کہانی بھٹو کی

کہانی بھٹو کی
 کہانی بھٹو کی

  


پیپلزپارٹی کے بانی بھٹو مرحوم کی شخصیت کا معاملہ بہت عجیب ہے، بعض لوگ ان کے نام پر جان دیتے ہیں تو بعض لوگ ان کے نام پر کسی کی بھی جان لینے پر تل جاتے ہیں۔ بھٹو ایک بہت بڑے جاگیردار کے بیٹے تھے، مگر ساتھ ہی غریب ماں کے بیٹے بھی تھے۔ جب ان کے اندر غریب ماں کی محبت جاگتی تو وہ ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کی بات کرتے تھے، مگر جب ان کے اندر جاگیردار جاگتا تو وہ ہر شے ’’قومی تحویل‘‘ میں لیتے ہوئے، اچھے بھلے کھاتے پیتے گھرانوں کو ’’فقیر‘‘ بنانے پر تُل جاتے تھے۔ بھٹو مرحوم کے والد پرانے سیاستدان تھے، اپنے دور میں وہ اعلیٰ عہدے پر بھی رہے اور سیاسی طور پر بہت طاقت ور سمجھے جاتے تھے۔ بھٹو کے والد اپنے بیٹے کو اعلیٰ پائے کا قانون دان چاہتے تھے ،پھر قانون کی اعلیٰ ڈگری کے حصول کے لئے انہیں لندن بھیج دیا۔ بھٹو مرحوم قانون کی ڈگری لینے کے باوجود سیاستدان بننا چاہتے تھے۔ ذہین آدمی تھے اور جانتے تھے کہ بطور قانون دان وہ زیادہ سے زیادہ جج بن جائیں گے، مگر وہ جج بننے کے بجائے جج لگانے والے بننا چاہتے تھے، سو انہوں نے اپنی حقیقی سیاست کا آغاز جنرل ایوب خان کے ساتھ کیا۔ جنرل ایوب خان بھٹو مرحوم کو پیار سے ’’زلفی‘‘ کہتے تھے، جبکہ بھٹو مرحوم جواباً جنرل ایوب خان کو ’’بابا جانی، یعنی ڈیڈی‘‘ کہا کرتے تھے۔ ایوب خان جنرل تھے مگربطور صدر پاکستان عوامی سطح پر خود کو قبول کرانے کے لئے کوشش کر رہے تھے۔ سو وہ جانتے تھے کہ بھٹو کے اندر ایسا ’’فن‘‘ موجود ہے ، جس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، مگر وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ بھٹو سے فائدہ اٹھانے کے بعد ایک دن اسی بھٹو کے ہاتھوں نقصان بھی ان کی تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے۔

بھٹو کے بارے میں قدرت اللہ شہاب نے لکھا ہے کہ ایک دن جنرل ایوب خان نے انہیں کہا کہ ’’ذرا خیال رکھنا زلفی نام کا ایک نوجوان آئے گا، اسے مجھ سے ملوانا‘‘۔۔۔ بقول قدرت اللہ شہاب یہ نام ان کے لئے نیا تھا، وہ اسی سوچ میں تھے کہ یہ کون ہے؟ تو کچھ دیر بعد ایک خوبصورت نوجوان میرے آفس میں داخل ہوا۔نوجوان نے آگے بڑھ کے ہاتھ ملاتے ہوئے کیا : ’’مَیں ذولفقار علی بھٹو ہوں‘‘ ۔۔۔بقول قدرت اللہ شہاب یہ وہی تھے جسے جنرل ایوب خان نے ’’زلفی‘‘ کہا تھا، پھر اس کے بعد پورے ایوان صدر میں بھٹو، بھٹو یا زلفی زلفی ہونے لگی۔ بقول قدرت اللہ شہاب ایک دن بھٹو مرحوم جنرل ایوب خان کی کرسی پر بیٹھ گئے اور مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا : ’’مسٹر شہاب صاحب‘‘ آپ دیکھیں گے کہ ایک دن مَیں اس کرسی پر بیٹھوں گا۔ زلفی کی یہ بات سن کے مجھے بہت حیرانی ہوئی، مگر اس نے چند سال بعد اپنی بات سچ کر دکھائی۔ قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ بھٹو مرحوم ان کے اچھے دوست تھے، مگر اچانک خفا ہو گئے ،لیکن؟ خوبی کی بات یہ ہے کہ جب وہ ’’زلفی‘‘ تھے، تب بھی مجھے ’’مسٹر شہاب صاحب‘‘ بلاتے تھے اور جب وہ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو تھے تب بھی مجھے ’’مسٹر شہاب صاحب‘‘ ہی کہتے تھے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں حقیقی معنوں میں اگر عوام کے اندر سیاسی شعور پیدا ہوا ہے تو اس کا کریڈٹ بھٹو مرحوم کو دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے ہی ملک میں عوامی سیاست کو رواج دیا، مگر اس کی ابتدا اپنے ڈیڈی، محسن یا آمر جنرل ایوب خان کو رسوا کرکے کی۔ بھٹو جو جنرل ایوب خان کے ’’بازو‘‘ تھے، وقت آنے پر ایک ’’شہباز‘‘ کی طرح جنرل ایوب خان پر جھپٹے اور انہیں زخمی کر دیا اور دیکھنے والوں نے دیکھا کہ فیلڈ مارشل، مرد آہن، جنرل نے اشکبار آنکھوں سے اقتدار سے رخصت ہونے کے بعد باقی زندگی ایک کمرے میں گزار دی۔ بھٹو کی یہ پہلی سیاسی اڑان تھی۔ دوسری اڑان وہ تھی جب انہوں نے بعض فوجی غلطیوں اور ناکامیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سیاسی چالوں سے خود کو سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے عہدے پر پہنچا دیا۔ پاکستان اب بنگلہ دیش اور پاکستان کے نام سے تقسیم ہو چکا تھا۔ یہ وقت بھٹو مرحوم کے عروج کا تھا۔ ان کے سیاسی مخالفین تو موجود تھے، مگر بھٹو بہت مضبوط تھے، سو انہوں نے جہاں اور بہت سے الزام اپنے سرلئے، وہاں بطور قاتل بھی ان کا نام سامنے آیا۔

بھٹو نے ملک کے مفاد میں بھی بہت سے کام کئے۔ سیاسی، سماجی، معاشی ترقی کے بہت سے منصوبے قوم کو دیئے آج جو ہم ایٹمی قوت ہیں تو اس کی بنیاد کا کریڈٹ بھٹو کو جاتا ہے۔ دنیا میں ایک مسلم بلاک، مسلم بینک بنانے کے لئے بھی انہوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ بھٹو مرحوم کے بارے میں قوم یہ فیصلہ نہیں کر سکی کہ وہ ایک مثبت شخصیت تھے یا منفی؟ مگر یہ بات طے ہے کہ بابائے قوم کے بعد وہ اس ملک کی بہت بڑی عوامی شخضیت تھے اور اب بھی ہیں، مگر بدقسمتی سے اب ان کی پارٹی نظر نہیں آتی، بے نظیر بھٹو نے اپنے والد کے نام اور پارٹی کو کسی حد تک زندہ رکھا، مگر اب بھٹو کے داماد سابق صدر آصف علی زرداری نے ایک بے مثال سیاسی لیڈر اور طاقت ور پارٹی کو اپنی ’’مٹھی‘‘ میں قید کر رکھا ہے۔ میرا خیال ہے کہ جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کو ’’مارنے‘‘ کے بعد اسے ’’زندہ‘‘ کر دیا تھا، مگر اب آصف علی زرداری نے آہستہ آہستہ بھٹو کو ’’مارنا‘‘ شروع کر دیا ہے، اور اب ’’بھٹو دے نعرے وجن گے‘‘ کے نعرے کی جگہ ’’ایک زرداری سب پہ بھاری‘‘۔۔۔ ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کی جگہ ’’شرجیل، عاصم، ایان‘‘ کے نعرے لگتے ہیں۔ پیپلزپارٹی اب ’’زرداری پارٹی‘‘ بن چکی ہے۔ پہلے جہاں بھٹو کی تصویر ہوتی تھی، اب وہاں زرداری کی نظرآتی ہے اور بھٹو ازم دم توڑتا نظر آتا ہے، مگر بھٹو اس حوالے سے زندہ رہے گا کہ اس نے سیاست میں جتنا وقت گزارا، اپنے منفرد انداز کے ساتھ لوگوں کے درمیان موجود رہا۔ افسوس اس وقت بھٹو کا مزار تو موجود ہے، مگر اس کے ’’مجاور‘‘ اب مزار سے زیادہ اپنے ’’کاروبار‘‘ میں لگے ہوئے ہیں۔ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے، آمین!

مزید : کالم


loading...