سیاسی مخالفین بھی بھٹو کے کارناموں کے معترف تھے

سیاسی مخالفین بھی بھٹو کے کارناموں کے معترف تھے

4اپریل 1979ء ....... پاکستانی تاریخ کا ایک ایسا دن ہے جس روز مملکت خداداد پاکستان کے منتخب وزیراعظم کو پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے اپنے ہی منتخب کردہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاء الحق نے پہلے 5 جولائی 1977ء کو ان کی حکومت کا تختہ الٹا اور پھر قصوری قتل کیس میں اعانت جرم کا ملزم ٹھہرا کر تختہ دار تک پہنچا دیا۔ ایک آمر نے منتخب حکومت کو اس وقت ختم کیا جب وزیراعظم بھٹو 1977ء کے انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کی بنیاد پر احتجاج کرنے والے پاکستان قومی اتحاد سے کامیاب مذاکرات کرچکے تھے اور اس سلسلے میں مفاہمت کی دستاویز پر دستخط کرنے ہی والے تھے۔ پاکستان میں عام آدمی کو شریک اقتدار ہونے کا شعور دینے والے قائد عوام 1971ء سے 1977ء تک سول چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر، صدر اور وزیراعظم کی حیثیت سے برسر اقتدار رہے۔ اس دوران انہوں نے کئی کارہائے نمایاں سرانجام دئیے۔ ان کے دور حکومت پر ناقدین نے کئی اعتراضات بھی اٹھائے لیکن مجموعی طور پر بھٹو دور کو جمہوری اعتبار سے ایک اچھا عہد حکومت تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس دور کے کئی کارناموں کو تاریخ پاکستان میں سنہرے حروف میں رقم کیا گیا ہے۔ جس کا اعتراف ان کے سیاسی مخالفین بھی برملا کرتے رہے اور آج بھی کر رہے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام زیڈ اے بھٹو کی عظیم خدمات کا مظہر ہے۔ صحیح معنوں میں غریبوں کو ایک باقاعدہ پلیٹ فارم مہیا کرنا واقعی ایک بڑا کارنامہ ہے۔ جس کے ذریعے گلی محلے میں رہنے والے محنت کش کو بھی زبان مل گئی۔ روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ بڑا خوشنما، دلچسپ ، پُرکشش اور دلنشیں تھا، یہ الگ بحث ہے کہ یہ نعرہ حقیقت کا روپ دھار سکا یا نہیں، لیکن اس امر میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی کی شکل میں اس وقت کے بے کس، نادار اور لاوارث کو ایک بڑا سہارا مل گیا تھا لیکن 4 اپریل 1979ء کو اس پارٹی کے بانی کو سروار چڑھا دیا گیا۔

جہاں تک پاکستان پیپلز پارٹی کا تعلق ہے کہ بھٹو کے بعد اس کی کیا صورتحال رہی اور اپنے مرحوم بانی کے بعد اس میں کیا کیا تبدیلی یا بہتری آئی تو یہ ہر باشعور پاکستانی پر عیاں ہے۔ آج کل ایک سوال جو ہر سطح پر کیا جا رہا ہے کہ کیا آصف علی زرداری بھٹو سیاسی جانشین کے طور پر بہتر چوائس ہیں یا نہیں اس کا جواب بھی زیادہ مشکل نہیں ہے۔ سیاسی بصیرت رکھنے والے اس سے بخوبی آگاہ ہیں اور موجودہ حکومت کے آخری ایام میں پاکستان پیپلز پارٹی کے موجودہ قیادت جس انداز میں سرگرم ہوئی ہے اور نواز شریف حکومت کے ساتھ کئی سالوں سے چلی آنے والی خفیہ اور اعلانیہ مفاہمت اچانک ہی مخالفت میں جس طرح تبدیل ہوئی ہے اس تناظر میں یہ سمجھنا بڑا آسان ہے کہ بھٹو دور کی پیپلز پارٹی اور آج کی پیپلز پارٹی میں کتنا فرق ہے۔اب تو پارٹی اس اعتبار سے بھی بانجھ ہو گئی ہے کہ نئے جیالے پیدا ہونے بند ہو گئے محض بچے کھچے جیالوں سے ہی کام چلایا جارہا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو آمر کے سامنے جس جرات اور بے باکی سے ڈٹ گئے اس کی مثال بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔ جھکنا تو انہوں نے سیکھا ہی نہیں تھا آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جس بہادری سے تختہ دار تک گئے وہ بھی قابلِ تحسین ہے۔ اڈیالہ جیل میں سوئے دار چڑھانے سے قبل اپنے آخری ایام کی جو کہانی قلم بند کی اس میں بھی آمر اور آمریت کو واضح اور دو ٹوک الفاظ میں للکارا۔ ’’اگر مجھے قتل کیا گیا‘‘ (If i am assacinated) میں اپنے اُوپر ڈھائے جانے والے مظالم کا جو نوحہ لکھا وہ بھی ہماری سیاست کا ایک اہم باب ہے۔ اگرچہ فوری طور پر پاکستان میں اس کتاب کی اشاعت ممکن نہ ہوسکی اور بعض بھٹو لور دانشوروں نے بھٹو کی اس تحریر کی اندرون اور بیرونِ ملک فوٹو کاپیز کا بندوبست کرکے قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی لیکن بھٹو کا وہ پیغام اس انداز میں عام نہ ہو سکا جس کی پاکستان کی سیاسی تاریخ کو ضرورت تھی۔ 336صفحات پر مشتمل اس کتاب کو بھٹو لیگیسی فاؤنڈیشن 119طارق بلاک نیو گارڈن ٹاؤن سے کم و بیش 35 قبل شائع کیا گیا جس کا مقصد دراصل اس وائٹ پیپر کا جواب دینا تھا جو جنرل ضیاء الحق کی فوجی حکومت نے ذوالفقار علی بھٹو اور اس کے دور حکومت کے بارے میں جاری کیا تھا۔ وائٹ پیپر کا ایک مقصد بھٹو مرحوم کی ساکھ کو ہر پہلو سے تباہ اور برباد کرنا بھی تھا۔جنرل ضیا کے وائٹ پیپر کا بنیادی مقصد یہی محسوس کیا گیا تھا کہ جب عدالت کے ذریعے بھٹو کو سزا سنائی جائے تو بھٹو کا تشخص اتنا مجروح کر دیا جائے کہ سزا کے فیصلے پر عمل میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔تب کے مبصرین اس بات پر واضح تھے کہ جنرل ضیا اور ان کے ساتھی بھٹو سے انتہائی خوفزدہ تھے اور محسوس کرتے تھے کہ بھٹو ان کی زندگیوں کے لیے ایک ایسا خطرہ ہے، جسے جلد از جلد ختم کر دیا جانا چاہیے۔اس حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شاید بھٹو بھی اس بات کو محسوس کر چکے تھے پھر بھی انھوں اپنے دشمنوں کے اس خوف کو دور کرنے کی حکمت عملی اپنانے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کی اور اپنے خلاف مقدمے کے سیاسی پہلو ؤں پر زیادہ زور دیا اوریوں عدلیہ میں موجود اپنے مخالفوں کا کام آسان کر دیا۔یہ بھی بڑا اہم پہلو ہے کہ جنرل ضیا اور ان کے ساتھیوں سے بہتر کوئی بھی نہیں جانتا تھا کہ نہ تو انتخابات میں بڑی دھاندلی ہوئی ہے اور نہ ہی بھٹو کی مقبولیت میں غیر معمولی کمی آئی ہے ضیاالحق کے حواریوں کی جانب سے ضخیم وائٹ پیپر اسی لیے جاری کیا گیا تھا۔

بھٹو راولپنڈی جیل میں تھے اور وائٹ پیپر یا قرطاسِ ابیض کا جواب وہیں سے لکھ لکھ کر وکلا کے ذریعے بھیجتے تھے۔ اس طرح ایک دستاویز تیار ہوگئی جسے سپریم کورٹ میں بھی پیش کیا گیا لیکن فوجی حکومت نے پاکستان میں اْس کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی۔لاہور کے جس پریس نے اس دستاویز کو چھاپنے کی کوشش کی اْس پر چھاپہ پڑا، تمام کاپیاں ضبط کر لی گئیں اور روزنامہ مساوات کے خواجہ نذیر اور ممتاز صحافی سید عباس اطہر(اب مرحوم) کو ملک سے فرار ہونا پڑا۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...