تیران اور صنافیر جزائر سعودی عرب کو دیے جائیں، مصری عدالت کا فیصلہ

تیران اور صنافیر جزائر سعودی عرب کو دیے جائیں، مصری عدالت کا فیصلہ

  



قاہرہ(این این آئی)ایک مصری عدالت نے بحیرہ احمر کے دو اسٹریٹیجک جزائر تیران اور صنافیر سعودی عرب کو دینے کے ایک متنازعہ سمجھوتے کو عملی شکل دینے کی منظوری دے دی ۔مصر کے سرکاری ٹیلی وڑن نے بتایا کہ دارالحکومت قاہرہ کی فوری امور کی ایک عدالت نے اپنے فیصلے کے ذریعے جنوری میں سامنے آنے والے اْس عدالتی فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس میں ان دونوں جزائر کو سعودی عرب کے حوالے کیے جانے کی مخالفت کی گئی تھی۔یہ عدالتی فیصلہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب قاہرہ اور ریاض حکومتیں کئی مہینوں کے سرد مہری سے عبارت تعلقات کے بعد ایک بار پھر مصالحت کی جانب بڑھتی دکھائی دیتی ہیں۔ ابھی گزشتہ بدھ کو ہی مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے اْردن میں منعقد ہونے والی عرب لیگ کی سربراہ کانفرنس کے موقع پر آپس میں ملاقات کی تھی۔مصر نے اپریل 2016ء میں سعودی عرب کے ساتھ ایک سرحدی سمجھوتے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت خلیج عقبہ کے آغاز پر واقع یہ دونوں غیر آباد جزائر ریاض حکومت کے کنٹرول میں دیے جانا تھے۔

مزید : عالمی منظر


loading...