بیس افراد ضعیف الاعتقادی کی نذر

بیس افراد ضعیف الاعتقادی کی نذر

سرگودھا کے نواحی چک 96 میں جو بہیمانہ واردات ہوئی اس سے یہ پھر ثابت ہوا کہ اکیسویں صدی کے اس جدید دور میں بھی ضعیف الاعتقادی اور جہل کے باعث معاشرے میں برائیاں موجود ہی نہیں پھلتی پھولتی بھی ہیں، یہ سانحہ جس میں چار خواتین سمیت 20 افردا قتل کر دیئے گئے ہیں اس کا واضح ثبوت ہے اور اس حوالے سے ادیب اور صحافی جو کچھ بھی لکھتے چلے آ رہے ہیں وہ افسانہ نہیں حقیقت پر مبنی واقعات ہوتے ہیں، اس واردات میں جس کا انکشاف چند بچ جانے والے افراد کی وجہ سے ہوا، ڈنڈے اور خنجر استعمال کئے گئے اور ملزم مقتولین کو مارتے ہوئے خدائی دعویٰ بھی کرتا رہا،یہ بدعقیدگی کا ایک بہت بڑا مظہر ہے کہ بچ جانے والوں کے مطابق ملزم متولی گناہ جھاڑنے (ختم کرنے) کے لئے مریدین کو ننگا نچاتا اور ان پر ڈنڈوں سے تشدد کرتا، گالیاں بکتا اور تھپڑ بھی مارتا تھا۔اس بہیمانہ واردات کی وجہ بھی گدی کا تنازعہ بتائی جا رہی ہے او راب مرکزی ملزم عبدالوحید کا کہنا ہے کہ اس کے اپنے پیر کا بیٹا اسے قتل کرانا چاہتا تھا اور اس نے حفظ ماتقدم کے طورپر ان سب کو نشہ آور چیز کھلا کر قتل کر دیا، واقعات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ پوری واردات دو روز میں مکمل ہوئی اور بعض مقتولین کے اعضا بھی کاٹے گئے اور مبینہ جعلی پیر یہ کہتا رہا کہ وہ سب کو زندہ کر دے گا۔ واردات کی تفتیش کے لئے مشترکہ تفتیشی ٹیم بنا دی گئی ملزم اور اس کے ساتھی گرفتار کر لئے گئے۔

یہ قانونی کارروائی اپنی جگہ، لیکن ایسی خوفناک واردات اذہان پر بھی پتھر برساتی ہے کہ مقتولین میں پڑھے لکھے لوگ بھی شامل ہیں جو ضعیف الاعتقادی کا شکار رہے۔ ایسی تعلیم کا کیا فائدہ جو علم کی روشنی نہ دے سکے۔ یہ تو ایک بڑی اور کھلی واردات ہوئی جس نے سنسنی پھیلا دی تاہم یہ حقیقت ہے کہ ایسے پاکھنڈ بہت پھیلے ہوئے ہیں اور لوگ اپنے ضرورتوں اور مجبوریوں کے تحت پھنس کر لٹتے رہتے ہیں۔ خواتین کی بے حرمتی تو عام ہے جو غیرت اور شرم کے مارے بتاتی بھی نہیں اور بعض خودکشی تک کر لیتی رہیں۔بلاشبہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس ملک میں ایسی جاہلیت اور اس کی بنا پر جرائم کی اجازت ہونا چاہیے۔ کیا ہمارے علماء کرام کا یہ فرض نہیں کہ وہ ایک دوسرے کے مسلک پر حملہ کرنے اور عقائد کی بنا پر فتوے جاری کرنے کی بجائے ایسی توہمات اور جہالت کو ختم کرنے کے لئے تبلیغ کریں اور جعلسازوں سے قوم کو بچائیں، اس سلسلے میں حکومت پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔کئی بار انتظامیہ کی طرف سے جعلی پیروں کے خلاف کریک ڈاؤن اور کارروائی کے اعلانات کئے گئے لیکن عمل نہیں ہو سکا، کیا اس واردات کے بعد بھی کوئی گنجائش باقی ہے۔ حکومت کو انتہائی سختی کے ساتھ ایسے جعلی پیروں کا خاتمہ کرنا چاہیے۔

مزید : اداریہ


loading...