پاکستان نے افغانستان میں امن کیلئے 5نکاتی فارمولہ پیش کر دیا

پاکستان نے افغانستان میں امن کیلئے 5نکاتی فارمولہ پیش کر دیا

واشنگٹن(اے این این )پاکستان نے افغانستان میں امن کیلئے پانچ نکاتی فارمولہ پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ افغان مہاجرین کی واپسی اور افغان سرزمین کا پاکستان کیخلاف عدم استعمال یقینی بنایا جائے،افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ،مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانا ہوگا،پاک افغان تعلقات کا فروغ اور بہتر بارڈر مینجمنٹ ناگزیر ہے،افغان حکومت اپنے مسائل کا الزام پاکستان پر لگانا بند کرے ۔ ان خیالا ت کا اظہار امریکہ میں پاکستان کے سفیر اعزاز احمد چوہدری نے امن سے متعلق امریکی تھنک ٹینک سے خطاب میں کیا۔انہوں نے افغان امن میں پاکستان کے کردار اور کا وشوں کا حوالہ دیا اور وہاں قیام امن کیلئے پانچ نکاتی فارمولہ پیش کرتے ہوئے کہا جہاں ٹرمپ انتظامیہ پاک افغان خطے کی پالیسی پر نظرثانی میں مصروف ہے، وہیں پاکستان کو مثبت اشارہ دیکھنے کو ملتا ہے،انکے پیش کردہ فارمولے میں شامل پانچ نکات میں غیر فوجی حل، پاکستان و افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات، بہتر بارڈر مینجمنٹ کا نظام، افغان مہاجرین کی واپسی اور مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانا شامل ہے، سب کو یہ سمجھنا ہوگا یہ معاملہ صرف مذاکرات سے حل کیا جاسکتا ہے، جنگ اسکا حل نہیں، پاکستان اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ پاکستان کا امن افغانستان کے امن سے وابستہ ہے اور وہاں قیام امن کیلئے پاکستان نے موثر اقدامات اٹھائے ہیں جن میں بارڈر مینجمنٹ بھی شامل ہیں تاہم افغان حکومت کو بھی الزام تراشی سے نکل کر عملی اقدامات کی طرف آنا ہو گا۔ افغان حکومت کو چاہیے وہ اپنے مسائل کا الزام پاکستان پر لگانا بند کرے،کابل یہ الزام عائد کرتا ہے کہ پاکستان، طالبان کو افغانستان میں داخل ہونے کی اجازت دیتا ہے جبکہ پاکستان کی شکایات بھی کچھ ایسی ہی ہیں، سرحد پر منظم انتظام ان الزامات اور جوابی الزامات کے سلسلے کو ختم کرسکتا ہے۔ افغانستان میں امن کیلئے کوشاں چار فریقی گروپ کے ذریعے ان مقاصد کو حاصل نہیں کیا جاسکا، تاہم مفاہمتی عمل کو جاری رہنا چاہیے ۔واضح رہے افغانستان کی صورتحال پر امریکہ کی نئی حکومت بھی تشویش کا اظہار کر چکی ہے ۔ حال ہی امریکی محکمہ دفاع (پینٹا گان) کے مطابق 01ء سے اب تک افغانستان میں 2ہزار 248امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں اور یہ اعدادو شمار ٹرمپ انتظامیہ کی تشویش کا باعث ہیں کیونکہ وہ امریکی نقصان کو کم اور پاک افغان خطے کی پالیسی پر نظرثانی میں مصروف ہے،جبکہ امریکہ کے نئے سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن واضح کرچکے ہیں افغان حکومت و طالبان کے درمیان مفاہمت انکا بنیادی مقصد ہے،اس صورتحال کو سفارتی مبصرین پاکستان کیلئے ایک 'اچھے موقع' کے طور پر دیکھتے ہیں کیونکہ پاکستان افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مفاہمتی عمل تیز کرنے میں اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔

پاکستان فارمولا

مزید : صفحہ اول


loading...