خفیہ اداروں نے پولیس افسران کے موبائل فون ریکارڈ کرنے کا سلسلہ پھر شروع کر دیا

خفیہ اداروں نے پولیس افسران کے موبائل فون ریکارڈ کرنے کا سلسلہ پھر شروع کر ...

لا ہور(رپورٹ : یو نس با ٹھ) خفیہ اداروں نے پنجاب میں پولیس افسران کے جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ تعلقات کی اطلاعات کے بعداعلیٰ حکام کی ہدایات پر ایس پی ،ڈی ایس پی ،ایس ایچ اوز اور انچارج انویسٹی گیشن سمیت فیلڈ میں کام کرنے والے تمام پولیس افسران کے موبائل فون ریکارڈ کرنے کا سلسلہ شروع کردیا ہے، فیلڈ میں کا م کر نے وا لے افسرا ن میں کھلبلی مچ گئی ۔ماضی میں موبائل ریکارڈنگ کے باعث درجنوں ایسے پولیس افسران کی نشاندہی ہوئی تھی جن کے نہ صرف جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ روابط تھے بلکہ وہ اپنا حصہ وصول کر کے ان کی باقاعدہ سرپرستی بھی کرتے تھے۔پنجا ب کے اکثر ڈی ایس پی اور ایس ایچ اوز موبائل پر بات کرنے کی بجائے سائل یا ملزم کو دفتر بلا کر بات کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ما ضی میں لا ہومیں ایک ایس پی اور چا ر ڈی ایس پی بھی اسی شکا یت پر تبد یل ہو ئے تھے جبکہ اس وقت کے ایک ڈی جی انویسٹی گیشن نے دو ڈی ایس پیز کو کر پشن کی شکا یت پر حو لا ت میں بند کر نے کیلئے اپنے دفتر بلوا یا تو وہ بھا گ گئے جبکہ حا ل ہی میں ایک انسپکٹر کو تھا نہ شفیق آبا د کی حوا لا ت میں کر پشن کی بناء پر بند کر دیا گیا ۔انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل ایس ایچ اوز اور انچارج انویسٹی گیشن سمیت فیلڈ میں کام کرنے والے پولیس افسران کے موبائل فون ریکارڈ کرنے کا سلسلہ ان کے احتجاج پرکم کر دیا گیا تھا اور صرف اُن پولیس افسران کے موبائل ریکارڈ کئے جا رہے تھے جن سے متعلق شکایات اعلیٰ حکام کو پہنچتی تھیں۔خفیہ اداروں کی طرف سے اکثر پولیس افسران کے جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ مبینہ تعلقات کی اطلاعات کے بعد اعلیٰ حکام کی ہدایت پر پنجاب کے پولیس افسران کے موبائلز کی ریکارڈنگ ایک بار پھر شروع کر دی گئی ہے جس کے بعدپولیس افسران میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ذرائع کے مطابق خفیہ اداروں اور اعلیٰ پولیس افسران کے کئی موبائل فون سمیں رکھنے کی شکایات پر ان کے گرد شکنجہ سخت کرنے کیلئے انہیں سرکاری نمبر فراہم کئے گئے تھے اور تمام پولیس افسران کو ہدایات جاری کی گئیں کہ وہ دوران ڈیوٹی صرف سرکاری نمبر استعمال کریں گے۔ ذرائع نے مزید بتایا ہے کہ بعض افسران کی جانب سے بات کرنے کے دوران مختلف اشارے یا اچانک فون بند کر دینے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے تا ہم اکثر پولیس افسران اپنے ڈرائیوریاکار خاص کے نمبربھی استعمال کر رہے ہیں۔چو ہدر ی شفیق گجر جب لاہور میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن تعینا ت تھے تو انھیں قتل کے ایک کیس میں دو ڈی ایس پیز کی کر پشن کی شکا یت مو صو ل ہو ئی جس کی مد عی پا رٹی کے پا س ریکا رڈ نگ بھی مو جو د تھی ،انھو ں نے سننے کے بعد ڈی ایس پیز کو اپنے دفتر بلوا کر گر فتا ر کر نا چا ہا تو گر فتا ری کی رپو ر ٹ ملنے پر وہ دونو ں بھا گ گئے جن کے خلا ف بعد ازا ں اینٹی کر پشن میں مقد مہ درج کروا دیا گیا ۔

مزید : صفحہ اول


loading...