حماس کا اخوان المسلمون سے اظہار لاتعلقی ، دہشت گردقرار دیدیا

حماس کا اخوان المسلمون سے اظہار لاتعلقی ، دہشت گردقرار دیدیا

رام اللہ(این این آئی)فلسطین کی منظم مزاحمتی، عسکری اور سیاسی جماعت اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے اپنی تشکیل کے 30 سالہ سفر کے بعد اپنے منشور میں جوہری تبدیلیوں کے ایک نئے موڑ میں داخل ہو رہی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق حماس کے منشور میں متوقع تبدیلیوں کے پیچھے فلسطین کی موجودہ صورت حال، علاقائی اور عالمی سطح پر تبدیلیوں کا غیرمعمولی عمل دخل ہے۔ بدلتے حالات کے تقاضوں کے پیش نظر حماس اپنے منشور میں اہم تبدیلیوں کی طرف بڑھ ہی ہے۔ حماس کے ذمہ داران کی طرف سے نئے ترمیمی منشور کی باتیں اس وقت سے جاری ہیں جب حماس کے سیاسی شعبے کے موجودہ سربراہ خالد مشعل نے غزہ سے تعلق رکھنے والے یحییٰ السنوار کو اہم ترین عہدے پر فائز کیا ہے۔گذشتہ ماہ حماس کے ایک سینیر رہ نما احمد یوسف کا اخبارات میں ایک مضمون شائع ہوا۔ اس مضمون میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’حماس اپنے نئے منشور میں غیر قابض یہودیوں کو دشمن کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ کررہی ہے۔ نئے منشور میں یہ واضح کیا جائے گا کہ ہماری جدو جہد اس قابض دشمن کے خلاف ہے جس نے فلسطین پر ناجائز تسلط قائم کررکھا ہے نہ کہ تمام یہودیوں کے ساتھ جو دوسرے ملکوں میں آباد ہیں اور صہیونی ریاست کی پالیسیوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ حماس مذہبی بنیاد پر کسی ملک یا گروہ کے ساتھ دشمنی کا رویہ نہیں اپنائے گی بلکہ ایک قابض اور غاصب قوم کے خلاف مزاحمت کو اپنا شعار بنائے گی۔ حماس بیرون ملک ان یہودیوں کو کسی صورت میں دشمن باور نہیں کرے گی اسرائیلی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتے۔حماس کے متوقع منشور میں اس بات کی جانب کوئی اشارہ نہیں ہوگا کہ حماس کا اخوان المسلمون کے ساتھ کوئی ناطہ ہے یا نہیں۔ حماس کے ساتھ ناطہ قائم رکھنا یا توڑنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ حماس خود کو فلسطین کی قومی تحریکوں کا حصہ جتلاتی ہے۔ اگر حماس اپنے منشور میں مصر سمیت دوسرے عرب ممالک کے اندرونی امور میں عدم مداخلت کا عہد کرتی ہے تو یہ حماس کی فکری تبدیلی کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے۔نئی دستاویز میں حماس نے واضح کیا ہے کہ اس کی تمام تر جدو جہد کا ہدف قابض اسرائیلی دشمن ہے۔ حماس فلسطین پر قابض دشمن کے خلاف مسلح جدو جہد سمیت تمام وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے پرعزم ہے۔ وہ اس لیے بھی عالمی قوانین مظلوم اقوام کو قابض اور غاصب طاقتوں کے خلاف جدوجہد کا پورا پورا حق دیتا ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...