ذوالفقار علی بھٹو۔۔۔ایک جہاندیدہ شخصیت

ذوالفقار علی بھٹو۔۔۔ایک جہاندیدہ شخصیت

  ذوالفقار علی بھٹو کے 1965ء کی جنگ کے دوران اقوام متحدہ میں کہے گئے تاریخی الفاظ کہ ’’ہم ایک ہزار سال تک بھارت کے ساتھ جنگ جاری رکھیں گے‘‘آج بھی پاکستانیوں کے ذہنوں میں گونج رہے ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ اگر پاکستان کے حکمران ذوالفقار علی بھٹو کے ان الفاظ کی حقیقت کو سمجھ لیتے تو آج شاید بھارت پاکستان کے دریاؤں کا رُخ موڑنے کی جسارت نہ کرتا اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت نے جو بدترین ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم کررکھا ہے، بھارت کو اگر صحیح معنوں میں سبق سکھایا جاتا تو یقیناًآج کشمیر حقیقی معنوں میں آزاد ہو چکا ہوتا۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے 14 اگست 1947ء کو پاکستان تو حاصل کر لیا، لیکن اس وطن کی تعمیرو ترقی اور خوشحالی کے لئے جو کردار پاکستان کے سیاستدانوں، حکمرانوں اور عوام نے ادا کرنا تھا، 70 برس گزر جانے کے باوجود بھی، اس حوالے سے کوئی کامیابی حاصل نہیں کی گئی۔ آج ملک کو جن گھمبیر مسائل کا سامنا ہے۔ اگر بروقت ان کا ادراک کر لیا جاتا تو آج پاکستان بھی دنیا میں خوشحالی کی منازل طے کر رہا ہوتا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی کے شب و روز پر نظر ڈالیں تو جہاں ان کی شخصیت میں خامیاں نظر آتی ہیں، وہاں بہت سی خوبیاں بھی ہیں، بلکہ خوبیاں، خامیوں پرحاوی دکھائی دیتی ہیں۔

معاشرے کو برائیوں سے پاک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم دوسروں کی خوبیوں کو مد نظر رکھیں۔ ہر انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ ایسا ہی کچھ ذوالفقا رعلی بھٹو میں بھی تھا، لیکن انہوں نے قوم کو جو فکر دی، جو فلسفہ دیا بالخصوص غریبوں کو جینے کا جو حوصلہ اور ولولہ دیا، وہ کوئی دوسرا حکمران نہیں دے سکا۔ 1965ء کی جنگ میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر جب ذوالفقار علی بھٹو نے بھارت کو للکارتے ہوئے ببانگ دہل کہا تھا کہ’’ہم ایک ہزار سال تک بھارت سے جنگ جاری رکھیں گے‘‘ ۔۔۔اس وقت ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ اُنہوں نے جذبات میں آ کر ایک ایسی بات کہہ دی ہے جو تاریخ میں امر ہو جائے گی۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو کی آواز کی گھن گرج ہی تھی کہ پاکستان کی بہادر فوج اور قوم نے بھارت کو صرف سترہ دنوں میں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور پاکستان کا نام دنیا بھر میں سر بلند ہوگیا۔

1965ء کی جنگ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو صرف پاکستان میں ہی نہیں، بلکہ پاکستان کے باہر بھی اس قدر مقبول ہوگئے کہ جس کا تصور بھی ان دنوں ممکن نہیں تھا۔ بعد ازاں تاشقند معاہدہ ہوا تو ذوالفقار علی بھٹو کے لہجے اور تقریروں سے یہ صاف محسوس ہوتا تھا کہ وہ اس سے خوش نہیں ہیں۔ ان دنوں عام پاکستانیوں کا خیال تھا کہ پاکستان کی شہ رگ’’کشمیر‘‘ پر کوئی خفیہ معاہدہ ہو چکا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا کہنا تھا کہ1965ء کی جنگ ایک ایسا سنہری موقع تھا کہ جس سے فائدہ اٹھا کر کشمیر کے ایک بڑے حصے کو آزاد کرایا جاسکتا تھا، یہ وہ دن تھے جب پاکستان کے حالات تیزی سے بدل رہے تھے اور ذوالفقار علی بھٹو جو ایوب کابینہ میں وزیر خارجہ تھے، انہیں اللہ تعالیٰ نے جو قابلیت اور ذہانت عطا کی تھی، اس کی ایک معمولی سی جھلک اس دوران دیکھنے کو ملتی ہے ، جب اُنہوں نے ایوب خان کی حکومت کے خلاف عوام کی بڑھتی ہوئی نفرت کو تیزی سے بھانپا اور وزارت خارجہ کے عہدے سے استعفا دے دیا۔

ذوالفقار علی بھٹو اقتدار کے ایوان سے نکل کر جب عوام میں آئے تو قوم نے انہیں سر آنکھوں پر بٹھایا۔ وزارت خارجہ سے استعفا دینے کے بعد راولپنڈی ریلوے اسٹیشن پر ذوالفقار علی بھٹو لاہور جانے کے لئے پہنچے تو وہاں عوام کا جمِ غفیر تھا۔ یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح راولپنڈی سے لاہور تک پھیل گئی کہ ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی تمام پیشکشوں کو ٹھکرا کر بذریعہ ٹرین لاہور کے لئے روانہ ہوگئے ہیں۔ اگر اس وقت ذوالفقار علی بھٹو ایوبی آمریت سے خوفزدہ ہو جاتے تو شاید پیپلز پارٹی کبھی عوامی جماعت نہ بن پاتی۔ لاہور ریلوے اسٹیشن پر ہزاروں کی تعداد میں زندہ دلان لاہور نے پُرجوش نعروں سے ذوالفقار علی بھٹو کا زبردست استقبال کیا بعد ازاں لاہور سے لے کر لاڑکانہ تک ہر ریلوے اسٹیشن پر ذوالفقار علی بھٹو کا، عوام نے بڑے جوش و خروش سے استقبال کیا۔

30 نومبر 1967ء کو لاہور میں پیپلزپارٹی کا کنونشن ہوا۔ ایوب خان اور نواب آف کالاباغ کے خوف سے بڑے نامی گرامی سیاستدانوں نے اس کنونشن میں شرکت نہیں کی، لیکن چاروں صوبوں سے نوجوان سیاسی کارکن اور دانشور اس میں شریک ہوئے۔ یہ کنونشن ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں ان حالات میں منعقد ہوا جب حکومت کی طرف سے یہ دھمکی دی گئی تھی کہ اگر اس گھر میں کنونشن ہوا تو اسے آگ لگا دی جائے گی۔ اس کنونشن میں ملک بھر سے چھ سو کے قریب افراد نے شرکت کی تھی جس میں ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان پیپلزپارٹی کا متفقہ طور پر سربراہ منتخب کیا گیا۔

پاکستان پیپلزپارٹی کے قیام کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے پارٹی کو فعال اور منظم کرنے کے لئے اپنی سرگرمیاں شروع کیں تو حکومتی مشینری ان پر ٹوٹ پڑی اور گرفتاریوں اور سنگین مقدمات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ 7 نومبر 1968ء کو ذوالفقار علی بھٹو راولپنڈی پہنچے تو ان کی عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے راولپنڈی میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی لیکن عوام کے جوش و خروش کے سامنے تمام تر حکومتی پابندیاں اور رکاوٹیں عارضی ثابت ہوئیں اورلوگوں نے انٹرکانٹینینٹل ہوٹل پر، جہاں ذوالفقار علی بھٹو ٹھہرے ہوئے تھے، پیپلزپارٹی کا پرچم لہرا دیا، جس پر پولیس نے بغیر کسی وارننگ کے عوامی جوش و خروش پر بند باندھنے کے لئے گولی چلائی جس سے ایک طالب علم عبدالحمید جاں بحق ہوگیا، اس موقع پر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب ایوب خان اپنا اقتدار نہیں بچاسکے گا۔

حکومت چاہتی تھی کہ ہر صورت میں ذوالفقار علی بھٹو کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت کو کچل دیا جائے، ایسا تو ممکن نہ ہوا لیکن ذوالفقار علی بھٹو کو یہ طعنہ دیا جانے لگا کہ جس دن انہیں جیل کی سلاخوں میں ڈالا جائے گا، وہ ساری سیاست بھول کر ملک سے راہ فرار اختیار کر لیں گے۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ چونکہ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی زندگی شاہانہ ٹھاٹ باٹ سے گزاری تھی ، اس لئے وہ جیل کی سختیاں اور صعوبتیں برداشت نہیں کر پائیں گے لیکن ان کے ان خیالات کو تاریخ نے غلط ثابت کر دیا۔ ایوب خان نے جب پیپلزپارٹی کے مقابلے میں عوامی جلسے کرنے کا پروگرام بنایا تو 10 نومبر 1968ء کو پہلا جلسہ پشاور میں رکھا گیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ابھی ایوب خان نے صرف ایک جملہ ہی کہا تھا کہ ’’میں اب باہر نکل آیا ہوں اور اسے دیکھ لوں گا‘‘۔ تو جلسے کے چاروں طرف سے ایوب خان کے خلاف نعرے بازی شروع ہوگئی۔ ایک نوجوان نے اپنی پستول سے ایوب خان پر فائر بھی کردیا، ایوب خان تو محفوظ رہے، لیکن جلسہ اکھڑ چکا تھا، یہ خبر سنتے ہی ذوالفقار علی بھٹو کو یقین ہو گیا کہ اب انہیں ضرور گرفتار کر لیا جائے گا اور ایسا ہی ہوا۔ 13 نومبر 1968ء کو انہیں گرفتار کر لیا گیا، لیکن جیل کے اندر سے بھی ان کے بیانات اور پیغامات نے ملک بھر میں پیپلزپارٹی کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ کیا۔ وہ 2 ماہ 27 دن قید رہنے کے بعد 7 فروری 1969ء کو رہا ہوئے۔ ان کی رہائی پر ملک بھر میں زبردست جشن منایا گیا۔

ملک میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر پہلے عام انتخابات ہوئے، قومی اسمبلی کے انتخابات 7 دسمبر اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 17 دسمبر 1970 کو کرائے گئے، ان دنوں پیپلزپارٹی ایک نوزائیدہ سیاسی جماعت تھی لیکن اس کے باوجود قومی اسمبلی کی 313 نشستوں میں سے 169 نشستیں مشرقی پاکستان کی تھیں، جن میں سے 167 نشستیں عوامی لیگ نے حاصل کیں جبکہ مغربی پاکستان کی 144 نشستوں میں سے 88 نشستوں پر پیپلزپارٹی کامیاب ہوئی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں صوبہ سندھ اور پنجاب میں پیپلزپارٹی نے واضح اکثریت حاصل کی۔

قطع نظر اس بات کے کہ 1971ء کی جنگ میں پاکستان دو لخت ہوا تو اس میں قصور کس کا تھا؟ پاکستان کو دولخت کرنے میں کس نے کیا کردار ادا کیا؟ یہ ایک الگ موضوع ہے، سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے جب اقتدار سنبھالا تو عالمی طاقتوں نے پاکستان کی سیاسی اہمیت کو یہ کہہ کر کم کر دیا کہ پاکستان جغرافیائی وحدت سے محروم ہونے کے عمل سے گزر رہا ہے اور وہ اپنی سلامتی کو درپیش اس بحران پر قابو نہیں پا سکے گا لیکن ذوالفقار علی بھٹو نے مشکل کے اس دور میں جس دور اندیشی اور حکمت سے کام لیا، وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے، بالخصوص اس موقع پر جب شیخ مجیب نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان کے 195 جنگی قیدیوں پر مقدمات چلائیں گے، انہوں نے پاکستان کے چھ اعلیٰ جرنیلوں پر مقدمات چلا کر پھانسی دینے پر اصرار کیا، آزمائش کی اس گھڑی میں ذوالفقار علی بھٹو، شیخ مجیب کے مطالبے کے آگے نہیں جھکے، اور جس باوقار انداز میں اس مسئلے کو حل کیا، اس نے پاکستانیوں کا سردنیا میں فخر سے بلند کر دیا۔

ان کے اہم اور بڑے کارناموں میں 1973ء کے متفقہ آئین کی منظوری شامل ہے۔ ملک کے قیام کے 26 سال بعد پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت نے قوم کو ایک متفقہ آئین دیا، ان کا دوسرا کارنامہ جو انہیں روز قیامت اللہ تعالیٰ کی عدالت میں بھی سرخ رو کرے گا، وہ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینا ہے، خدا کی قسم ذوالفقار علی بھٹو کے علاوہ اس وقت ملک میں کسی اور کی حکومت ہوتی تو وہ ایسا عظیم کارنامہ شاید کبھی سرانجام نہ دے سکتی۔ انیسویں صدی کی ابتداء میں انگریز نے برصغیر میں اپنی حکومت کو دوام بخشنے کے لئے قادیانی فرقہ بنایا، یہ واحد فرقہ ہے جس نے مسلمانوں پر مسلمانیت کا لبادہ اوڑھ کر حملہ کیا اور جس قدر نقصان قادیانی فرقے نے اسلام کو پہنچایا ہے، اس قدر غیر مسلم بھی اسلام کو نہیں پہنچاسکے۔ بھٹو کا ایک اہم کارنامہ یہ بھی تھا کہ انہوں نے فروری 1974ء میں ملک میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد کی۔ ذوالفقار علی بھٹو چاہتے تھے کہ مسلمان ممالک اپنا ایک علیحدہ اسلامی بنک بنائیں۔ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے مالامال کرنے کیلئے ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرنے کی بنیاد بھی ذوالفقار علی بھٹو ہی نے رکھی تھی۔ 1974ء میں بھارت نے ایٹمی دھماکہ کیا تو اسی وقت ذوالفقار علی بھٹو نے سوچ لیا تھا کہ بھارت سمیت مغربی ممالک کا مقابلہ کرنے اور دنیا میں پاکستانیوں کا سربلند کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان ایٹمی صلاحیت سے مالا مال ہو۔

5 جولائی 1977ء کو جب ملک میں مارشل لاء نافذ کیا گیا تو اس وقت تک ذوالفقار علی بھٹو نے ملکی حالات اپنے حق میں کر لئے تھے، انہوں نے ملک کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مذاکرات کے نتیجے میں فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ قومی حکومت تشکیل دے کر معاملات کو سلجھانے میں کردار ادا کرنے کو تیار ہیں، لیکن انہیں اتنی مہلت ہی نہیں دی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے والی عدالت بھی پی سی او زدہ تھی، ایک ایسی عدالت سے انصاف کی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے جو بذات خود ’’غیر آئینی‘‘ ہو، یہی وجہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو ’’عدالتی قتل‘‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ بہرحال اس موضوع پر مزید تبصرہ نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ یہ آئینی ماہرین کا کام ہے۔ اب طویل عرصے بعد ملک کی عدالتیں حکومتی دباؤ سے آزاد ہوئی ہیں۔ امید کی جانی چاہئے کہ آئندہ کوئی طائع آزما قانون سے کھلواڑ نہیں کر سکے گا۔ بات ہو رہی تھی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی، انہیں جس خاموشی سے 3 اور 4 اپریل کی درمیانی رات پھانسی دی گئی اور بعد ازاں خاموشی سے نو ڈیرو میں سپردخاک کیا گیا، لیکن مرنے کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے جو شہرت حاصل کی، وہ اگر زندہ ہوتے تو شاید اس قدر مقبول نہ ہو پاتے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو امر کرنے میں جو کردار محترمہ بینظیر بھٹو نے ادا کیا اور پاکستان پیپلزپارٹی کو عوامی جماعت بنانے اور ذوالفقار علی بھٹو کے نام کو زندہ رکھنے کے لئے جو تاریخی جدوجہد کی، اس پر انہیں جتنا بھی خراج عقیدت پیش کیا جائے، کم ہے، اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔

محترمہ بینظیر بھٹو دو مرتبہ ملک کی وزیراعظم بھی منتخب ہوئیں، انہیں عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز بھی نصیب ہوا، یہ محترمہ بینظیر بھٹو کی شخصیت ہی تھی کہ وہ خود تو 27 دسمبر 2007ء کو لیاقت باغ راولپنڈی میں انتخابی مہم کے دوران خودکش حملے یا بم دھماکے میں شہید ہوگئیں۔ یہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی طویل جدوجہد ہی کا ثمر تھا کہ ان کی شہادت کے بعد ان کے شوہر اور سابق صدر پاکستانآصف علی زرداری نے نو ڈیرو میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بآواز بلند ’’پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اعلان کیا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے نام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج سے ان کے بڑے صاحبزادے بلاول زرداری کا نام بلاول بھٹو زرداری ہوگا۔ اسی طرح محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے دیگر بچوں کے ناموں کے ساتھ بھی ’’بھٹو‘‘ کا اضافہ کیا گیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی 1970ء کے انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ وفاق سمیت چاروں صوبوں میں اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔ صوبہ سندھ، بلوچستان اور گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کی اپنی حکومت بنی جبکہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں پیپلزپارٹی مخلوط حکومت میں شامل ہوئی اور صدر مملکت کے عہدہ پر بھی پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری منتخب ہوئے تھے۔ یہ ایک خوش آئند بات ہے کہ جمہوری حکومت نے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی۔

ذوالفقار علی بھٹو کو اس دنیا سے رخصت ہوئے کئی برس ہو چکے ہیں لیکن نوڈیرو میں ان کی آخری آرام گاہ پر آج بھی ایسے لگتا ہے کہ جیسے ذوالفقار علی بھٹو زندہ ہے۔ عوام کا ایک جم غفیر 24 گھنٹے ان کی قبر پر فاتحہ خوانی اور قرآن خوانی کرتا نظر آتا ہے، ہر سال 4 اپریل کو ملک بھر سے عوام کی ایک بہت بڑی تعداد نوڈیرو جمع ہوتی ہے اور اپنے قائد ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...