ایل او سی کی قریبی آبادی پر گولہ باری ، پاک فو ج کا منہ توڑ جواب ، دشمن کی توپیں خاموش

ایل او سی کی قریبی آبادی پر گولہ باری ، پاک فو ج کا منہ توڑ جواب ، دشمن کی ...

مظفر آباد(آن لائن)بھارتی فوج کا جنگی جنون تھم نہ سکا ، لائن آف کنٹرول کے قریب سول آبادی پر گولہ باری کردی ، بھارتی فوج کی جانب سے بھاری توپ خانے کا استعمال کیا گیا جبکہ پاک فوج کی منہ توڑ جوابی کارروائی نے دشمنوں کی توپوں کو خاموش کرادیا۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی فورسز نے پونچھ سیکٹر میں پولس گاؤں سمیت ککوٹہ اور چفار کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا، بھارتی فوج کی طرف سے بڑے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا لیکن ابھی تک کسی جانی ومالی نقصان کی کوئی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ۔دوسری جانب3روز قبل بھارتی افواج کی فائرنگ سے زخمی ہونے والا شہری شہید ہوگیا،عتیق قریشی راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں زیرعلاج تھاجہاں آج وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔واضح رہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بانڈری پر گزشتہ سال سے مسلسل اشتعال انگیزی کی وجہ سے اب تک کئی عام شہری شہید جب کہ درجنوں زخمی ہوچکے ہیں۔

ایل اوسی/بھارتی گولہ باری

اسلام آباد(این این آئی)پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کر کے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی بھارتی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے زور دیا ہے کہ بھارت سیز فائر کی پوری طرح پابندی کرے اور لائن آف کنٹرول پر امن قائم رکھے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کی طرف پیر کو جاری بیان کے مطابق وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیاء و سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ کو دفتر خارجہ طلب کیا اور بھارتی قابض افواج کی جانب سے یکم اپریل کو لائن آف کنٹرول پر چری کوٹ سیکٹر میں سیز فائر کی خلاف ورزی اور بلا اشتعال فائرنگ کی مذمت کی جس کے نتیجے میں 18 سالہ محمد عتیق قریشی شہید ہو گیا ۔ انہوں نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر پر واضح کیا کہ شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا قابل مذمت اور انسانی وقار کے منافی ہے اور یہ بین الاقوامی انسانی قوانین کے خلاف ہے ۔ ڈائریکٹر جنرل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر پر زور دیا کہ وہ 2003 ء کے سیز فائر معاہدے کی پابندی کی جائے حالیہ واقعہ سمیت ایسے تمام واقعات کی تحقیقات کی جائیں اور بھارتی افواج کو ہدایت کی جائے کہ وہ سیز فائر کا پوری طرح احترام کرے اور لائن آف کنٹرول پر امن قائم رکھے۔

دفتر خارجہ طلبی

مزید : صفحہ اول


loading...