سب سے بڑے پن بجلی گھر کی تعمیر کا آغاز

سب سے بڑے پن بجلی گھر کی تعمیر کا آغاز

پاکستان میں سب سے بڑے پن بجلی گھر سوکی کناری کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا ہے یہ منصوبہ پاک چین اقتصادی راہداری کے اولین منصوبوں میں شامل ہے منصوبے پر ایک ارب 96کروڑ 20لاکھ ڈالر لاگت آئیگی آغاز صوبہ خیبرپختونخوا کی وادی کاغان میں کیا گیا یہ منصوبہ چار مرحلوں میں مکمل ہو گا ان مراحل میں سرمایہ کاری، تعمیر، آپریشنز اور منتقلی شامل ہیں ۔ بجلی گھر میں چار امپیکٹ یونٹ نصب کئے جائیں گے اور تعمیر کا دورانیہ چھ سال ہو گا اس منصوبے کی تعمیر سے مقامی لوگوں کو ملازمت کے چار ہزار مواقع بھی میسر آئیں گے اور پاکستان میں توانائی کی کمی روزگار میں اضافے اور سماجی و معاشی ترقی میں مدد ملے گی۔

پاکستان اس وقت توانائی کے شدید بحران کا شکار ہے موسم گرما شروع ہوتے ہی اچانک بجلی کے شارٹ فال میں اضافہ ہو گیا ہے نتیجے کے طور پر اس کمی کو لوڈشیڈنگ کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے ان مہینوں میں گرمی کی اتنی زیادہ شدت سات سال کے بعد پہلی مرتبہ ہوئی ہے اس لئے بجلی کی ضرورت یک دم بڑھ گئی ہے۔ دریاؤں میں پانی کی کمی ہے اور دوسرے ذرائع سے بھی پوری بجلی دستیاب نہیں۔بجلی کا جو بحران جاری ہے یہ دوچار برس میں پیدا نہیں ہو گیا بلکہ اسے عشروں کی بے تدبیری اور غلط منصوبہ بندی کا شاہکار قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایک زمانے میں بجلی اتنی وافر تھی کہ ریلوے انجن بجلی کے ذریعے چلانے کے منصوبے بنائے گئے اس فیصلے کے پس منظر میں یہ تصور کار فرما تھا کہ ڈیزل اور توانائی کے دوسرے ذرائع زیادہ تر درآمدی ہیں جبکہ بجلی مقامی پیداوار ہے، اس لئے درآمدی ذرائع پر انحصار ختم کرکے مقامی پیداوار سے معیشت کا پہیہ چلایا جائے۔ اس زمانے میں تیل کی مقامی پیداوار برائے نام تھی اور تمام تر انحصار درآمدی ایندھن پر تھا بجلی زیادہ تر پانی سے پیدا ہوتی تھی جو نہ صرف توانائی کے دوسرے ذرائع کے مقابلے میں سستی ترین تھی بلکہ آج بھی یہی کیفیت ہے اور ہائیڈل بجلی سب سے سستی ہے۔

چنانچہ یہ تصور راسخ ہوا کہ کیوں نہ ریل گاڑیاں سستی بجلی سے چلائی جائیں پہلے مرحلے کے طور پر لاہور سے خانیوال تک ریلوے ٹریک پر بجلی کی ٹرانسمیشن لائن بچھائی گئی بجلی سے چلنے والے ریلوے انجن درآمد کئے گئے اور گاڑیاں بھی چلنے لگیں لیکن دیکھتے ہی دیکھتے بجلی مہنگی ہونا شروع ہوئی، جو بجلی پانی سے بنتی تھی وہ تو بدستور سستی تھی لیکن طلب میں اضافے کی وجہ سے دوسرے ذرائع سے بھی بجلی بنانے پر انحصار کیا جانے لگا فرنس آئل وغیرہ سے جو بجلی تیار ہوتی تھی وہ بہت مہنگی تھی تاہم ایک وقت ایسا آیا جب پانی سے بجلی کم اور تھرمل وغیرہ سے بجلی زیادہ حاصل کی جانے لگی لیکن پھر بھی یہ ضرورت کے مقابلے میں کافی نہیں تھی چنانچہ کئی سال سے لوڈشیڈنگ زیادہ ہونے لگی ہے اگرچہ حکومت نے اعلان کر رکھا ہے کہ اگلے برس سے دس ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی سسٹم میں آ جائیگی تاہم وقت کے ساتھ ساتھ چونکہ طلب بھی بڑھ رہی ہے اس لئے تھرمل بجلی سے بھی ضرورت پوری نہیں ہوتی۔

تربیلا ڈیم کے بعد پاکستان میں کوئی ایسا ڈیم نہیں بنا جو بیک وقت پانی اور بجلی کی ضرورت پوری کرتا ہو۔ کالا باغ ڈیم متنازع ہو گیا اس کے بعد بھاشا ڈیم کی طرف توجہ کی گئی اگرچہ اس پر کام سست روی کے ساتھ جاری ہے زمین وغیرہ ایکوائر کی جارہی ہے تاہم تعمیراتی کام ابھی شروع ہی نہیں ہو سکا آج بھی اگر بھاشا ڈیم پر پوری رفتار سے کام شروع ہوتا ہے تو بھی تکمیل میں آٹھ دس برس کا عرصہ لگ جائیگا اس دوران لا محالہ تھرمل بجلی پر انحصار بڑھ چکا ہے جس سے ضرورت پوری نہیں ہو رہی اب یہ خوشخبری ملی ہے کہ پاکستان کے سب سے بڑے پن بجلی گھر کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا ہے جو مختلف مرحلوں میں چھ سال میں مکمل ہو گا۔ یہ منصوبہ پاک چین اقتصادی اہداری کے تحت مکمل ہو گا اور امید کی جانی چاہئے کہ تکمیل کے بعد اس سے بجلی کی ضرورت کما حقہ پوری ہو گی۔ پن بجلی کے جو دوسرے چھوٹے بڑے منصوبے شروع ہیں، ان کی تکمیل پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے نیلم جہلم پراجیکٹ میں پہلے ہی کافی تاخیر ہو چکی ہے اور اس تاخیر کی وجہ سے لاگت میں بھی ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے۔ تاہم یہ منصوبہ بھی جب مکمل ہو گا تو پاور پراجیکٹ سے بجلی ٹرانسمیشن سسٹم تک پہنچانے کے لئے ٹرانسمشن لائنوں کی تنصیب کی بھی ضرورت ہو گی اس لئے کوشش یہ ہونی چاہئے کہ دونوں کام متوازی طور پر شروع کر دیئے جائیں تاکہ جونہی نیلم جہلم پاور پراجیکٹ مکمل ہو تو اس سے پیدا ہونے والی بجلی کی ترسیل کے لئے ٹرانسمیشن لائنیں بھی ساتھ ہی ساتھ تعمیر کر لی جائیں۔ تاکہ نیلم جہلم پراجیکٹ سے حاصل شدہ بجلی فوری طور پر نیشنل گرڈ میں شامل ہو جائے۔

تھرمل بجلی کے جو منصوبے مختلف مقامات پر شروع کئے گئے ہیں ان میں سے پنجاب میں دو منصوبے ایسے ہیں جہاں سے 1320میگاواٹ بجلی حاصل ہو گی یہ منصوبے بھی اگرچہ تھرمل ہیں تاہم ان میں استعمال ہونے والا ایندھن(کوئلہ) فرنس آئل کی نسبت سستا ہے البتہ ایسے منصوبے ہمیں پن بجلی اور پانی کے بڑے ڈیموں سے بے نیاز نہیں کرتے کیونکہ ہمیں زراعت کے لئے جو پانی درکار ہے وہ بھی بڑے ڈیموں ہی سے حاصل ہو گا اس لئے ہمیں پالیسی کے تحت تدریجاً بڑے ڈیم بنانے کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔ بھاشا ڈیم کم سے کم وقت میں مکمل کرنے کی ضرورت ہے اور دوسرے مقامات پر جہاں جہاں ڈیم بن سکتے ہیں اس جانب فنڈز منتقل کرنے کی ضرورت ہے۔ تھرمل بجلی پر طویل عرصے کے لئے انحصار نہیں کیا جا سکتا ہم جتنی جلدی پن بجلی کے شعبے میں خود کفیل ہو جائیں ملکی معیشت کے لئے اتنا ہی بہتر ہو گا جن حکومتوں نے تھرمل بجلی پر انحصار بڑھایا انہوں نے ملکی معیشت کے لئے کوئی اچھا فیصلہ نہیں کیا اور اگر کبھی اس معاملے میں سود و زیاں کا حساب کیا گیا تو خسارے کا پلڑا بہت جھکا ہوا نظر آئیگا افسوس ہمیں اس خسارے کا زیادہ احساس و ادراک نہیں ہے اور حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتیں بھی اس ضمن میں ٹھوس تجاویز کے ساتھ سامنے آنے کی بجائے بے معنی مہم جوئیوں میں الجھی ہوئی ہیں۔

مزید : اداریہ


loading...