فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ مجبوری میں کیا ،الیکشن وقت مقرر پر ہی ہونگے :ایاز صادق

فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ مجبوری میں کیا ،الیکشن وقت مقرر پر ہی ہونگے ...

لاہور (اے این این)سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے تمام سیاسی جماعتوں نے فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ مجبوری میں کیا ہے ،حکومت کوشش کریگی آئندہ چند ماہ کے دوران ملک میں ایسے حالات بنائے جائیں کہ گواہ بے خوف گواہی اور ججز بے خوف وخطرفیصلے کر سکیں اور آئندہ یہ نوبت نہ آئے، عمران خان کی آرمی چیف سے ملاقات کی تفصیلات ہیں مگر بتاؤں گا نہیں،آرمی چیف سے کوئی بھی مل سکتا ہے اس میں کوئی رکاوٹ نہیں، کیونکہ پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے ایک دوسرے سے ملنا چاہیے، ہمیں نکتہ چینی کے بجائے ایک دوسرے پر اعتماد کرنا چاہیے ،تاہم جن لوگوں نے فوج کے پرانے سربراہ اورفوج کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی انہیں یہ کام نہیں کرنا چاہیے تھا،وزیر اعظم کہہ چکے ہیں وہ عدلیہ کا احترام کرتے ہیں اور پاناما کیس میں عدالتی فیصلہ مانیں گے۔گزشتہ روز میڈیا سے بات چیت میں انکا مزید کہنا تھا اقتصادی راہداری پاکستان کیلئے بہت مفید ہے، اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری ملک میں آرہی ہے، ہم اسپیشل و صنعتی زونز میں صنعتیں لگانے والوں کو بھر پور مراعات دیں گے۔تمام اداروں کو اپنے آئینی دائرہ کار کے اندر رہ کر کام کرنا چاہیے۔ پانامہ کیس کا فیصلہ کب آتا ہے یہ سپر یم کورٹ کو ہی پتہ ہے، سب کو فیصلے کا انتظار اور عدالتوں کا احترام کرنا چاہیے ۔ ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ مکمل طور پرحل ہو جائیگا اور ماضی کے مقابلے میں آج ملک میں لوڈشیڈ نگ انتہائی کم ہے اور حکومت نے وعدہ کر رکھا ہے 18ء کے انتخابات تک لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کر دیا جائیگا۔عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔ متحرک کارکن ہمارے بازو ہیں اور اس طرح کے بازو کام کرتے رہیں تو پورے علاقہ میں کوئی بھی مسئلہ نہیں رہ سکتا جو حل نہ ہو۔ن لیگ کی حکومت بنیادی مسائل کے حل کیلئے کوشاں اور ایک ایسا پاکستان بنانے کی طرف رواں دواں ہے جس سے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہو ، جہاں دہشت گردی نہ ہو، عوام خوشحال ہوں۔ عوام جلد لوڈشیڈنگ سے چھٹکارے کی خوشخبری سنیں گے۔ ہم سب میں سیاسی شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ووٹرز کو اندازہ ہو سکے کس جما عت نے بہتر کام کیا ہے۔ کارکن اپنے ساتھ مزید دست و بازو شامل کریں تاکہ جماعت مزید مضبوط اور گلی، محلوں کے کام باآسانی حل ہو سکیں۔

مزید : صفحہ آخر


loading...