ذو الفقار علی بھٹو کی زندگی کے آخری ایام !

ذو الفقار علی بھٹو کی زندگی کے آخری ایام !

مرزا نعیم الرحمان

مجید احمد قریشی سابق اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ اڈیالہ جیل کی گئی گفتگو پر مبنی خصوصی رپورٹ

ذوالفقار علی بھٹو نے جیل میں ابتدائی ایام بڑی اضطرابی میں گزارے مگر بعد ازاں انہوں نے حالات سے سمجھوتا کر لیا ذوالفقار علی بھٹو جیل میں گزارے ہوئے 323دنوں میں صرف دو مرتبہ سخت طیش میں آئے پہلی مرتبہ جب انہیں عام وین میں جیل لایا گیا دوسری مرتبہ جب پنکی (بینظیر بھٹو) طے شدہ وقت پر ملاقات کے لیے نہ پہنچیں بینظیر بھٹو ہفتے میں ایک بار اپنے پاپا ذوالفقار علی بھٹو سے ملنے کے لیے جیل پہنچتیں اور ان کی علیحدگی میں ایک گھنٹہ ملاقات ہوتی اس دوران کسی بھی شخص حتیٰ کہ مشقتی کو بھی ان کے قریب جانے کی اجازت نہ تھی بینظیر بھٹو ملاقات کے دوران اپنے ہاتھوں سے پاپا کے لیے کافی بناتیں اور گھر سے لایا ہوا کھانا گرم کر کے انہیں کھلاتیں تھیں ذو الفقار علی بھٹو اس وقت انتہائی خوش و خرم ہوتے جب انکا پسندیدہ سالن جس میں مٹر قیمہ اور پھلیاں شامل تھیں پک کر آتا تھا اس دن وہ ایک سے زائد روٹی کھاتے تھے ویسے معمول کے مطابق وہ صبح ہلکا سا ناشتہ کرتے دوپہر کو ایک روٹی کھاتے اور شام کو دودھ کا ایک گلاس پیا کرتے تھے ایک گھنٹے کے لیے جیل حکام انہیں چہل قدمی کی اجازت دیتے مگر اکثر اوقات وہ قانون کی کتابوں میں کھوئے رہتے جس دن پنکی کی ملاقات کا دن ہوتا تھا اس دن وہ علی الصبح اٹھ جاتے نہا دھو کر نیلا سوٹ پہن کو برآمدے میں پنکی کا انتظار کرتے ایک مرتبہ کراچی سے اسلام آباد آنے والی فلائٹ لیٹ ہو گئی اور پنکی مقررہ وقت پر ملاقات کے لیے نہ پہنچی تو انہوں نے جیل حکام اور بعض فوجی حکام کو باآواز بلند انگلش میں برا بھلا کہنا شروع کر دیا انکا غصہ عروج پر پہنچ گیا اور انگلش میں یہ کہتے رہے کہ جس شخص نے بھی میرے اور پنکی کے درمیان دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کی میں اسے تہس نہس کر دوں گا اور غصے میں زور زور سے پاؤں کو پٹختے رہے جیل حکام نے ذوالفقار علی بھٹو کے سیل کے انچارج مجید احمد قریشی جو اس وقت اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ جیل کے عہدے پر فائز تھے کو بلایا اور کہا کہ صاحب کو سمجھاؤ مجید احمد قریشی ذوالفقار علی بھٹو جو اردو کی بجائے انگلش میں بات کرنا زیادہ پسند کرتے تھے سے انہوں نے انگلش میں کہا کہ چیئرمین صاحب کسی نے آپ کی ملاقات پر پابندی عائد نہیں کی محترمہ بینظیر بھٹو جلد آ جائیں گی مگر ان کی دیری کا ہمیں بھی علم نہیں اسی دوران محترمہ بینظیر بھٹو جیل پہنچ گئیں تو اس کی اطلاع ذوالفقار علی بھٹو کو دی گئی جن کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا مجید احمد قریشی فوری طور پر گیٹ کے قریب پہنچے اور بینظیر بھٹو کو بتایا کہ آپ کے لیٹ ہونے کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو سخت غصے میں ہیں تو محترمہ بینظیر بھٹو مسکرا دیں اور کہا وہ حالات کو کنٹرول کر لیں گی۔

بینظیر بھٹو اپنے پاپا ذوالفقار علی بھٹو کے پاس پہنچیں تو انہوں نے فرط جذبات سے انہیں گلے لگا لیا اور کہا کہ پنکی ان کے ساتھ جو ظلم و ستم ہو رہا ہے اسکا حساب تو حکمرانوں کو دینا پڑے گا مگر اگر کسی نے میرے اور تمہارے درمیان دیوار کھڑی کرنے کی کوشش کی تو اسکا خمیازہ وہ ضرور بھگتے گا محترمہ بینظیر بھٹو جیل کا مرکزی دروازہ عبور کرتے ہی زور سے ایک فقرہ کہا کرتی تھیں ہیلو پاپا میں آ گئی ہوں بھٹوصاحب اگر اس وقت آرام بھی کر رہے ہوتے تو محترمہ کی آواز سن کر اٹھ جاتے انکا چہرہ خوشی سے کھل اٹھتا بینظیر بھٹو نے اپنے لیٹ ہونے کی وجہ سے پاپا کو آگاہ کیا اور بتایا کہ فلائٹ لیٹ ہو گئی تھی آپ جیل حکام پر کیوں غصہ نکال رہے ہیں محترمہ اپنے ہاتھوں سے کھانا پکا کر لاتیں اور ملاقات کے دوران وہ مختلف امور کے علاوہ پیدا ہونے والے حالات کے بارے میں تبادلہ خیال کرتیں ذوالفقار علی بھٹو انہیں بعض معاملات پر ہدایات دیتے اور پیدا ہونے والے حالات کے بارے میں عوام کا رد عمل بھی معلوم کرتے ذوالفقار علی بھٹو کو فروٹ میں سیب اور انگور بہت پسند تھے بڑے پیمانے پر ان کے لیے کھانا لایا جاتا باقی کھانا ان کے سیل پر تعینات جیل ملازمین اور مشقتی وغیرہ کو بھی دیا جاتا بلکہ بعض اوقات کھانا اس قدر زیادہ ہوتا کہ جیل کا پورا عملہ محترمہ بینظیر بھٹو کے ہاتھوں سے پکا ہوا کھانا کھاتا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ذو الفقار علی بھٹو کے وکلا پر ان سے ملاقات پر کوئی پابندی عائد نہیں تھی ان کا جب جی چاہتا تھا ملاقات کے لیے آ جاتے ذو الفقار علی بھٹو جو لا گریجویٹ تھے اکثر اوقات مختلف نوٹس بنا کر اپنے وکلا یحییٰ بختیار ‘ حفیظ پیرزادہ اور دوست محمد اعوان کو دیتے۔ بھٹو صاحب انتہائی ذہین انسان تھے قانون کی کتابیں انہیں ازبر تھیں ذو الفقار علی بھٹو پر کوٹھری سے نکلنے پر کوئی پابندی نہیں تھی وہ سہ پہر کو ٹہلنے کے لیے نکلتے شام ہوتے ہی سیل میں چلے جاتے اکثر اوقات وہ اپنے وکلا ‘ محترمہ بینظیر بھٹو اور جیل حکام کو کہتے کہ ان کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت نہیں وہ بہت جلد رہا ہو جائیں گے اور جمہوریت کی بساط لپیٹنے والے اسی سیل میں پہنچ جائیں گے ذوالفقار علی بھٹو نے 323دن میں اپنی صرف ایک سالگرہ منائی جس روز ذو الفقار علی بھٹو کی سالگرہ تھی اس دن پوری جیل کو دولہن کی طرح سجا دیا گیا تمام سجاوٹی سامان محترمہ بینظیر بھٹو کئی یوم پہلے اپنے ہمراہ لیکر آ ئیں جنہیں ان کے مشقتی عبد الرحمان نے اپنے ہاتھوں سے سجایا اس موقع پر بینظیر بھٹو‘ بیگم نصرت بھٹو اور ان کے وکلا کے علاوہ تمام جیل کے عملے کو بھی مدعو کیا گیا جب ذو الفقار علی بھٹو نے سالگرہ کا کیک کاٹا تو اس موقع پر موجود تمام افراد نے کورس کے انداز میں ’’ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ‘‘ گایا کورس کے انداز میں گائے جانے والے ان فقروں کو سن کر جیل میں قید دیگر قیدیوں نے بھی اپنی اپنی بارکوں میں باآواز بلند ہیپی برتھ ڈے ٹو یو گانا شروع کر دیا جو کافی دیر تک گایا جاتا رہا۔

ذو الفقار علی بھٹو کی پہلی بیگم ‘ امیر بیگم‘ عاشق بھٹو اور ممتاز بھٹو نے 323دنوں میں چند ملاقاتیں کیں ان کی پہلی بیگم امیر بیگم نے انہیں ملاقات میں پڑھنے کے ایک خوبصورت تسبیح دی جنہیں انہوں نے مالا سمجھ کر گلے میں ڈال لیا اور یہ تسبیح ان کے گلے میں تقریبا 300دن تک رہی سزائے موت سے قبل اس تسبیح کو ان کے گلے سے اتا ر لیا گیا ۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کے بعد انہوں نے شیو کرنا بھی چھوڑ دی وگرنہ وہ 313دن صبح سویرے اٹھتے ہی سب سے پہلے شیو کرتے نہاتے ‘ پینٹ کوٹ پہن کر بیٹھ جاتے یا مطالعہ شروع کر دیتے شیو چھوڑنے کی وجہ سے انکی براؤن داڑھی نکل آ ئی جس میں وہ انتہائی خوبصورت نظر آنے لگے بھٹو کے وکلانے ملاقات کے دوران انہیں کہا کہ چیئرمین صاحب صدر ضیاء الحق سے رحم کی اپیل کر دیں مگر یہ فقرہ سنتے ہی وہ انتہائی غصے میں آ گئے اور کہا کہ جس شخص نے انہیں اس مقام تک پہنچایا ہے وہ اس سے رحم کی بھیک نہیں مانگیں گے وہ میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا اسلامی ممالک انہیں جلد آزاد کرا لیں گے سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل خارج ہونے اور صدر پاکستان سے رحم کی اپیل نہ کرنے کے باوجود انہیں قوی امید تھی کہ وہ آزاد ہو جائیں گے اور ملک کے ایک منتخب وزیر اعظم کو پھانسی نہیں دی جائے گی اور نہ ہی ماضی میں کوئی ایسی مثال موجود ہے سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل خارج ہونے کے فوری بعد محترمہ بینظیر بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو کو واپڈا ریسٹ ہاؤس سہالہ میں نظر بند کر دیا گیا جبکہ پھانسی سے قبل آخری ملاقات کے لیے دونوں ماں بیٹی کو اکٹھے ملاقات کے لیے لایا گیا تو بھٹو صاحب یہ دیکھ کر ششدر رہ گئے کہ آج ماں بیٹی کو اکٹھے کیوں ملاقات کے لیے لایا گیا ہے بلکہ ان پر یہ خوف بھی طاری ہو گیا کہ ان کی آخری ملاقات کرائی جا رہی ہے اب وقت کے حکمران کوئی بھی فیصلہ کر سکتے ہیں اپیل خارج ہونے کے فوری بعد ذوالفقار علی بھٹو سے بی کلاس کی سہولت واپس لے لی گئی ان کے سیل سے کرسی ‘ میز ‘ اور پلنگ وغیرہ اٹھا لیے گئے وہ دس یوم تک فرش پر سوتے رہے نگرانی پر معمور مجید احمد قریشی سے انہوں نے یہ سوال کیا کہ کیا انکی پنکی اور نصرت بھٹو سے یہ ان کی آخری ملاقات کرائی جا رہی ہے تو مجید احمد قریشی نے انہیں بتایا کہ جی ہا ں چیئرمین صاحب آ پ کے ڈیتھ وارنٹ جاری ہو چکے ہیں یہ آ پ کی آخری ملاقات ہے آپ کے وکلا نے آپ کی سختی سے کی جانے والی ہدایت کے باوجود صدر ضیاء الحق سے رحم کی اپیل کر دی گئی مگر انہوں نے بھی اس رحم کی اپیل کو مسترد کر دیا ہے صبح آپ کو پھانسی دے دی جائے گی یہ فقرے ادا کرنے کی دیر تھی کہ پنکی اور بیگم نصرت بھٹو نے دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیا انکے رونے کی آواز سے پوری جیل گونج اٹھی اس وقت ڈسٹرکٹ جیل راولپنڈی میں تقریبا 80موت کے قیدیوں سمیت 12سو قیدی اور حوالاتی موجود تھے ماں بیٹی کے رونے کے اس منظر کو دیکھ کر موقع پر موجود عبد الرحمان مشقتی ‘ مجید احمد قریشی اور دیگر عملے کے بھی آنسو نکل آئے، جیل میں موجود قیدیوں کو یہ علم ہو گیا تھا کہ جیل میں لایا جانے والا مہمان جو اس ملک کا منتخب وزیر اعظم ہے کی آخری ملاقات کرائی جا رہی ہے ۔ ذو الفقار علی بھٹو بھی اس منظر کو برداشت نہ کر سکے اور جیل کی دیواروں سے اپنا سر پٹخنے لگے محترمہ بینظیر بھٹو، مجید احمد قریشی کی منت سماجت کرنے لگیں ان کے سامنے انہوں نے ہاتھ باندھ دیے کہ خدا کے واسطے آج ان کا جنگلا کھول دو انہیں پاپا کو سینے سے لگا لینے دو مگر یہ جیل قوانین کے خلاف تھا محترمہ بینظیر بھٹو اپنے والد کا ہاتھ جو انہو ں نے جنگلے سے باہر پیار دینے کے لیے نکالا تھا کو پکڑ کر چومتی رہیں جب کہ بیگم نصرت بھٹو بار بار بے ہوش ہو جاتیں جنہیں پانی پلا کر ہوش میں لایا جاتا، جیل حکام کو سختی سے اس امر کی ہدایت تھی کہ وہ احکامات کی خلاف ورزی ہرگز نہ کریں وگرنہ انہیں بھی اسکا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ملاقات کا وقت ختم ہوتے ہی مجید احمد قریشی نے انہیں کہا کہ محترمہ اب آپ کی ملاقات کا وقت ختم ہو گیا ہے اور انہیں ایک منٹ بھی زائد نہیں دیا جا سکتا لہٰذا زبردستی کیے بغیر وہ خود ہی جیل سے باہر نکل جائیں باپ ‘ بیٹی اور اہلیہ کی جدائی کا وقت دیدنی تھا محترمہ بینظیر بھٹو ‘ بیگم نصرت بھٹو ‘ کو زبردستی پکڑ کر جیل حکام نے مرکزی دروازے کی طرف لے جانا شروع کیا تو وہ دونوں ماں بیٹی پیچھے مڑ مڑ کر دیکھ رہی تھیں ان کے قدم انکا ساتھ نہیں دے رہے تھے انہیں گھسیٹ کر مرکزی دروازے تک پہنچایا گیا تو اچانک محترمہ بینظیر بھٹو جیل حکام سے اپنا ہاتھ چھڑا کر ان کے حصار کو توڑتی اور بھاگتی ہوئی ذو الفقار علی بھٹو کے سیل تک پھر پہنچ گئیں اور دیوانہ وار لوہے کے جنگلے کو چومنے لگیں جیل حکام ان کے پیچھے بھاگے اور محترمہ بینظیر کو دوبارہ پکڑ لیا تو انہوں نے مضبوطی سے لوہے کے جنگلے کو پکڑ لیا ذو الفقار علی بھٹو اس موقع پر انتہائی غصے میں یہ کہتے رہے کہ خبردار کسی نے پنکی کو ہاتھ لگایا یا ان پر تشدد کیا اگر یہ انکی آخری ملاقات ہے تو یہ ادھوری ملاقات کیوں ہے جب تک ان کی بیٹی اور اہلیہ خود جیل سے باہر نہیں جاتیں انہیں ہرگز جیل سے باہر نہ نکالا جائے مگر ان کے احکامات اور مطالبات بالکل بے معنی تھے ان کی کوئی اہمیت نہ تھی اور ماں بیٹی کو زبردستی جیل سے باہر نکال دیا گیا ۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

جیل میں موجود قیدی ساری رات سو نہ سکے اور مختلف بیرکوں سے کبھی رونے کبھی درود شریف اور کبھی نعتوں کی آواز آتی رہی پھانسی کی رات زبردست بارش ہوئی اور جیل میں جگہ جگہ پانی کھڑا ہو گیا پھانسی سے قبل ذو الفقار علی بھٹو کے گلے کی پیمائش کی گئی ڈاکٹر نے انکا طبی معائنہ اور رپورٹس مرتب کیں پھانسی کی رات ذو الفقار علی بھٹو نے دس روز سے بڑھی ہوئی داڑھی کی شیو کی نہا دھو کر کریم کلر کی شلوار پہنی اور سونے کی بجائے کوٹھڑی میں بیٹھ کر نوٹس لکھتے رہے رات گیارہ بجے مجید احمد قریشی نے موت کی کوٹھڑی کا دروازہ کھولاتو ذو الفقار علی بھٹو انتہائی غمزدہ اور غصے میں دکھائی دے رہے تھے اچانک کھل کھلا کر ہنس دیے اور کہا میں نہیں کہتا تھا کہ مجھے پھانسی نہیں دے سکتے تم میرے لیے کوئی خوشخبری لائے ہو مگر مجید احمد قریشی نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہاکہ نہیں چیئرمین صاحب آپ کے لیے کوئی خوشخبری نہیں لگتا ہے اس عارضی دنیا میں آپ کا وقت ختم ہو چکا ہے آپ اٹھیں پھانسی کے لیے تیار ہو جائیں۔

اسلامی دنیا کے لیڈر منتخب وزیراعظم ذو الفقار علی بھٹو کو پھانسی دینے کے لیے تارا مسیح کو بلایا گیا تھا جو اس امر سے بالکل بے خبر تھا کہ آج اس نے ملک کے معزول وزیراعظم کو پھانسی دینی ہے، وہ اپنے کمرے میں نیند پوری کر رہا تھا اسے یہ جاننے سے کوئی غرض نہ تھی کہ اس کے ہاتھوں سے کس بندے کی جان جائے گی اس رات جیل میں غیر معمولی حفاظتی اقدامات کر لیے گئے تھے جیل کی درو دیواروں پر طیارہ شکن توپیں نصب کر دی گئیں رات ایک بجے کے قریب جب جیل کا عملہ انہیں پھانسی گھاٹ لے جانے کے لیے ان کے سیل کے قریب پہنچا تو ذو الفقار علی بھٹو نے بھاری تعداد میں لکھے جانے والے نوٹس کو جلا دیا، جلانے کے لیے ماچس کی ڈبی ان کے مشقتی عبدالرحمان نے انہیں دی ذوالفقار علی بھٹو نے پھانسی سے قبل اپنی نہایت قیمتی رولیکس گھڑی جو انہیں شاہ فیصل نے اپنی کلائی سے اتار کر اسلامی سربراہی کانفرنس کے انعقاد پر تحفہ میں دی تھی اسے اپنے مشقتی عبد الرحمان کو دے دی مجید احمد قریشی جیل عملہ کے ہمراہ جب انہیں ان کے سیل سے نکالنے کے لیے پہنچے تو ذو الفقار علی بھٹو فرش پر لیٹ گئے اور کہا کہ میں ہرگز نہیں جاؤں گا انگریزی میں ایک فقرہ بار بار دوہرانے لگے کہ انہیں مقابلہ کر کے لے جانا ہو گاجب یہ صورتحال جیل حکام نے دیکھی تو پریشان ہو گئے اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ انہیں زبردستی لے جایا جائے، اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک اسٹریچر منگوا لیا مجید احمد قریشی نے نہ چاہتے ہوئے بھی جیل ملازمین کے ساتھ مل کر ان کے ہاتھ پشت پر مضبوطی کے ساتھ باندھ دیے اس دوران ذوالفقار علی بھٹو شدید مزاحمت کرتے رہے انہیں اسٹریچر پر ڈال کر جب پھانسی گھاٹ پر لے جایا جانے لگا تو انہوں نے مزاحمت اچانک بند کر دی اور زارو قطار باآواز بلند رونا شروع کر دیا اور انگریزی میں کہا کہ ان کے بعد نصرت اور پنکی اکیلی رہ جائیں گی پھانسی گھاٹ پر جب انہیں اسٹریچر سے اتارا گیا تو خلاف توقع وہ کھڑے ہو گئے اور خود چل کر موت کے کنویں کے اوپر مخصوص دائرے پر کھڑے ہو گئے مجید احمد قریشی نے ذو الفقار علی بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چیئرمین صاحب پھانسی کے پھندے کو چوم کر گلے میں ڈال لیں بزدلی نہ دکھائیں اور موت کو سینے سے لگا لیں خلاف معمول انہیں کریم کلر کی شلوار قمیض بھی نہ اتارنے دی گئی ایسا لگتا تھا جیسے اس وقت کے حکمرانوں کو انہیں پھانسی دینے کی جلدی ہے اور جلد از جلد وہ دنیا کی ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے بے چین ہیں۔

پھانسی کے تختے پر کھڑا ہونے کے بعد ان کے دونوں پاؤں رسی کے ساتھ مضبوطی سے باندھ دیئے گئے اس موقع پر ذو الفقارعلی بھٹو نے جو آخری فقرے کہے تھے وہ یہ تھے کہ ان کے چہرے سے کالا نقاب ہٹا دیا جائے مگر ایسا ممکن نہ تھا پھانسی گھاٹ پر ذو الفقار علی بھٹو کی نظر قریبی تابوت اور کفن پر پڑی تو انہیں یہ یقین ہو گیا کہ اب ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں اور جو کچھ ان کے ساتھ کیا جا رہا ہے وہ حقیقت ہے اس وقت کے جیل کے قوانین کے برعکس ذوالفقار علی بھٹو کو رات دو بجے پھانسی پر لٹکا دیا گیا پھانسی کے عمل کے موقع پر ڈاکٹر محمد اصغر‘ آئی جی جیل خانہ جات چوہدری نذیر احمد اختر ‘ سپرٹینڈنٹ جیل چوہدری یار محمد دویانہ ‘ خواجہ غلام رسول ڈپٹی سپرٹینڈنٹ ‘ مجید احمد قریشی، کاظم بلوچ‘ چوہدری عارف ‘ ہیڈ وارڈن‘ اور آرمی کی طرف سے کرنل رفیع بھی موجود تھے ذوالفقار علی بھٹو کا جسم تین منٹ تک پھانسی گھاٹ میں پھڑکتا رہا اور جلد ہی ان کی روح پرواز کر گئی مگر جیل قوانین کے مطابق نصف گھنٹے تک ان کی نعش رسے سے جھولتی رہی نصف گھنٹے بعد ڈاکٹر محمد اصغر کنویں میں اترے اور ان کی نبض چیک کرنے کے بعد موت کی تصدیق کا فارم پر کرنے کے بعد چلے گئے ۔

جیل حکام نے انہیں جیل میں ہی غسل دینے کا اہتمام کر رکھا تھا ان کی نعش کو حافظ محمد حیات نے غسل دیا اور کفن پہنا کر تابوت میں رکھ دیا فوجی حکام تابوت لے کر چکلالہ ائیر بیس روانہ ہو گئے نیلا دھاری دار سوٹ پہن کر 323دن قبل جیل کے مرکزی دروازے سے داخل ہو کر آنے والا مہمان سفید کفن پہنے جیل سے رخصت ہو رہا تھا ان کی 323دن مسلسل نگرانی کرنے والے اسسٹنٹ سپرٹینڈنٹ جیل مجید احمد قریشی بھٹو صاحب کا سامان جس میں ان کی شادی کی انگوٹھی ‘ گلے میں ڈالی ہوئی تسبیح ‘ قران پاک ‘ جائے نماز‘ کراکری ‘ شلوار قمیض ‘ اور پشاوری چپل شامل تھی لیکر واپڈا ریسٹ ہاؤس سہالہ پہنچے تو وہاں نظر بند بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو نے ان کے ہاتھ میں بھٹو کا سامان دیکھ کر دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیا بینظیر بھٹو نے مجید قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاپا کو رخصت کر آئے ، کیا میرے پاپا نے حوصلہ کے ساتھ پھانسی کے پھندے کو چوما رو رو کر دونوں ماں بیٹی کی ہچکیاں بندھ گئیں بینظیر بھٹو اپنے پاپا کی نشانیاں دیکھ کر انہیں دیوانہ وار چومتی اور روتی رہیں دونوں ماں بیٹی دو گھنٹے تک ان سے بھٹو کے آخری لمحات کے بارے میں پوچھتی رہیں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ذو الفقار علی بھٹو نے پھانسی کی رات مجید احمد قریشی کو اپنا ایک خوبصورت رومال جو انہیں ان کی پہلی بیگم امیر بیگم نے دیا تھا اور جس پر خوبصورتی کے ساتھ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کڑھائی کرتے ہوئے لفظ بی کنندہ کیا ہوا تھا دیا جو ابھی بھی ان کے پاس محفوظ ہے ۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...