تابعدار آئی جی کی محتاج جمہوریت

تابعدار آئی جی کی محتاج جمہوریت
 تابعدار آئی جی کی محتاج جمہوریت

  


پاکستان میں پولیس کے ذریعے حکومت کرنا ہی سب سے بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔ اسی لئے تمام حکمران ماضی و حال میں پولیس کے گھوڑے پر کاٹھی ڈالنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ سندھ میں قانون پر چلنے والے ایک اتھرے آئی جی کو نکال باہر کیا گیا ہے۔ ایسا پہلے بھی کیا گیا تھا، مگر سندھ ہائیکورٹ کی مداخلت کے باعث اے ڈی خواجہ پھر اپنے منصب پر آ بیٹھے تھے۔ ہائیکورٹ کے حکم امتناعی کو تو سندھ حکومت ختم نہ کرا سکی اور عالمِ بے قراری میں انہیں پھر فراغت نامہ پکڑا دیا گیا، جسے انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ اب عملاً صورتِ حال یہ ہے کہ سندھ میں دو آئی جیز موجود ہیں۔ ایک اے ڈی خواجہ اور دوسرے سندھ حکومت کے نئے مقرر کردہ قائم مقام آئی جی سردار عبدالمجید دستی۔ وفاقی حکومت نے آئی جی کی تبدیلی کو یکطرفہ قراردے کر رد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ آئی جی مقرر کرنا وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔ یادرہے کہ سندھ حکومت نے اے ڈی خواجہ کی جگہ تقرری کے لئے تین پولیس افسروں کے نام وفاقی حکومت کو بھیجے تھے، جو تینوں اسٹیبلشمنٹ کے مختلف اعتراضات کے باعث واپس بھیج دیئے گئے۔ سندھ حکومت نے آؤ دیکھا نہ تاؤ جھٹ پٹ ایک نیا آئی جی مقرر کیا اور اے ڈی خواجہ کی چھٹی کرا دی، انہیں ہٹانے کے خلاف ہائی کورٹ کا حکم امتناعی موجود ہے۔ اس لئے انہوں نے بے چارج چھوڑنے سے انکار کر دیا، تاہم انہیں بے اختیار کر دیا گیا ہے اور پولیس پر حکم نئے آئی جی کا چل رہا ہے۔ سنا ہے کہ اس مسئلے پر وفاقی اور صوبائی حکومت میں شدید ٹھن گئی ہے اور محاذ آرائی کی سی صورت حال جنم لے چکی ہے۔

یہاں تک جو کچھ آپ نے پڑھا ہے، اس سے اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ہے اور آئین و قانون کی حکمرانی کے تحت مملکت کو چلایا جا رہا ہے تو مجھے آپ پر ترس آئے گا۔ ایسی باتوں سے تو یہ تلخ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت پولیس کے ذریعے حکومت کرنے کا نام ہے۔ پولیس کا آئی جی تمام عہدوں پر بھاری نظر آتا ہے۔ وفاق اور صوبے میں اس کی تعیناتی کے لئے جنگ چھڑ جاتی ہے اور دونوں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ بندہ اس کے اشاروں پر چلے۔ اگر آئی جی کو قانون قاعدے کے مطابق کام کرنے کی اجازت دینے کا رویہ ہو تو پھر اسی قسم کی محاذ آرائی کا کوئی جواز ہی نہ رہے، مگر معاملہ تو اس سے بہت آگے کا ہے۔ اگلے سال انتخابات بھی آ رہے ہیں اور موجودہ حالات میں سندھ کے شہروں اور دیہاتوں میں پولیس کے ذریعے دھاک بھی بٹھانی ہے، تاکہ کمی کمین باریوں اور غریبوں کو یہ احساس دلایا جا سکے کہ ان کے ووٹ پر اس کا حق ہے جس کے پاس پولیس کی طاقت ہے۔ جہاں ایم این اے اور ایم پی اے کی سیاست پولیس کے بغیر پولیو زدہ ہو جاتی ہو، وہاں ایک آئی جی کو کیسے یا اختیار و بے لگام چھوڑا جا سکتا ہے۔ مجھے نہیں معلوم اے ڈی خواجہ کس قسم کے افسر ہیں۔ ان کی کارکردگی اور طرز و طریق سے بھی مجھے کوئی علاقہ نہیں، تاہم سندھ حکومت کا اضطراب دیکھ کر مجھے یہ ضرور لگتا ہے کہ وہ ایک اچھے افسر ہوں گے، کیونکہ بُرے افسروں کو تو ہمارے ہاں سر آنکھوں پر بٹھایا جاتا ہے۔ ابھی سپریم کورٹ نے شولڈر پروموشن کے ذریعے اپنے حق سے بڑے عہدوں پر بیٹھے ہوئے پولیس افسروں کی تنزلی کرکے یہ راز بھی فاش کر دیا ہے کہ یہاں حکومت نوازشات کرکے جن افسروں کو اگلے گریڈ کی پوسٹوں پر تعینات کئے ہوئے تھی، وہ کس طرح حکمرانوں کے جائز و ناجائز حکم مان کر ان کے احسانات کا بدلہ چکاتے ہوں گے۔ یہ کوئی مشکل سوال نہیں کہ حاکمانِ وقت افسران کی تقرری میرٹ پر کیوں نہیں کرتے؟اس کا جواب تو بہت سادہ اور عام فہم ہے کہ وہ ایسے افسروں کو آگے لاتے ہیں جو ان کے ذاتی غلام بن کر رہیں۔ میرٹ پر آیا ہوا افسر تو میرٹ پر قانون و آئین کے مطابق فیصلے کرے گا، جس پر میرٹ سے ہٹ کر کرم فرمائی کی گئی ہو گی، وہ سر نہیں اٹھا پائے گا، سو اس فارمولے کے تحت پولیس افسران تعینات کئے جاتے ہیں۔ آئی جی سے لے کر ایس ایچ او تک درجہ بہ درجہ ذاتی وفاداری کی کسوٹی پر پرکھ کر لگائے جاتے ہیں۔ اب اگر آئی جی ہی قابو میں نہ ہو، تو یہ کاروبار حکومت کیسے چل سکتا ہے؟ وہ تو میرٹ پر تقرریاں کرے گا اور اضلاع میں ایسے افسران تعینات کرے گا جو مقامی ارکانِ اسمبلی کی بجائے میرٹ پر فیصلے کرتے ہوں گے۔

اگر آپ سندھ میں آئی جی کی تقرری پر موجودہ جھگڑے کو سامنے رکھ کر خیبرپختونخوا میں آئی جی ناصر خان درانی کے دور کو دیکھیں تو خود بخود اندازہ ہو جائے گا کہ وہاں پولیس کے حالات بہتر کیسے ہوئے۔ یہ کوئی سیاسی دعویٰ نہیں تھا جو عمران خان یا پرویز خٹک اپنے جلسوں میں کرتے رہے بلکہ خود آئی جی ناصر خان درانی اس بات کی میڈیا پر آکر بار بار وضاحت کرتے رہے کہ خیبرپختونخوا میں پولیس سیاسی دباؤ سے مکمل طور پر آزاد ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا تھا کہ انہوں نے آئی جی کا عہدہ اس شرط پر قبول کیا تھا کہ ان کے اختیارات میں کوئی مداخلت نہیں کی جائے گی۔ پولیس کلچر کی تبدیلی کا وعدہ وہ خود کرتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی شرط تھی، کیونکہ اس شرط کی وجہ سے نہ صرف ایم این ایز اورایم پی ایز کے ناراض ہونے کا خدشہ تھا، بلکہ حکومت کی وہ دھاک بھی قائم نہیں ہو سکتی تھی جو وزیراعلیٰ سے لے کر ارکانِ اسمبلی تک پولیس کے ذریعے قائم ہوتی ہے، لیکن سب نے دیکھا کہ عمران خان نے ناصر خان درانی کی اس شرط کو منظورکر لیا۔

وہ ساڑھے تین سال تک خیبرپختونخوا کے آئی جی رہے۔ اس دوران انہوں نے جو چاہا وہی کیا۔ آج لوگ بتاتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں پولیس کا کلچر بدلا ہوا ہے۔ پولیس سیاسی دباؤ کو قبول کئے بغیر حق و انصاف کی بنیاد پر فیصلے کرتی ہیّ تھانوں کی صورتِ حال بہتر بنائی جا چکی ہے۔ جھوٹے پرچوں اور پولیس کے ٹارچر سیلوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ پولیس خوف کی علامت نہیں رہی، بلکہ تحفظ کا احساس دینے والی فورس بن چکی ہے۔ کیا سندھ میں موجودہ پولیس ڈھانچے کے ساتھ یہ سب کچھ ہو سکتا ہے،ہر گز نہیں۔ وہاں وڈیرا کلچر قدم قدم پر پولیس کی سپورٹ چاہتا ہے۔ کراچی میں تھانے بیچے جاتے ہیں اور کروڑوں روپے ان سیاسی سرپرستوں کو ملتے ہیں جو ان تھانوں میں من پسند ایس ایچ اوز لگواتے ہیں۔ آئی جی کا بعض اوقات اتنا اختیار بھی نہیں ہوتاکہ وہ کسی بدعنوان ڈی ایس پی کی جواب طلبی ہی کر سکے۔ ایس پی اور ڈی ایس پی کی تقرریوں کے لئے فہرست وزیراعلیٰ کی منظوری سے جاری کی جاتی ہے۔ آئی جی نے صرف نوٹیفکیشن جاری کرنا ہوتا ہے۔ اب آپ خدا لگتی کہیں کہ جب نچلے درجے کے پولیس افسران کو یہ معلوم ہو کہ وہ جس سیاسی آقا کی آشیرباد سے اس عہدے پر تعینات ہوئے ہیں، اس کی منظوری کے بغیر آئی جی ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکتا تو وہ ایک ڈسپلن فورس کا کارندہ کیسے بن سکے گا اور پولیس کی چین آف کمانڈ کیونکر برقرار رہے گی؟

یہ صورتِ حال پنجاب میں بھی موجود ہے۔ مشتاق احمد سکھیرا کئی برسوں سے آئی جی پنجاب چلے آ رہے ہیں، لیکن وہ 10اپریل کو ریٹائرمنٹ کے بعد درانی کی طرح یہ دعویٰ نہیں کر سکیں گے کہ بطور آئی جی انہیں مکمل اختیارات حاصل تھے۔ کسی ضلع کا ڈی پی او یا کسی ڈویژن کا آر پی او تعینات کرنا ان کے اختیارات سے قطعی باہر تھا۔ یہ کام وزیراعلیٰ شہبازشریف کرتے تھے اور آئی جی کی سفارشات کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ پنجاب میں چیف سیکرٹری یا آئی جی کے بس کا روگ نہیں کہ وہ اضلاع یا ڈویژنوں میں میرٹ پر افسران تعینات کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں حکمرانی کا ون مین شو چل رہا ہے۔ جب تک وزیراعلیٰ شہباز شریف کسی معاملے کا نوٹس نہ لیں انتظامیہ اورپولیس ٹس سے مس نہیں ہوتی۔ کوئی ایسا خودکار نظام نہیں ہے جو ایک گڈ گورننس کا تاثر پیدا کر سکے۔ اب تو وفاق اور پنجاب میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے، مگر جن دنوں پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومتیں ہوا کرتی تھیں۔ آئی جی کی تقرری یہاں بھی ایک بڑے تنازعے کی شکل اختیار کر لیتی تھی۔ سو یہ مرض آج کا نہیں بہت پرانا ہے۔ ڈنڈے کے ذریعے حکومت کرنے کے خواہشمند اپنی پسند کا اور فرماں بردار آئی جی ضرور چاہتے ہیں، جہاں عوامی خدمت کی بجائے حکومت کو کرپشن، اقربا پروری، عوام کو غلام رکھتے اور انہیں خوف میں مبتلا رکھ کر اپنی حکمرانی کا احساس دلانے کی روایت موجود ہو، وہاں وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کی بجائے آئی جی کا عہدہ اہمیت اختیارکر جاتا ہے۔ سندھ میں پہلے ہی رینجرز نے سندھ حکومت کو بے اختیار کیا ہوا ہے، اب اگر آئی جی بھی ان کی ہدایات پر چلنے کی بجائے میرٹ پر چلنے لگے تو پھر اس جمہوریت کی طرف کون دیکھے گا، جس کا وجود ایک تابعدار آئی جی کے سہارے کھڑا ہے۔

مزید : کالم


loading...