محکمہ خوراک زائد نمی والی گندم کی خریداری نہ کرے:فلورملز مالکان

محکمہ خوراک زائد نمی والی گندم کی خریداری نہ کرے:فلورملز مالکان

لاہور(کامرس رپورٹر ) پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن (پنجاب) کے چےئرمین ریاض اللہ خان وگروپ لیڈر عاصم رضا ، میاں ریاض ، لیاقت علی خان اور سابق چےئرمین چوہدری افتخار احمد مٹو نے کہا ہے کہ محکمہ خوراک زائد نمی والی گندم کی خریداری نہ کرے ، کیونکہ زائد نمی والی گندم میں افلا ٹاکسن( فنگس) لگنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں،یوں ایسی گندم انسانوں کے استعمال کے قابل نہیں رہتی۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز اپنے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان میں کہی۔پی ایف ایم اے کے رہنماؤں محکمہ خوراک کے پاس گندم کو مناسب طریقے سے محفوظ رکھنے کیلئے گنجائش نہیں ہے یہ وجہ ہے کہ پچھلے 3 سالوں سے پڑی فاضل گندم مناسب دیکھ بھال اور مناسب سٹوریج نہ ہونے کے باعث خراب ہو رہی ہے کیونکہ حکومت کے پاس سٹوریج کپیسیٹی ہی نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان حالات میں زائد نمی والی گندم کی خریداری سے گندم کا معیار زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ پاتا یوں قابل از وقت نمی کے باعث گندم کو فنگس لگنے سے گندم کا معیار گر جاتا ہے ایسی گندم سے حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق آٹے کی تیاری ممکن نہیں رہتی ۔انہوں نے کہاکہ پی ایف ایم اے کا حکومت سے مطالبہ ہے کہ براہ کرم نمی والی اور 7 دیگر اشیاء پر مشتمل ملاوٹ شدہ گندم کی خریداری نہ کی جائے،کیونکہ محکمہ خوراک کی پرچیز پالیسی میں 7 فیصد دیگر اشیاء کی خریداری دراصل کرپشن کرنے کا ایک راستہ ہے

یہی وجہ ہے کہ محکمہ خوراک کے بعض اہلکار پیسہ بنانے کیلئے آڑھتیوں سے ملی بھگت کر کے ملاوٹ شدہ گندم کی خریداری کرتے ہیں جس سے نہ صرف محکمہ خوراک کی ساکھ خراب ہوتی ہے بلکہ فلور ملنگ انڈسٹری پر بھی اضافی بوجھ پڑتا ہے جس کا خمیازہ غریب عوام کو بھگتنا پڑتا ہے ۔

مزید : کامرس


loading...