ اس قبیلے کا جارحانہ رویہ ہے جو وہ باہر سے آنے والوں کے ساتھ اختیار کرتے ہیں۔

ایل او سی پراندھا دھند فائرنگ،دفتر خارجہ نے بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ تھما دیا

میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق اس جزیرے کا نام ’شمالی سینٹینل‘ (North Sentinel)ہے۔ برطانوی راج سے لے کر آج تک اس قبیلے کے لوگوں سے رابطہ کرنے کی متعدد کوششیں ہو چکی ہیں لیکن ہر بار یہ بیرونی لوگوں کو دیکھ کر انہیں قتل کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں اور ان پر تیروں اور پتھروں کی بارش کر دیتے ہیں۔2006ءمیں کچھ ماہی گیر اس جزیرے کے قریب چلے گئے تھے، چنانچہ ان قبائلیوں نے انہیں پکڑ کر ذبح کر دیا تھا۔ اس قبیلے کے افراد کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ ”یہ افراد ان لوگوں کی براہ راست نسل ہے جو 60ہزار سال قبل افریقہ سے یہاں آ کر مقیم ہوئے تھے۔

1880ءمیں برطانوی راج کی طرف سے ان لوگوں کے ساتھ رابطہ استوار کرنے کی مہم شروع کی گئی تھی اور یہاں کے کچھ باشندوں کو گرفتار کرکے ہندوستان لایا گیا اور پھر انہیں کچھ تحفے تحائف دے کر واپس جزیرے پر چھوڑ دیا گیا لیکن یہ مہم بھی ناکام ہوئی اور جزیرے پر چھوڑے جانے کے بعد ان میں سے کوئی بھی باشندہ دوبارہ واپس نہ آیا۔ 1981ءمیں پاناما کا ایک بحری جہاز ’پرم روز‘ اس جزیرے کے قریب چٹانوں میں پھنس گیا۔ تب بھی ان قبائلیوں نے جہاز پر موجود افراد پر حملہ کر دیا اور تیر برسائے۔ ایک ہفتے تک جہاز عملے سمیت یہاں پھنسا رہا۔ انہیں بمشکل یہاں سے نکالا گیا تھا کیونکہ جو امدادی ٹیم آتی، یہ اس پر بھی تیر برسانے لگتے تھے۔

وہ وقت جب روسی دارالحکومت دھماکوں سے لرز اٹھا تھا، دھماکوں کی وجہ کیا تھی اور ان کی ذمہ داری کس نے قبول کی ؟ حیران کن حقائق منظر عام پر آگئے

بھارتی حکومت بھی اس قبیلے سے رابطہ کرنے کی متعدد کوششوں کے بعد اب ہمت ہار چکی ہے اور اس نے اپنے شہریوں کو اس جزیرے کے قریب جانے سے منع کر رکھا ہے۔ بھارت کی طرف سے ملبوسات، خوراک اور دیگر تحفے تحائف کی تمام تر کوششیں اس قبیلے کے افراد نے مسترد کر دی ہیں اور اپنا بیرونی دنیا سے دشمنی پر مبنی رویہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ جو بھی ہیلی کاپٹر قریب آئے یا کشتی ساحل کے نزدیک آئے اس پر یہ تیروں کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں اور گھنے درختوں میں جا کر چھپ جاتے ہیں۔ بھارتی کوسٹ گارڈ بھی اس جزیرے کے زیادہ قریب نہیں جاتی۔ ہیلی کاپٹر اور ساحل کے قریب جانے والی کشتیوں کے ذریعے اس قبیلے کے افراد کی کچھ ویڈیو بنائی گئی ہے جو گزشتہ دنوں یوٹیوب پر پوسٹ کی گئی۔ اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح بیرونی دنیا کے لوگوں کو دیکھ کر یہ لوگ بپھر جاتے ہیں اور مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...